’ اُونٹ کُشتی‘ دلوں کو لُبھانے والا کھیل

رانا نسیم  اتوار 28 اکتوبر 2018
 ایک اونٹ دوسرے کو زمین پر گرا کر یا میدان سے بھگا کر بازی جیت سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

 ایک اونٹ دوسرے کو زمین پر گرا کر یا میدان سے بھگا کر بازی جیت سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

بلاشبہ مقابلے کا جذبہ انسان کا فطری خاصا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مقابلہ کا امتحان تعلیم میں ہو یا کھیل کے میدان میں، انسان ایک دوسرے کو زیر کرکے خود کو فاتح دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہاں ہمارا موضوع سخن تعلیم نہیں بلکہ کھیل ہے۔

فٹبال، کرکٹ، ہاکی، بیڈمنٹن اور باسکٹ بال جیسے کھیلوں کو کون نہیں جانتا؟ دنیا کے بیشتر ممالک میں آج یہ تمام کھیل کھیلے جا رہے ہیں، لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں کچھ ایسے کھیل بھی ہیں، جو روایتی کھیلوں سے بالکل مختلف ہیں یا روایتی کھیلوں سے ہی انہیں دریافت کیا گیا ہے۔ آئے روز نت نئے کھیل جنم لے رہے ہیں اور نئے اصول و ضوابط کے ساتھ اولمپکس کا حصہ بن رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ عجب، حیران کن اور خطرناک کھیلوں سے ہم آپ کو سلسلہ وار یہاں روشناس کروائیں گے۔

انسانوں کے علاوہ مرغوں، کتوں، سانڈوں اور بٹیروں وغیرہ کی کُشتی تو عمومی کھیل ہیں، جن میں انسانوں کے سوا تمام کُشتیاں سخت قوانین کے تحت ظالمانہ طریقے سے لڑی جاتی ہیں اور بعض اوقات تو کسی ایک جانور کی موت تک واقع ہو جاتی ہے، لیکن ہم یہاں آپ کو کُشتیوں کے روایتی جانوروں کے بجائے ایک ایسے جانور کے بارے میں بتائیں گے، جس کی کُشتی سے نہ صرف کھیل کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے بلکہ اس میںکسی فریق کی جان بھی نہیں جاتی اور وہ ہے ’’اُونٹ کُشتی‘‘ اس کُشتی میں شدت پسندی اور ظالمانہ قواعدوضوابط نہ ہونے کے باعث کسی کا خون بہتا ہے نہ کوئی جان ضائع ہوتی ہے۔

کُشتی کے اصول روایتی ہیں، یعنی ایک اُونٹ دوسرے کو نیچے گرا دے یا پھر کوئی ایک فریق میدان سے بھاگ جائے تو دوسرے کو کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے۔ مقابلے کے دوران دونوں اُونٹ ایک دوسرے کی گردن کو مروڑ کر حریف کو نیچے گرانے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں، جس دوران حوصلہ افزائی کے لئے ان کے مالکان بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ ایک مقابلے کا وقت عمومی وقت تقریباً 10 منٹ ہوتا ہے۔

مقابلوں میں حصہ لینے والے اُونٹوں کی بچپن سے ہی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیاجاتا ہے اور پھر اسی اعتبار سے ان کی قیمت بھی لگتی ہے۔ کُشتی میں حصہ لینے والے اُونٹ کی قیمت پاکستانی روپوں میں 20 سے 22 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ مقابلے میں جیتنے والی اُونٹ کے مالک کو نہ صرف نقدی کی صورت میں بھاری انعام بلکہ ایک خوبصورت اُونٹنی بھی ملتی ہے۔ ترکی کے علاوہ اُونٹ کشی کا حصہ بننے والے اُونٹوں کی زیادہ تر افزائش نسل افغانستان اور ایران میں ہوتی ہے۔ ترکی میں 2011ء کے دوران 2 ہزار اُونٹ خصوصی طور پر کُشتی کے لئے تیار کئے گئے، جن پر ہزاروں ڈالر خرچہ آتا ہے، لیکن شوق کا چوں کہ کوئی مول نہیں، اس لئے یہ شوقین افراد کی جیب پر بھاری نہیں گزرتے۔

اُونٹ کُشتی کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو 24 سو سال قبل ترک قبائل سے اس کے ڈانڈے ملتے ہیں۔ اُونٹ کُشتی ترک قبائل کا ایک محبوب کھیل تھا، جسے دوستانہ ماحول میں اپنے لطف کے ساتھ عوام کی تفریح کے لئے باقاعدگی سے منعقد کروایا جاتا تھا۔ بعدازاں جدید ترکی میں پہلی بار 1920ء میں ترکش نیشنل ایوی ایشن لیگ کے زیراہتمام فنڈریزنگ کے لئے اُونٹ کُشتی کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد حکومت کے لئے جہازوں کی خریداری تھا۔ تاہم بعدازاں ناقدین کی تنقید پر ترک حکومت نے اُونٹ کُشتی کی حوصلہ شکنی کرنا شروع کر دی، جس سے یہ کھیل اس دور میں شدید متاثر ہوا، تاہم 1980ء میں نئی ترک حکومت نے ترکی کے تاریخی کلچر کے فروغ کے لئے اُونٹ کُشتی کی حوصلہ افزائی کا آغاز کر دیا، جس کے بعد یہ آج تک ترکی خصوصاً اس کے مغربی علاقوں میں نہایت مقبول کھیل تصور کیا جاتا ہے اور یہاں ہر سال جنوری میں باقاعدگی سے اُونٹ کُشتی چیمپئن شپ کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں شائقین نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ممالک سے بھی ان میدانوں کا رخ کرتے ہیں۔

ترکی کے علاوہ یہ کھیل مشرقی وسطی اور جنوبی ایشیا میں بھی مقبول ہے، جس میں پاکستان کے علاوہ ایران اور افغانستان جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے دل لاہور میں منعقد ہونے والے ہارس اینڈ کیٹل شو میں بھی اُونٹ کُشتی شامل تھی، تاہم 1961ء میں جب ملکہ الزبتھ نے پاکستان کا دورہ کیا تو انہیں کیٹل شو دکھانے لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اُونٹ کُشتی کے لئے پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا اور یوں اُونٹ کُشتی ہارس اینڈ کیٹل شو سے نکل گئی، لیکن یہ کھیل آج بھی سندھ اور پنجاب کے سرحدی اضلاع یعنی رحیم یار خان کے علاقوں میں کسی حد تک زندہ ہے، تاہم اس کھیل کو قانونی تحفظ حاصل نہیں۔ رحیم یار کے علاقے میں ’’اُونٹ دنگل‘‘ کے نام سے کھیلے جانے والے اس کھیل کے لئے ہزاروں کی تعداد میں شائقین احسان پور پہنچتے ہیں، جہاں اس کھیل کو دیکھنے کے لئے شائقین کو 2 سے ساڑھے 3 سو روپے کے عوض ٹکٹ حاصل کرنا پڑتی ہے۔

ایونٹ آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ یہ علاقے کا ایک مقبول کھیل بن چکا ہے، جس کا شائقین کو بے صبری سے انتظام رہتا ہے۔ اُونٹ زیادہ تربیت یافتہ، پھرتیلے اور طاقت ور ہوں تو ایک مقابلہ نصف گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا ہے تاہم عمومی طور پر مقابلے کا تقریباً 10منٹ میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔

کُشتی کے لئے اُونٹوںں کو تربیت دینے والے ایک ٹرینر کا کہنا ہے کہ ایک اُونٹ کی تربیت پر تقریباً ایک سال لگ جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اُونٹ کو خاص تکنیک سکھائی جاتی ہے، جس میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ اُونٹ نے دوسرے فریق کو جان سے نہیں مارنا بلکہ صرف اس سے جیتنا ہے۔ مقامی شائقین کا کہنا ہے کہ اُونٹ کُشتی ایک منفرد اور تفریح سے بھرپور کھیل ہے، جس کی ضلعی سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔