خلاؤں میں جھانکنے والی سب سے بڑی آنکھ

محمد کریم احمد  اتوار 28 اکتوبر 2018
دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی اسکوپ کی ڈش کا حجم تیس فٹ بال گرائونڈوں کے برابرہے۔ فوٹو: فائل

دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی اسکوپ کی ڈش کا حجم تیس فٹ بال گرائونڈوں کے برابرہے۔ فوٹو: فائل

(دوسری قسط)

سفر کو و سیلہ ظفر کہا جاتا ہے۔ او ر اگر سفر میں آپ کے ہمراہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہوں تو سیکھنے کا عمل دو چند ہو جاتا ہے ۔ چینی شہر گوئی یانگ کا دورہ بھی ایک ایسا ہی موقع تھا۔ اس سفر میں افریقی (عرب و غیر عرب دونوں)، جنوبی ایشیائی ، یورپی اور چینی ثقافتوں کے مختلف رنگوں سے آ گہی کا موقع میسر آیا ۔ ہمارا یہ گروپ بیجنگ اور چین میں کا م کرنیوالے غیر ملکی اور چینی صحافیوں اور دیگر اداروں سے وابستہ افرا د پر مشتمل تھا۔ سی آر آئی کی اردو سروس، ہندی سروس، سی آر آئی آن لائن ، چائنہ ڈیلی ، چا ئنہ ڈاٹ او آر جی ڈاٹ سی این سے وابستہ چند صحافی بیجنگ سے روانہ ہوئے جبکہ کچھ وہاں پہنچ کر شریک ہوئے ۔

ان میں عمر کے اعتبار سے سے سب سے سینئر مگر جوش و جذبے سے سرشار بروس کانولی تھے جو ایک صحافی، لکھاری، براڈ کاسٹر اور بہترین فوٹو گرافر ہیں ۔ وہ تیس برس سے چین میں مقیم ہیں۔ تعارف ہونے پر معلوم ہوا کہ موصوف اسکاٹ لینڈ سے ہیںاور بطوراسکاٹش اپنی شناخت کو پسند کرتے ہیںچہ جائیکہ برطانوی کہلانا۔ لیکن وفد میں لندن کے ایک نوجوان صحافی بھی شامل تھے، دونوں کی عمروں میں فرق نمایاں تھا مگر کلچر اور زبان مشترک ہونے کے باعث دونوں میں خوب گاڑھی چھنتی تھی۔

اپنی علیحدہ شناخت پر مُصر بروس کانولی کی انگلینڈ کے صحافی سے قربت کی وجہ شایداپنے وطن سے دوری تھی، یوں ایک مختصر سفر میں انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان شناخت کی تفریق کا احساس ہوا کیونکہ ہمارے ہاں تو دونوں کو بالعموم ایک ہی ملک سمجھا جاتا ہے۔ اسی سفر میں براعظم افریقہ میں پائے جانے والے مذہبی و لسانی تنوع سے بھی براہ راست آشنائی ہو ئی۔ افریقی عرب ملک مصر سے تعلق رکھنے والے مسلم صحافی حسام المغربی اور افریقی ملک گھانا کے ایڈی ٹرکسن بھی ہم راہی تھے۔ اس کے علاوہ چین کے مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور مردصحافی بھی وفد میں شامل تھے۔

وفد کی منزل چین کے جنوب مغربی صوبے گو ئیچو کا دارالحکومت گوئی یانگ تھی ۔ گوئچو تیزی سے ترقی کی جانب رواں دواں صو بہ اور متنوع نسلی گروہوں کا مسکن ہے۔ یہ نومبر کے آخری دن تھے۔ نومبر میں سردی بیجنگ میں پورے زوروں پر ہوتی ہے مگر گوئی یانگ کا موسم بیجنگ کی نسبت قدرے گرم تھا۔ بیجنگ سے جو گرم جیکٹس ہم پہن کر نکلے تھے وہ اب بوجھ محسوس ہونے لگیں۔ موسم اور درجہ حرارت میں یہ تبدیلی گوئی یانگ کا پہلا تعارف تھا۔ لیکن بیجنگ سے ایک ہزار سات سو اکتیس کلومیٹر دور سامنے آنے والی یہ تبدیلی صرف درجہ حرارت میں فرق تک ہی محدود تھی، انفراسڑکچر، سہولیات، جدت، بلند و بالا عمارات ، سر سبز ماحول، ٹریفک قوانین کی پاسداری اور نظم و ضبط بالکل بیجنگ جیسا ہی تھا۔

ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید بیجنگ سے اتنی دور اس جنوب مغربی صوبے میں ترقی کا معیار اور پھیلاؤ دارالحکومت کی نسبت کم تر ہو گا، مگر ترقی کے جو مظاہر اور رفتار وہاں دیکھی، وہی یہان بھی تھی۔ گوئی یانگ کی بیجنگ سے دوری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چین میں چلنے والی مختلف رفتار کی ٹرینز بیجنگ سے گوئی یانگ تک کا سفر کم سے کم آ ٹھ گھنٹے چوالیس منٹ میں اور زیادہ سے زیادہ انتالیس گھنٹے اور چوبیس منٹ میں طے کرتی ہیں۔

ہاں۔۔۔ ایک اور چیز میں بھی فرق کا مشاہدہ ہوا اور وہ تھی مقامی لوگوں کی رنگت اور قد۔ بیجنگ چونکہ شمال میں ہے اور شمال میں سردی بہت پڑتی ہے اس لیے وہاں کے لوگ سرخ و سفید ہیں طویل قامت ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ قدرے مختلف پایا ۔ یہاں کے لوگوں کے قد چھوٹے اور رنگت گرم موسم کے باعث سنولائی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جسمانی خدو خال میں یہ فرق ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ گوئی یانگ چین کے ٹیکنالوجی کے حوالے سے اُبھرتے ہو ئے صف اول کے شہروں میں شامل ہے۔ یہ چین میں بِگ ڈیٹا ٹیکنالوجی کا مرکز ہے اور اس کو چین کی ڈیٹا ویلی بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں ہر سال ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک بین الاقوامی نمائش بھی منعقد ہوتی ہے۔ بِگ ڈیٹا کے بارے میں آ پ کو بتاتے چلیں کہ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا رجحان ہے۔ اس کی تعریف تو کافی تکنیکی ہے مگر عام فہم اور سادہ الفاظ میں آ پ یہ سمجھ لیں کہ اس میں کثیر مقدار میں موجود ڈیٹا اور اعداد شمارکا کمپیوٹر کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ انسانی رویوں کے مختلف رجحانات، طریقہ کار اور وا بستگیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور اس ٹیکنالوجی کو چین بھر میں اور گو ئچو میں بالخصوص استعمال کیا جا رہا ہے۔

گوئچو میں اس ٹیکنالوجی کو شعبہ تعلیم، صحت، شہریوں کے تحفظ ، غربت کے خاتمے ، موسم کے متعلق پیشگوئی اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اس کے استعمال سے کلاس رومز میں روایتی بلیک بورڈز ختم ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ ٹیبلٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اساتذہ تدریس کے لیے ٹیبلٹس اور پروجیکٹرز استعمال کرتے ہیں جبکہ طلباء بھی اپنی اسائینمنٹس ٹیبلٹ کے ذریعے مکمل کرتے ہیں اور اساتذہ ان کے کام کا فوری جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔

گوئی یانگ کی مقامی حکومت کے بگ ڈیٹا پلس ایجوکیشن پلان پراجیکٹ کے تحت آ ٹھ سکولوں کے ساٹھ کلاس رومز کو سمارٹ کلاس رومز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ گوئی یانگ کی بگ ڈیٹا سے منسلک ایک کمپنی کے سیلاب سے متعلق پیشگوئی کے حوالے سے ایجاد کردہ ایک جد ید الارم سسٹم نے سائنس و ٹیکنالوجی کا ایوارڈ بھی جیتا ہے۔ مذکورہ سسٹم بیک وقت سیلاب کے متعلق الرٹ بھی جاری کرتا ہے جبکہ پانی کے وسائل کے مناسب استعمال سے بھی آ گاہ کرتا ہے۔

یہ سسٹم ملٹی بیس ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ یہ لینڈسکیپ ، موسم کے متعلق ڈیٹا کو ریموٹ سینسنگ کے ذریعے اکٹھا کرتا ہے۔ اس سے سیلاب کے متعلق بروقت اور درست پیشگوئی ممکن ہے۔ یہ سسٹم سیلاب کی روک تھام اور پانی کو ذخیرہ کرنے والے ادارے ا ستعمال کررہے ہیں جبکہ ہائیدرو پاور اسٹیشنز پر بھی اس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

شعبہ صحت میں بھی اسی ٹیکنالوجی کو نگرانی، طبی اخراجات، ادویات کی خریداری، میڈیکل انشورنس کی ادائیگیوں اور دیگر انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بگ ڈیٹا کی مدد سے اکتیس ملین مریضوں کے متعلق معلومات اکٹھی کی گئی ہیں جبکہ دو اعشاریہ ستائیس ملین طبی نسخہ جات کا معائنہ کیا گیا ہے۔ بگ ڈیٹا ٹیکنالوجی کا طب کے شعبے میں استعمال صوبہ گوئچو کے علاوہ چین کے صوبوں شندونگ اور انہوئی میں بھی جاری ہے۔ غربت کے خاتمے میں بھی یہ ٹیکنالوجی اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ صوبہ گو ئچو میں چھ اعشاریہ سات ملین دیہی غریب آبادی کو غربت سے نکالنے میں اس ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے۔

گوئچو میں بگ ڈیٹا ٹیکنالوجی کا استعمال حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہاں پر بگ ڈیٹا تھنک ٹینک پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کو اس سے ہم آ ہنگ کرنا ہے۔ یہ گوئچو پراونشل ایڈمنسٹریشن آف بگ ڈیٹا ڈیویلپمنٹ اور چائنہ نیشنل نالج انفراسٹرکچر کا مشتر کہ منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے جمع شدہ ڈیٹا سے حکومت کو فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں آ سانی ہو گی اس کے علاوہ مذکورہ ڈیٹا معیشت، سماج اور ٹیکنالوجی کی ہم آہنگی کے لیے بھی استعمال ہو گا ۔ ٹیکنالوجی کا سماجی بہتری کے لیے بھر پور استعمال یہاں دیکھنے میں آیا۔

گوئچو کے مختلف رنگ آ ہستہ آہستہ کھل رہے تھے اور ہم اس سوچ میں تھے کہ انسانی ذہن کی وسعت و رسائی کہاں کہاں تک ہے ۔ اسی اثنا میں اعلان ہوا کہ وفد نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی سکوپ دیکھنے جانا ہے۔ ہم نے سو چا کہ وہ بھی کہیں آس پاس ہوگی مگر حیرت کا جھٹکا لگا جب یہ بتایا گیا کہ بس کے ذریعے جانا ہے اور جانا بھی ہم کو دور ہے۔ اس لیے صبح سویرے ناشتے کے بعد تیار رہیں۔ اگلی صبح دو بسوں پر مشتمل قافلہ روانہ ہوا۔ بس گوئی یانگ کی شہری حدود سے نکلی اور ایک ہائی وے پر روانہ ہو گئی۔ بس کا جائزہ لیا تو موجود ساتھیوں سے میں سے اکثر اپنے لیپ ٹاپس، سمارٹ فونز پر مصروف نظر آئے اور میں باہر کا نظارہ کرنے لگا۔

اطراف میں ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑتھے ۔ راستے میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے دیہات ْ آ ئے اور ڈیڑھ گھنٹے بعد بسیں ایک جگہ پر رُک گئیں۔ ہم نے سوچا کہ شاید منزل آ گئی ہے مگر پتہ چلا کہ یہ تو صر ف دس منٹ کا قیام ہے ۔تازہ دم ہونے کے لیے۔ چلیں یہ تو معلوم ہوا کہ طویل مسافت پر جانے والی بسیں چین میں بھی راستے میںٹھہرتی ہیں اور شاید یہ عالمی روایت ہے۔ وقفے کے بعد دوبارہ روانہ ہوئے تو مسافر ہشاش بشاش تھے اور مسافروں کی نشستیں بھی تبدیل ہو چکی تھیں۔ سمارٹ فونز پر مصروف ہونے کے بجائے مسافروں نے ایک دوسرے سے بات چیت کا آغاز کیا تو میں نے بھی ا پنے ساتھ والی نشست پر موجود نوجوان ساتھی سے گفت و شنید شروع کی۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام رین ہاو(Ran Hao) ہے۔

موصوف پی ایچ ڈی ہیں، پڑھاتے ہیں اور پڑھاتے بھی سکول میں ہیں اور شنگھائی سے تشریف لائے ہیں۔ پی ایچ ڈی اور پھر سکول میں پڑھانا ہمارے لیے باعث حیرت تھا۔ پھر سے پوچھا کہ آ پ کہاں پڑھاتے ہیں تو فرمانے لگے کہ کمیونسٹ پارٹی کے سکول میں تو پھر سمجھ آئی۔ موصوف بیجنگ میں ایک اعلی پالیسی ساز ادارے سے وابستہ تھے۔ انہیں پاکستان کی سیاست کا بخوبی علم تھا۔ وہ پاکستان میں مختلف نوعیت کے اہم انتظامی و سیاسی اداروں سے مکمل باخبر تھے۔ ان سے خوب گپ شپ رہی اور ہم دونوں نے چین اور پاکستان کے سماج میں پائی جانے والی روایات، سماجی اداروں اور سیاسی امور پر خوب گفتگو کی اور یہ گفتگو در زبانِ فرنگ ہوئی کیونکہ میں چینی زبان اور وہ اردو سے لا علم تھے۔

انہوں نے ہی بتایا کہ ہماری منزل کافی دور ہے ۔ ان سے بات چیت ختم ہوئی تو پھر بس تھی، بس کی کھڑکی تھی اور سڑک تھی۔ گوئی یانگ سے آتے ہوئے یہاں تک بلند و بالا پہاڑ ہی نظر آئے ایسا محسوس ہوا کہ آپ پاکستان میں ملاکنڈ سے سوات جار ہے ہیں۔تقریبا تین گھنٹے کے سفر کے بعد بس ایک اعلی درجے کے ہوٹل پر رک گئی ۔ ہم سمجھے منزل آ گئی معلوم ہوا کہ دوپہر کے کھانے کے لیے رکی ہے۔ انواع اقسام کے کھانے موجود تھے۔ میں نے اور مصری مسلمان ساتھی حسام المغربی نے سبزیوں، سلاد، جوسز پر اکتفا کیا۔ وہاں سے روانگی ہوئی اور بس پُرپیچ ، خم کھاتے پہاڑی راستوں سے گزرتی رہی اور آخر کار ایک بلڈنگ کے سامنے رُک گئی۔

یہی ہماری منزل تھی۔ بس سے اُتر کر دیکھا تو آ س پاس بلندو بالا پہاڑوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ دور دور تک کسی آبادی کا نشان نہ تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہم فاسٹ ریڈیو ٹیلی سکوپ کی حدود میں کھڑے ہیں۔ ارد گرد دیکھا تو ٹیلی سکوپ نظر نہ آئی۔ پھر اعلان ہوا کہ سامنے والی عمارت میں داخل ہونا ہے لیکن اس سے پہلے گروپ فوٹو ضروری ہے۔ سو گروپ فوٹو ہوا اور پھر ہم عمارت میں داخل ہو گئے۔ عمارت میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہم تو پنگ تانگ انٹر نیشنل ایکسپیرینس پلانیٹریم میں موجود ہیں۔

اس پلانٹیریم میں اجرامِ فلکی کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات مہیا کی جاتی ہیں اور مختلف طرح کے سائنسی ماڈلز حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ پلانٹیریم میں گھومتے ہوئے انسان اپنے آپ کو کسی اور دنیا کا باسی تصور کرتا ہے۔ یہاں پر آسمان سے ستاروں کی نقل وحرکت کی آوازیں سنانے کا بھی اہتمام ہے۔ مختلف طرح کے سائنسی آلات، مختلف ادوار میں آسمان کے پر اسرار ر ازوں کو جاننے کی انسانی کوششوں کی داستان، خلانورد وں کا ماڈل، چاند کی سطح پر چلنے کا تجربہ، سیاروں اور ستاروں کے ماڈلز، زمین سے ستاروں اور سیاروں کی دوری کے متعلق معلومات، مختلف سائنسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ڈشز کے ماڈلز بھی موجود ہیں۔ پلانٹیریم میں اجرامِ فلکی کے متعلق ایک دستاویزی پروگرام دکھایا جاتا ہے جو کہ سیاحوں کو مسحور کردیتا ہے۔ ٹیلی سکوپ کو دیکھنے کے دورے میں اس پلانٹیریم کا دورہ لازمی کروایا جاتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ پلانیٹریم ٹیلی سکوپ کو دیکھنے کے جذبے کو مزید مہمیزکر دیتا ہے۔ پلانٹیریم کے دورے کے بعد ٹیلی سکوپ دیکھنے کے لیے رختِ سفر باندھنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

تجسس انسانی سرشت ہے۔کچھ کرنے اورڈھونڈنے کا جذبہ انسان کو ودیعت ہوا ہے۔ جاننے کی اس تشنگی کی تشفی کے لیے نِت نئے تجربات کئے جاتے ہیںاور نئی نئی ایجادات سامنے آتی ہیں۔ زمین پر موجود اشیاء تو کافی حد تک انسانی دسترس میں ہیں مگر زمین سے اوپر خلاوں اور آسمانوں میں ہونے والی نقل و حرکت کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ مختلف ممالک کے ادارے اس حوالے سے تحقیقات میں مصروف ہیں۔ انسانی قسمت پر ستاروںکے اثرات جاننے کے دعویدار تو بہت ہیں مگر ان کے سائنسی تجزیے ، تحقیق اور ان کے ہمارے سیارے”زمین ” پراثرات جاننے کا میدان صرف سائنسدانوں کے لئے مخصوص ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک فرد یا قوم تک محدود نہیں بلکہ اس کرہ ارض پر بسنے والوں کم وبیش چھ ارب سے زائد انسانوں کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی دنیا کے معاملات کو جاننے کے لیے کثیر رقم اور فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ چین بھی اس حوالے سے تحقیقات میں مصروف ہے۔ اور اس نے دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ یا ” زمین کا سب سے بڑا کان اور آنکھ” تیارکی ہے۔

یہ ٹیلی سکوپ چین کے جنوب مغربی صوبے گوئچو کی ایک کاونٹی پھنگ تھانگ میں واقع ہے۔  اس کا نام فاسٹ (Five Hundred Meter Aperture Spherical Radio Telescope)  ہے۔ اس سنگل ڈش ریڈیو ٹیلی سکوپ پروجیکٹ کے لیے چین کے نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے دو ہزار سات میں اس کے لیے نوے ملین ڈالر مختص کیے جب کہ مزید نوے ملین ڈالر دیگر اداروں سے لیے گئے۔ چار سال بعد دو ہزار گیارہ میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور صرف پانچ سال کے قلیل عرصے میں اس کی تعمیر مکمل کر کے ستمبر دو ہزار سولہ میں یہاں آ زمائشی بنیادوں پر سائنسی اور تحقیقی کام کا آغاز کیا گیا۔ جبکہ دو ہزار انیس میں یہ باضابطہ طور پر فعال ہو جا ئے گی۔ یہ ٹیلی سکوپ چار ہزار چار سو پچاس تکونی پینلز پر مشتمل ہے جن کے اوپر ریسیورز لگے ہوئے ہیں جو کہ اجرام فلکی کی ریڈیو ویوز کو اکٹھا کرتے ہیں۔

اس ٹیلی سکوپ کا کلیکٹنگ ایریا ایک لاکھ چھیانوے ہزار مربع میڑ ہے جو کہ دنیا میں سب سے بڑا ہے۔فاسٹ ٹیلی سکوپ سیاروں ، ستاروں اور اجرامِ فلکی سے وابستہ دیگر نقل وحرکت کی سائنسی پڑتال کرے گی۔ اس میں نصب مانیڑز اور دیگر آلات کی حساسیت کا یہ عالم ہے کہ اس نے ایک ہزار تین سو اکاون نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک ستارے کی لہروں کو مانیٹرکیا ہے۔ اس کے ذریعے ایک سال کے دوران کہکشاں میں موجود سات ہزار سے زائد ستاروں کا مطالعہ کیا جائے گا۔ یہ سائنسدانوں کے لیے ایک ہزار نوری سال کے فاصلے تک ہونے والی نقل وحرکت اور سگنلز کی مانیڑنگ آسان بنا دے گی۔ اس سے اجرامِ فلکی اور اس کی سائنسی تحقیقات سے پوری دنیا کو آسانی ہوگی۔

یہ چاروں اطراف سے بلند و بالا پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور پہاڑ کے دامن میں نصب ہے۔ دور سے دیکھنے پر ایک بڑے پیالے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ اطراف میں موجود پہاڑ قدرتی چار دیواری کا کا م دیتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی ریڈیوٹیلی سکوپ ہے۔ اس کا رقبہ تیس فٹ بال گراونڈز کے برابر ہے۔ فٹ بال کے ایک گراونڈ کو ذہن میں رکھ کے تیس کا تصور کریں اور تخیلاتی آنکھ سے اس کے حجم کااندازہ کریں۔ اس عمل میں یا تو آپ کو جھرجھری آ جائے گی یا آپ اس نوعیت کے حساب کتاب سے قاصر ہو جائیں گے۔ مگر عام انسان کے لیے محیر العقول فٹ بال کے تیس گراونڈز کے برابر یہ ٹیلی سکوپ زندہ وجود کی طرح سائنسدانوں اور عام شہریوں کے لیے اپنے در وا کیے ہوئے ہے۔

یہ پورٹیریکو میں واقع اسی نوعیت کی ایک ٹیلی سکوپ سے جحم میں ایک سو پچانوے میڑ اور کارکردگی کے اعتبار سے کئی گنا زیادہ وسعت کی حامل ہے۔ پورٹیکو میں واقع ٹیلی سکوپ کے بعد دنیا کو چار عشروں سے زائد کا انتطار کرنا پڑا اور چین نے عالمی برادری کے اس طویل انتظار کو “فاسٹ” کے ذریعے ختم کیا۔ ٹیلی سکوپ کے ارد گرد سائنسی اور تیکینکی ضروریات کے پیشِ نظر آٹھ ہزار لوگوں کو یہاں سے دیگر علاقوں میں منتقل کیا گیا۔

اس کے اردگرد تین میل کے دائرے میں ٹیلی سکوپ کے علاوہ کسی بھی طرح کی برقی کمیونیکیشن کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سائنسی اہمیت اور اس کی ضرورت کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ اس کے تین کلومیٹر کے اطراف کو حکومت نے Radio Quiet Zone ڈیکلیر کیا ہوا ہے۔ یہاں پر کسی براڈکاسٹنگ ادارے یا موبائل فون آپریٹر کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ تو زمین کی سطح پر حفاظتی اقدامات ہیں جب کہ فضائی حدود سے اس کی حفاظت اور کسی بھی قسم کے بیرونی خلل سے بچانے کے غیر معمولی انتظامات سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے۔ سول ایوی ایشن ا نتظامیہ نے یہاں پروازوں کے لیے دو نوعہ فضائی زونز بنائے ہیں۔ دو فضائی روٹس کو منسوخ کیا ہے جبکہ تین روٹس میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

فاسٹ کا تصور اور اس کی سائٹ کو دیکھنا کسی خواب کی طرح لگتا ہے۔ اس کی خبر سنتے ہی دل مچل اٹھا کہ اس کو دیکھا جائے مگر اس کی سائنسی اہمیت اور حساسیت کے پیشِ نظر دل ” ایں محال است” جیسے اندیشوں میں گِھر گیا اور طرح طرح کے سوالات سر اْٹھانے لگے۔ مگر اس کو دیکھنے کی خواہش چنگاری کی صورت برقرار رہی۔ بالآخر فاسٹ کے “دیدار” کا مرحلہ آ ہی گیا۔اس سفر کی کچھ شرائط تھیں۔ موبائل فون، گھڑی ، کسی بھی قسم کا کوئی برقی آلہ جو کمیونیکیشن کر سکتا ہے اس کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ موبائل فون ساتھ نہ لے جانے کی خبر سے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ کیونکہ اس کے بغیر اپنی موجودگی کو وہاں کیسے محفوظ اور یاد گار بنایا جا سکتا تھا۔

اور زندگی کے اس ناقابلِ فراموش لمحے کو مستقبل کے لیے محفوظ نہ کر پاتے تو ایک حسرت ہی رہ جاتی۔ مگر ضوابط کی پابندی لازمی جو ٹھہری سو بادلِ نخواستہ منتظمین کی ہدایات پر عمل کیا۔(بعد میں منتظمین کی جانب سے وہاں ایک مخصوص کیمرے کی فراہمی سے اس تاریخی لمحے کو یاد گار بنا لیا گیا)۔عمل کیے بغیر چارہ بھی نہ تھا۔ کیونکہ سکینر سے گزرنا تھا اور سکینر مشین جو ٹھہری اور مشینوں میں کہاں کی “وضع داری”اس عمل سے فراغت پا کر بس میں بیٹھے اور عازمِ سفر ہوئے۔ پلانٹیریم اور فاسٹ کے بیس پوائنٹ تک کم و بیش آدھے گھنٹے کا راستہ ہے۔ یہ راستہ پہاڑوں کے درمیان بل کھاتا ہوا گزرتا ہے۔ چاروں اطراف بلندو بالا پہاڑ اور سبزہ ہے۔

بعض مقامات پر تو بس پہاڑوں کے اتنے قریب سے گزرتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس پہاڑ پر جارہی ہے یہ منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ چونکہ یہ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے تو اس کا راستہ ” انہی پتھروں پہ چل کے آ سکو” کے مصداق ہے۔ جوں جوں منزل قریب آتی ہے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگتی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ کو ا پنی آنکھوں سے اور قریب سے دیکھنے کا تصور ہی انسان کو مبہوت کر کے رکھ دیتا ہے تو اسے اپنے سامنے دیکھنے کی کیفیت کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ بس مقررہ مقام تک پہنچ کر رکتی ہے اور لوگ اتر کر ایک مرتبہ پھر چیکنگ کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ اب انتظار کی گھڑیاں ختم اور ہمیں کسی زمین دوز راستے یا سرنگ کے ذریعے ٹیلی سکوپ تک لے جایا جائیگا۔ مگر پھر ایک اعلان سماعتوں سے ٹکراتا ہے کہ سامنے پہاڑ کو دیکھیں اور پہاڑ پر بنی ایک گزرگا ہ پر چلنا شروع کردیں۔ یہ گزرگاہ آپ کو منزلِ مقصود تک لے جائے گی۔

ایک تو سفر کی تھکاوٹ ، فاسٹ کے دیدار کا انتظار اور اوپر سے پھر پہاڑ پر چڑھنا۔ اس نے تو ہمیں امتحان میں ڈال دیا اور دل نے کہا کہ ” ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ” سو ’’ہمتِ مرد اںمددِ خدا‘‘ کے مصداق چل پڑے۔ مگر جب گزرگاہ کے پاس پہنچے تو دل کو ڈھارس ہوئی۔ ہم تو سمجھے تھے کہ یہ عام اونچی ، نیچی ، خاردار پگڈنڈیاں ہوں گی جن پر ہمیں سنبھل کر اور دامن بچا کر چلنا ہوگا۔ مگر یہ تو معاملہ ہی اور نکلا۔ یہ باقاعدہ ایک راستہ تھا۔جو کہ چینی حکومت نے سیاحوں کی آسانی کے لیے بنایا ہوا ہے۔ سیاحوں کا ذکر آیا ہے تو بتاتا چلوں کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں سیاح روز آتے ہیں۔ مارچ دوہزار سترہ میں فاسٹ کو سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا اور پہلے سال کے چھ ماہ کے دوران مقامی کاونٹی پنگ تانگ کو پانچ اعشاریہ پانچ بلین یوان آمدنی ہوئی جبکہ چین بھر سے پانچ اعشاریہ تین ملین سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا۔

سیاحو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس سے سا ئنسی تحقیقات میں ہونے والی مشکلات کے پیش نظر حکومت نے سیاحوں کی یومیہ تعداد مقرر کر دی ہے اب تین ہزار سے زائد سیاح یہاں نہیں آ سکتے اور ان کو بھی پیشگی آن لائن رجسڑیشن کروانا پڑتی ہے۔ ٹیلی سکوپ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی وجہ سے گوئچو کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار بیس تک صوبے میں دس ہزار کلومیٹر طویل نئی ہائی ویز بنائی جا ئیں گی۔ سترہ ہوائی اڈوں کو مکمل کیا جائے گا۔ اور چار ہزار کلومیٹر طویل ہائی سپیڈ ٹرین لائنز کو مکمل کیا جائے گا۔ یہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ مذکورہ سائٹ سے کچھ فاصلے پر ایک نیا ٹاؤن تیزی سے آباد ہو رہا ہے جو کہ آسٹرانومی ٹاون کا نام سے مشہور ہے۔ یہاں ہوٹلز اور خریداری کے لیے پلازے تعمیر ہورہے ہیں۔

واپس آتے ہیں فاسٹ کی طرف ۔اس جانب جانے والے راستے پر لکڑی سے بنی ہوئی سیڑھیاں ہیں۔ اطراف میں ریلنگ ہے۔ اور ان پر چڑھتے ہوئے آرام اور سستانے کے لیے جگہ بھی موجود ہے۔ یوں آپ تسلی اور اطمینان سے فاسٹ کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔ کوئی پتھریلا یا نا ہموار راستہ جو آپ کے صبر اور جسمانی صحت کا امتحان لے وہ یہاں نہیں ہے۔ ویسے جتنی بلند ی آپ کو طے کرنی ہوتی ہے اس کے لیے آپ کا صحتمند ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ راستہ کم وبیش دس سے پندرہ منٹ کا ہے۔ جب آپ راستہ طے کر رہے ہوتے ہیں توتھکاوٹ اور فاسٹ کے متعلق ملے جلے جذبات آپ پر حاوی ہوتے ہیں۔

مگر جب آپ منزل پر پہنچتے ہیں تو فاسٹ کو دیکھتے ہی ساری تھکاوٹ کافور ہو جاتی ہے، حیرت اور خوشی کے جذبات آپ کو گھیر لیتے ہیں۔ فاسٹ پر نظر پڑتے ہی ابتدائی چند ساعتیں اور لمحات تو بے یقینی کے ہوتے ہیں۔ یقین ہی نہیں آتا کہ سب سے بڑے انسانی کا ن اور آنکھ کو ہم اپنی چھوٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ خود فراموشی اور ارد گرد کے ماحول سے بے نیازی کی یہ ساعتیں مختصر گھڑیاں ثابت ہوتی ہیں اور جلد ہی ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے آپ کو اسی زمین اور بلندی پر موجودگی کا احساس دلا دیتے ہیں۔ اپنی سہولت کے لیے آپ اِن کو فلور کہہ لیں۔ فاسٹ کو دیکھنے کے لیے تین طرح کے فلور ہیں۔ کم بلند ، درمیانے درجے کا بلنداور سب سے بلند تینوں فلور بڑے کُھلے ہیں اور ان پر ریلنگ موجود ہے جس کے سہارے آپ کھڑ ے ہو کہ فاسٹ کو دیکھتے ہیں۔ تینوں فلورز سے فاسٹ کا مختلف منظر اور نظارہ ہوتا ہے۔وہیں کھڑے کھڑے تخیل کی آنکھ اور تصور آپ کو اس زمین کے اوپر کی کائنات میں لے جاتا ہے۔

آپ خیالوں خیالوں میں ہی مختلف طرح کے سیاروں، ستاروں ، ان کے باہمی ربط اور ان کی نقل وحرکت اور اس سے پیدا ہونے والی آوازوں کے متعلق سوچتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو وہاں موجود پاتے ہیں۔ اس کے پینلز ، ان کی تنصیب اور ایک خاص ترتیب، تکنیکی آلات اور پلیٹ فارم جس پر یہ نصب ہے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں اتنے بڑے ڈھانچے کی تیاری، اس مقام پر منتقلی اور تنصیب اور اس سائٹ کا انتخاب چینی ذہانت، عزم اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلندی سے ایک پیالے کی مانند دکھائی دیتی یہ ٹیلی سکوپ اپنے اندر اجرامِ فلکی کے متعلق علم اور سائنس کے پراسرار رازوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ مکمل طور پر چین کے سائنسدانوں کی تیارکردہ ہے اور چین کی جانب سے عالمی برادری کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔کیونکہ زمین سے اوپر کی کائنات کی پیچیدہ گتھیوں کو جاننے، سمجھنے اورسلجھانے سے صرف چین ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا فائدہ ہے۔ فاسٹ کے دورے نے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ ٹیکنالوجی میں جدت اور اختراعات کا مستقبل چین سے ہی وابستہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔