اقتدار کی جنگ، پی او اے تنازع سے کھلاڑیوں کو مشکل

اسپورٹس رپورٹر  اتوار 16 جون 2013
عارف حسن گروپ کا ساتھ دیں یا پی ایس بی کی عبوری کمیٹی کی بات مانیں، ایتھلیٹس کا سوال.  فوٹو : فائل

عارف حسن گروپ کا ساتھ دیں یا پی ایس بی کی عبوری کمیٹی کی بات مانیں، ایتھلیٹس کا سوال. فوٹو : فائل

لاہور: پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے تنازع نے کھلاڑیوں کو مشکل میں ڈال دیا، جنرل(ر) عارف حسن گروپ کا ساتھ دیں یا پی ایس بی کی عبوری کمیٹی کی بات مانیں۔

اکثریت نیشنل گیمز میں شرکت کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسپورٹس پالیسی 2005 کے تحت کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداروں پر 2سے زیادہ مرتبہ انتخاب پر پابندی کے خواہاں دھڑے کا خیال ہے کہ عارف حسن کو  پی او اے کی باگ ڈور سنبھالنے کا حق حاصل نہیں، دوسرے گروپ کی نظر میں آئی او سی چارٹر کے مطابق عارف حسن کا انتخاب آئینی ہے۔دریں اثناء پاکستان اسپورٹس بورڈ نے متوازی پی او اے کی عبوری کمیٹی تشکیل دے کر نئے انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے ساتھ 28جون سے نیشنل گیمز کا انعقاد دوبارہ کروانے کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔

فریقین  کی طرف سے حریف دھڑے کا ساتھ دینے والی اسپورٹس فیڈریشنز اور کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، حال ہی میں پی او اے کے تحت صوبائی ایسوسی ایشنز کی طرف سے کھلاڑیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انھوں نے عبوری کمیٹی کے زیر انتظام نیشنل گیمز سمیت کسی بھی ایونٹ میں شرکت کی تو انھیں پابندی اور جرمانے کیلیے تیار رہنا ہوگا، اس صورتحال میں  پلیئرز سخت ذہنی کشمکش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کوئی بھی ہو ہمارے لیے  مقابلوں میں شرکت  سب سے زیادہ  اہم ہے  لیکن موجودہ حالات میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کس دھڑے کی بات مانیں، غیر یقینی صورتحال میں کئی اپنی ٹریننگ کا آغاز نہیں کرسکے، اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبوری کمیٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ قومی کھیلوں کا انعقاد شیڈول کے مطابق ہوگا، شرکت کرنے والے کسی کھلاڑی کا مستقبل تاریک ہونے کے کوئی خدشہ نہیں، عارف حسن گروپ کالعدم ہوچکا، اس کے کسی فیصلے کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں تو پابندیاں کون تسلیم کرے گا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔