شوقین دادا جی!!

شیریں حیدر  اتوار 28 اکتوبر 2018
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

سب کچھ مل جاتا ہے دولت سے مگر کھوئی ہوئی جوانی اور طاقت نہیں ۔ خواہش تو دادا جی کی یہی تھی کہ کسی طرح کھوئی ہوئی صلاحیتیں لوٹ آئیں، وہ بھی دوبارہ ایسے دکھیں کہ لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوں۔ مگر نہ دانت اصلی تھے نہ بال، کانوں میں سماعت باقی تھی نہ آنکھوں میں بصارت۔ ایک قوت گفتار تھی جو اب تک قائم تھی، وہ بھی دانتوں کے مصنوعی ہونے کی وجہ سے اٹک اٹک جاتی تھی ۔ چمچماتی ہوئی گاڑی، قیمتی لباس، اچھی کوالٹی کے چمڑے کے جوتے اور کلائی پر لاکھوں کی مالیت کی گھڑی ان کی مالی حالت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔

ظاہری اعضاء کے علاوہ… ان کے گھٹنے بھی مصنوعی تھے اور دل میں بھی خون کے بہاؤ کو بہتر رکھنے کے لیے اسٹنٹ تھے، دانتوں، آلہء سماعت، مصنوعی لینز، دھاتی گھٹنوں اور دل کی نالیوں کو کھولنے والے اسٹنٹ کی قیمت کا تخمینہ لگایا جائے تو دادا جی ایک بہت بڑی آسامی تھے۔ اب انھیں شوق چرایا کہ ان کے پاس جدید ترین اور قیمتی فون ہوں ۔ عمر کا بیشتر حصہ جن سہولیات کے بغیر گزارا تھا، اب وہ لازم لگنے لگی تھیں۔

جدید ٹیکنالوجی سے وہ خاص خار کھاتے تھے مگر انھیں جب سے علم ہوا تھا کہ ایک اچھا، اسمارٹ فون بھی آپ کے اسٹیٹس کا تعین کرتا ہے تو انھوں نے نہ صرف قیمتی ترین فون خرید لیا بلکہ اس کے استعمال کے لیے اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کو کئی کئی بہانوں سے آمادہ کیا کہ وہ انھیں اس کا صحیح استعمال کرنا سکھائیں ۔

اسمارٹ فون کا استعمال کرنے سے دادا جی بہت ہائی ٹیک شخصیت لگنے لگے تھے۔ فون پر وہ ہر وقت پاس ورڈ لگا کر رکھتے تھے اورجب بھی موقع ملتا، سب کے سامنے فون نکال کر کچھ نہ کچھ کرنے لگتے تا کہ لوگوں کو اندازہ ہو کہ نہ صرف وہ فون کے مالک ہیں بلکہ اس کے استعمال میں ماہر بھی ۔ ایک بار جو ان کا فون کام نہیں کر رہا تھا تو ایک پوتے سے مدد مانگی، اس نے اندازہ کیا کہ وہ اسے کھولنے کے لیے غلط پاس ورڈ ڈال رہے تھے۔

’’ اچھی طرح یاد کر کے بتائیں دادا جی کہ کیا پاس ورڈ ڈالا تھا آپ نے اس میں ؟ ‘‘ پوتے نے پوچھا۔ انھوں نے یاداشت پرزور دے کر ایک چار اعداد کا پاس ورڈ بتایا مگر نمبر پش کرنے پر نہ صرف یہ کہ وہ پاس ورڈ غلط ثابت ہوا بلکہ کئی بار غلط نمبر ٹرائی کرنے کی وجہ سے فون لاک ہو گیا۔ سوائے کسی مکینک کے پاس جانے اور بھولا ہوا پاس ورڈ یاد کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ مکینک کے پاس جا کر بھی کوئی حل نہ نکل سکا، فون بے کار ہو گیا۔

’’ میں نے تو اپنی بہت ساری معلومات اس میں محفوظ کر رکھی تھیں، میرے بینکوں اور جائیداد کی تفصیل سمیت!! ‘‘ دادا جی نے انکشاف کیا، ’’ اب میں کیا کروں گا؟ ‘‘

’’ اب آپ نیا فون لیں اور جو کچھ یاد ہے اسے دوبارہ نوٹ کر لیں مگر اب فون میں کوئی پاس ورڈ نہ ڈالیں، بلکہ ’ فنگر پرنٹ آئی ڈی‘‘ ڈال لیں !! ‘‘ بیٹے نے مشورہ دیا۔ دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ ابھی ابا میاں کا حافظہ اس معاملے میں کچھ نہ کچھ تو کام کرتا ہے اور پھر فنگر پرنٹ آئی ڈی کا فائدہ یہ بھی تو ہے کہ بندہ رہے نہ رہے… اس کا فنگر پرنٹ تو پھر بھی رہتا ہی ہے۔

دادا جی کو یہ اچھوتا خیال بہت بھایا اور انھوں نے فورا اس سے بھی مہنگا اور جدید ماڈل کا فون لے لیا۔ اس سے قبل کہ وہ اس پر اپنا فنگر پرنٹ سیٹ کرتے، انھیں کسی نے بتایا کہ اس فون پر’ فنگر پرنٹ‘ یا ’ فیس آئی ڈی‘ ( چہرے کی شناخت) دونوں کی سہولت موجود ہے۔ یہ تو بہت اچھا خیال ہے، انھوں نے مسکرا کر سوچا اور اپنے انگلیوں اور چہرے کی آئی ڈی سیٹ کرنے کا طریقہ اپنے پوتوں سے اچھی طرح سیکھ لیا۔ انھوں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ اس فون پر دونوں آئی ڈی اکیلے میں سیٹ کریں گے، یعنی ان کا فون انگلی سے چھونے سے بھی کھل سکے گا اور چہرے کی شناخت سے بھی۔

دن رات لگا کر انھوںنے اپنی تمام اہم معلومات دوبارہ فون میں محفوظ کیں اور سمجھا کہ اب وہ فون ان کا راز دار بن گیا تھا۔ اب دادا جی اپنا فون نہ کسی کے سامنے نہ کھولتے تھے اور نہ ہی استعمال کرتے تھے۔ ان کے فون میں اب بہت سے راز تھے، ہر وہ بات جو پہلے زمانوں میں اس عمر میںلوگ اپنی اولاد کو بتاتے تھے یا وصیت کی صورت لکھ کر رکھ دیتے تھے، وہ سب کچھ اب دادا جی کے فون کی پٹاری میں تھا۔ عام استعمال کے لیے کال وغیرہ وہ اپنے ایک پرانے عام سے فون کے سیٹ سے کرتے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ جب وہ عمر کے اس حصے میں پہنچے کہ وہ اتنے بیمار پڑ گئے اور انھیں اپنی زندگی کی امید نہ رہی تووہ اپنے بچوں کو اپنے اسمارٹ فون کے راز میں شریک کر لیں گے۔ انسان کچھ سوچتا ہے اور قدرت نے اس کے لیے سب منصوبہ سازی کسی اور طرح سے کی ہوتی ہے۔

وہ گاڑی چلانے کے دوران بائیں ہاتھ سے فون پکڑے کسی سے باتیں کرتے ہوئے دھیان چوک جانے سے، اچانک ایک حادثے کا شکار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں ان کے دائیں ہاتھ کی ہڈیوں میں اتنی توڑ پھوڑ ہو گئی کہ اس ہاتھ کو جسم سے کاٹنا پڑ گیا۔ دادا جی طویل بے ہوشی کے بعد ہوش میں آئے تو علم ہوا کہ وہ بولنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے تھے، کچھ کہنا چاہتے تھے تو منہ سے بے معنی الفاظ نکل کر رہ جاتے تھے۔ کسی کا نہ اس طرف دھیان گیا تھا اور نہ ہی دادا جی خود اس حالت میں تھے کہ اپنے فون کا مطالبہ کرتے ، انھیں اس کے بارے میں کچھ بتاتے یا وہ سارے بھید جو اس میں مضمر تھے ان کا کوئی اور ریکارڈ تیار کروا سکتے ۔ سوچ کر رہ جاتے کہ اب جب وہ ٹھیک ہوں گے تو اپنے پوتوں کو اور بیٹوں کو وہ سب کچھ بتادیں گے جو انھوں نے اپنے فون میں چھپا رکھا تھا۔

اسی حادثے کے نتیجے میں ٹھیک ہونے کی بجائے دادا جی اسپتال کے اسی بستر پر موت سے ہمکنار ہوگئے ۔ ان کی تکفین و تدفین سے بھی بڑھ کر بچوں کو یہ فکر ہوئی کہ ان کے فون کا لاک کیسے کھولا جائے۔ ان کا ایک ہاتھ کٹ چکا تھا، دوسرے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے فنگرپرنٹ میچ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ہوئی اور اس سے اندازہ یہی لگایا گیا کہ ان کا فنگر پرنٹ یقینا اس ہاتھ کا تھا جو اس کے جسم سے کٹ کر جانے اس وقت کہاں تھا۔ فون پر ہی آپشن آ رہی تھی کہ فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کروا کر فون کھولیں۔ ان کے چہرے کے سامنے فون کیا گیا اور چہرے کی شناخت کی آپشن کو دبایا گیا مگر اس نے جواب دیا کہ وہ چہرہ درست نہ تھا۔

ساری کوششیں ناکام گئیں اور ظاہر ہے کہ ان کی میت کو کتنی دیر تک اس نوعیت کے تجربات کے لیے رکھا جا سکتا تھا۔ دادا جی خود تو ختم ہو ہی گئے تھے مگر اپنے ساتھ اپنی نصف سے زائد دولت کے وہ راز بھی لے گئے جو انھوں نے اپنی دانست میں فون میں محفوظ کیے تھے… وہ ایسے محفوظ ہوئے کہ ان کا سراغ بھی نہ لگایا جا سکا ۔ پوتوں نے بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق وہ فون ان لاک کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہونے کے بعد، بیچ دیا۔ خریدنے والے نے اس کی قیمت انھیں تو جو بھی دی مگر اس کے ایک ایک پرزے کو علیحدہ علیحدہ بیچ کر بہر حال کچھ نہ کچھ منافع ضرور کما لیا تھا۔

دادا جی کی وفات کے لگ بھگ ایک ماہ کے بعد ان کے کمرے کی صفائی کے دوران الماری سے ایک ڈبہ برآمد ہوا… اس میں ایک ماسک پڑا ہوا تھا، وہ ماسک چند سال پہلے ان کے ایک پوتے نے ان کی سالگرہ پر تحفتاً دیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک سیل بند لفافہ بھی رکھا ہوا تھا ، اس لفافے کو کھولا گیا تو اس میںسے ایک کاغذ برآمد ہوا جس پر لکھا ہوا تھا… ’’ اگر میں مر جاؤں تو میرے بچوں کو میرا فون کھولنے کے لیے کسی شناخت کی ضرورت ہو گی، اس لیے یہ ماسک پہن کر میں نے اپنے فون پر فیس آئی ڈی لگائی ہے۔

فنگر پرنٹ کے لیے میں نے اپنے داہنے پاؤں کے انگوٹھے کو استعمال کیا ہے۔ یہ حفاظتی اقدامات اس لیے کیے ہیں کہ کسی حادثے کی صورت میں کوئی انجان شخص میرے ہاتھ کی انگلیوں کی مدد سے میرا فون کھول کر اس میں سے سارے راز اخذ نہ کر لے!!‘‘ خط کو پڑھنے والے اپنا سر پیٹ کر رہ گئے۔

سب لوگ اس خط کو پڑھ کر یوں رو رہے تھے جیسے ڈاکٹر نے ابھی ابھی اطلاع دی تھی کہ دادا جی کی موت واقع ہو گئی ہے !!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔