"اٹيک آن كامرہ"،طالبان كا كامرہ ایئربيس پرحملےسےقبل صحافيوں كوايس ايم ايس

آئی این پی  اتوار 19 اگست 2012
حملے سے قبل صحافیوں کو میسج کیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

حملے سے قبل صحافیوں کو میسج کیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

کامرہ / اسلام آباد:  طالبان نے كامرہ ميں پاک فضائيہ كےمنہاس ایئربيس پرحملے سے پہلے، ايس ايم ايس كے ذريعے بعض صحافيوں  كوآگاہ كردياتھا،كارروا ئی منظم طريقے سے كی گئی،حملہ آوركالعدم تحريک طالبان كی قيادت سے رابطے ميں تھے۔

تفصيلات كے مطابق طالبان نے بدھ اورجمعرات كی درميانی شب،پاک فضائيہ كےمنہاس ایئربيس پرحملہ، پورے منظم اندازميں كيا،جبكہ كارروائی سے قبل طالبان نے پشاوراوراسلام آباد ميں بعض صحافيوں  كو”اٹيک آن كامرہ” كے ايس ايم ايس كیے۔

بعض اطلاعات كےمطابق حملہ آوركالعدم تحريک طالبان كی مركزی قيادت سے بھی مسلسل رابطے ميں تھے۔ واضح رہے كہ كامرہ ميں پاک فضائيہ كے بيس پر، بدھ اور جمعرات كی درميانی شب تقريباً دو بجےحملہ كياگياتھا،اورحكام كےمطابق سكيورٹی اہلكاروں كےساتھ تقريباً چارگھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ كے تباد لے ميں، نوحملہ آوروں كو ہلاک كر ديا گيا تھا۔

اس حملے كی ذمہ داری تحريک طالبان پاكستان نے قبول كرلی تھی، جبكہ اسلام آباد ميںميڈياسے گفتگوكرتے ہوئے وزير داخلہ رحمان ملک نے بھی كہا ہے”كامرہ ایئربيس پرحملہ كرنے والوں ميں  سے چار كي شناخت ہوگئی ہے،اوران كا تعلق شمالی اورجنوبی وزيرستان سےہے”۔ انہوں نے كہا” وفاق كے زير انتظام قبائلی علاقے، شمالی اورجنوبی وزيرستان درد سر بنے ہوئے ہيں، اوراب ان كے متعلق كچھ نہ كچھ سوچنا پڑےگا”۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔