مانی صاحب ہرداغ اچھا نہیں ہوتا

سلیم خالق  جمعـء 26 اکتوبر 2018
چیئرمین پی سی بی احسان مانی، فوٹو: فائل

چیئرمین پی سی بی احسان مانی، فوٹو: فائل

’’سر فلاں سابق ٹیسٹ کرکٹر آپ سے ملاقات کرنا چاہ رہے ہیں،

نئے نئے چیئرمین پی سی بی بنے ایک صاحب کی سیکریٹری نے جب انھیں یہ پیغام بھجوایا تو وہ سمجھے شاید کرکٹ کی بہتری کیلیے کوئی منصوبہ لے کر آئے ہوں گے اس لیے فوراً بلا لیا، مگر بورڈ کے ملازم اس’’عظیم کھلاڑی‘‘ نے آتے ہی کہا کہ ’’سر مجھے اتنے سال سے صرف اتنے لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے، اس میں اضافہ کریں ورنہ میرے پاس آپشنز کی کمی نہیں ہے‘‘۔

چیئرمین نے ان کی درخواست پر غور کرنے کا کہا اور جاتے ہی وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے، اسی طرح بورڈ کے ایک اورسربراہ ہوا کرتے تھے، انھوں نے ایک بار نام لے کر مجھ سے کہاکہ ’’فلاں فلاں کرکٹرز میرے آئیڈیل تھے مگر بورڈ میں آکر قریب سے دیکھا تو ان سب کا امیج چکنا چور ہوگیا، بیشتر کو صرف پیسے یا ملازمت چاہیے‘‘۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے کئی سابق اسٹارز کیلیے سب سے زیادہ اہمیت پیسے کی ہی ہے، میں مانتا ہوں کہ وہ پروفیشنل ہیں اورپیسہ کمانا ان کا حق ہے لیکن اس ملک نے ان کیلیے اتنا کچھ کیا تو جواب میں کچھ ان کا بھی تو فرض بنتا ہے کہ اسے کچھ لوٹائیں، مگر افسوس کوئی اس بارے میں نہیں سوچتا۔

آپ انھیں ملازمت دیں بورڈ کی واہ واہ شروع کر دیں گے، کوئی فائدہ نہ پہنچائیں تو میڈیا پر آکر ایسے تنقیدی نشتر برسائیں گے کہ بچنا محال ہو جائے گا، نجم سیٹھی جلد یہ بات سمجھ گئے تھے لہذا جو زیادہ سخت بولتا وہ اسے فوراً کوئی کام تھما دیتے اور منہ بند ہو جاتا، انھوں نے شعیب اختر کو جرمانہ واپس دے کر خاموش کرایا، محمد یوسف کے وکیل کی فیس کا مسئلہ حل کرایا، دیگر چند سابق اسٹارز کو بھی ملازمتیں دیں،جاتے جاتے سکندر بخت کو بھی ایشیا کپ کی ٹیکنیکل کمیٹی میں شامل کرا گئے، بس چند ہی ان کے قابو میں نہ آئے۔

مجھے سابق چیئرمین سے ایک شکایت یہ بھی تھی کہ انھوں نے داغدار ماضی کے حامل سابق کرکٹرز کو بڑے بڑے عہدوں پر بٹھایا، ملک میں ’’تبدیلی‘‘ آنے کے بعد ایسا لگا کہ اب پی سی بی میں بھی بہتری آئے گی مگر برسوں گھر بیٹھ کر تنخواہ اور دیگر مراعات سے لطف اندوز ہونے والے ذاکر خان کا وزیر اعظم عمران خان سے قربت کی بنا پر ڈائریکٹر کی پوسٹ پر واپس آنا پہلا صدمہ تھا۔

یہ کام قائم مقام چیئرمین کے دور میں ہی ہوگیا تھا لہذا احسان مانی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا لیکن اب وسیم اکرم کی کرکٹ کمیٹی میں شمولیت کا سن کر بہت حیرت ہوئی ہے، اتفاق سے وہ بھی بورڈ کے سرپرست اعلیٰ کے قریبی دوست ہیں، جسٹس (ر) قیوم کی میچ فکسنگ پر تحقیقاتی رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ وسیم اکرم کو مستقبل میں کپتانی نہ سونپی جائے، کئی برس بعد ایک انٹرویو میں جسٹس قیوم نے تسلیم کیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کیریئر کے اختتامی دنوں میں سابق کپتان کو پابندی کا شکار کریں اس لیے سخت سزا نہیں دی، وسیم اکرم بعد میں کمنٹری سمیت مختلف کام کرتے رہے اور ’’ہیرو‘‘ کا درجہ برقرار رہا۔

اس رپورٹ میں انضمام الحق کا بھی ذکر تھا وہ اب بھی چیف سلیکٹر ہیں، مشتاق احمد برسوں پی سی بی سے وابستہ رہنے کے بعد حال ہی میں مستعفیٰ ہوئے ہیں، وقار یونس کئی بار کوچ بنے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور نہ اب سیکھنے کو تیار ہیں، یقین مانیے اگر پاک بھارت تعلقات اچھے ہوتے تو وسیم اکرم اور رمیز راجہ آپ کو پاکستان میں نظر بھی نہیں آتے اور وہیں کمنٹری اور آئی پی ایل میں مصروف رہتے مگر جب وہاں لفٹ ملنا بند ہوئی تو ملک کی یاد آ گئی، آسٹریلوی شہریت کے حامل وقار یونس کو وہاں کوچنگ کی ملازمت نہ ملی تو اپنے ملک واپس آگئے، یہاں کئی برس کام کیا اب پھر واپس چلے گئے، مشتاق کی تنخواہ نہیں بڑھی تو عہدہ چھوڑ دیا، اسی طرح جاوید میانداد کیلیے سابق صدر آصف زرداری نے پی سی بی میں ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ تخلیق کرایا مگر وہ برسوں تنخواہ وصول کرنے کے بعد کوئی کام کیے بغیر چلے گئے، جاتے جاتے بھی بورڈ کی ایک قیمتی کار معمولی رقم پر انھیں دی گئی۔

نجانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بورڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ بھی کسی کو نوازنے کیلیے تخلیق کیا گیا ہے، ہم سیاستدانوں کا رونا روتے ہیں مگر بعض سابق کرکٹرز نے ملکی کرکٹ سے بھی بہت فائدہ اٹھایا ہے اور جواب میں کچھ نہیں دیا، آپ بتائیں کہ میانداد نے کیا ملک میں کوئی دوسرا میانداد بنانے کی کوشش کی، لاہورقلندرز سے50 لاکھ روپے لے کر ٹیلنٹ ہنٹ کرنے کے سوا کیا انضمام نے کوئی اپنے جیسا دوسرا بیٹسمین بنانے کیلیے اقدام کیا، ماضی میں مشروب ساز ادارے کے ’’پیڈ کیمپس‘‘ کے سوا وسیم اکرم نے کہیں اور اپنا فن منتقل کرنے کیلیے کوئی کام کیا، مشتاق احمد نے ملک کو کتنے اسپنرز تیار کر کے دیے؟ اب آپ یہ نہ کہیے گا کہ فلاں فلاں اسپنر تو اپنی کامیابی کا کریڈٹ انہی کو دیتا ہے، یہاں کوچز خود کہتے ہیں کہ کچھ کرو تو میرا نام لینا کہ مشورے دیے ہیں، وہ بیچارہ کرکٹر بھی ناراضگی کے ڈر سے ایسا کر گذرتا ہے۔

یہ سب عظیم کرکٹرز ہیں اور ان کی ملک کیلیے یقیناً بڑی خدمات بھی ہیں لیکن اب اس عمر میں مالی حوالے سے کس خوف کا شکار ہیں، ذرا اپنے بینک بیلنس ،کاروبار اور پراپرٹی دیکھیں کئی نسلیں آسانی سے زندگی گذار لیں گی، خدارا اب ملک کیلیے بھی کچھ سنجیدگی سے کرنے کا سوچیں، عمران خان کو ہی دیکھ لیں جو پُرآسائش زندگی چھوڑ کر دن رات اس کوشش میں لگے ہیں کہ کسی طرح پاکستان میں بہتری آجائے۔

مجھے حیرت محسن خان پر ہوتی ہے جو ہمیشہ ’’ داغدار ماضی کے حامل کرکٹرز کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گا‘‘ کی رٹ لگاتے رہے، وسیم اکرم کو نام لے کر انھوں نے کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا، مگر اب انہی کے ساتھ کرکٹ کمیٹی میں بطور چیئرمین شامل ہو گئے، اس کا مطلب ہے کہ عہدہ اچھا ہو تو اصول بھلائے جا سکتے ہیں۔

اسی کے ساتھ میں احسان مانی صاحب کو بھی مشورہ دینا چاہوں گا کہ جناب فیصلے سوچ سمجھ کر کریں، صرف نام پر نہ جائیں،ہر داغ اچھا نہیں ہوتا، اچھی ٹیم بنائیں ورنہ کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔