افغان ٹرانزٹ ٹریڈ؛ خالی ٹرکوں کی واپسی میں 15 یوم کی تاخیر سلسلہ شروع

احتشام مفتی  اتوار 28 اکتوبر 2018
 ڈیٹنشن چارجزکی مد میں فی کنٹینراخراجات2 لاکھ روپے بڑھ گئے،حکومت افغان حکام سے مل کر مسئلہ حل کرے، ضیا الحق۔ فوٹو: فائل

 ڈیٹنشن چارجزکی مد میں فی کنٹینراخراجات2 لاکھ روپے بڑھ گئے،حکومت افغان حکام سے مل کر مسئلہ حل کرے، ضیا الحق۔ فوٹو: فائل

کراچی: افغان حکام نے ٹرانزٹ ٹریڈ کنسائمنٹس کی ترسیل کرکے واپس آنے والے پاکستان کے خالی ٹرکوں کو بلاجواز10 تا15 یوم تک روکنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

افغانستان کے لیے ترسیل کرنے والے پاکستانی بانڈڈ کیرئیر کے ٹرکوں اور کنٹینرزکی واپسی کی مدت نہ صرف15 یوم سے بڑھ کر30 یوم ہوگئی ہے بلکہ ٹرانسپورٹرزکا فریٹ2 تاڈھائی لاکھ سے بڑھ کر3 تا4 لاکھ روپے اضافے کے ساتھ ڈیٹنشن چارجزکی مد میں فی کنٹینراخراجات بھی1.5 سے2 لاکھ روپے بڑھ گئے ہیں۔

افغان حکام کی جانب سے خوڑ میدان کے مقام پر پاکستان واپس آنے والے ٹرکوں کو بلاجواز روکے جانے کے عمل سے خالی کنٹینرز اور ٹرکوں کی قلت بھی ہورہی ہے۔

فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ کے صدر ضیا الحق سرحدی نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان سے جلال آباد کے راستے افغانستان کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کنسائمنٹس کی ترسیل کے بعد واپس آنے والے بانڈڈ کیرئیرزکے 2 ہزارخالی کنٹینربشمول ٹرکوں کوافغان حکام نے 5ستمبر سے خوڑ میدان کے مقام پر روکا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ افغان حکام کوفی ٹرک 10تا15 ہزار روپے کی ادائیگیوں پر چھوڑا جارہا ہے اور عدم ادائیگی پربلاجواز روکا جارہاہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پاکستان سے تازہ پھل کوئلہ ودیگر مصنوعات کی ایکسپورٹ ہورہی ہے۔ اس لیے وہ باقی ماندہ مال بردار ٹرکوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان جانے والے خالی ٹرکوں کوبمعہ کنٹینرزکو روک رہے ہیں۔

شپنگ کمپنیوں کی ملکیت کے کنٹینرززکا فری ٹائم چونکہ 7سے 14دن ہوتا ہے لیکن خالی کنٹینرزبشمول ٹرک کی واپسی کی مدت بڑھکر30 یوم ہونے سے جہاز راں کمپنیاں بھاری ڈیٹنشن چارجز وصول کررہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت متعلقہ افغان حکام سے رابطہ کرکے پاکستانی ٹرکوں کوبلاجواز روکے جانے والے معاملے کا حل نکالے اورایس آراو121 کو بھی غیرموثر کرنے کا اعلان کرے تاکہ لوز کارگو کے ذریعے پاکستان ریلوے کی ویگنوں میں ٹرانزٹ کامال لوڈ کیا جا سکے اور کراچی پورٹ پر ہی خالی کنٹینرز شپنگ کمپنیوں کے حوالے کیے جا سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ فی الوقت گیتاگڈز ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان میں غیر ضروری اخراجات اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں مشکلات کی وجہ سے 70فیصد کاروبار کراچی پورٹ سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور بندر عباس منتقل ہو گیالہٰذا دونوں مالک کے حکام افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نئے معاہدے پر نظرِ ثانی کریں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔