پاکستانی مڈل آرڈر کو بیٹنگ کا بھولا سبق یاد کرنا ہوگا

عباس رضا  اتوار 28 اکتوبر 2018
کینگروز کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح خوش آئند مگر۔۔۔ فوٹو: فائل

کینگروز کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح خوش آئند مگر۔۔۔ فوٹو: فائل

کرکٹ کا کوئی بھی فارمیٹ ہو پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں کے بارے میں کچھ یقینی طور پر کہنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔

ناقابل اعتبار کھلاڑیوں کا وار چل جائے تو بڑے سے بڑے حریف کا بھی شکار کر جاتے ہیں،کبھی فلاپ ہونے لگیں تو کارکردگی ایسی نظر آتی ہے کہ کوئی کلب کی ٹیم کھیل رہی ہو، دن اچھا ہو تو بولرز معمولی ہدف کو بھی حریف کے لئے پہاڑ بنا دیتے ہیں، کبھی ناکامی کا خوف سوار ہو تو بیٹسمین اعتماد سے عاری نظر آتے جبکہ بولرز ٹارگٹ کا دفاع کرتے ہوئے ہانپتے اور کانپنے نظر آتے ہیں۔

چیمپئنزٹرافی میں حیران کن فتوحات کے ساتھ ٹائٹل پر قبضہ جمانے کے بعد گرین شرٹس کی نیوزی لینڈ میں کارکردگی نے شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، بعد ازاں کمزور ٹیموں پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملتا رہا، زمبابوے میں تو محدود اوورز کی کرکٹ میں فخر زمان، امام الحق اور ٹیم نے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے، ایشیا کپ میں کنڈیشنز ہوم گراؤنڈ جیسی لیکن کارکردگی ایسی تھی کہ کوئی نوآموز ٹیم دیار غیر میں مضبوط ٹیموں کا سامنا کرتے ہوئے کھیل کی بنیادی سبق بھی بھول گئی ہو۔

اس ایونٹ میں پاکستان کی بیٹنگ چلی تو بولرز بھی کوئی کرشمہ نہ دکھا سکے، گزشتہ دو سال میں فیلڈنگ میں نظر آنے والی بہتری کے آثار بھی ایک دم غائب ہوگئے،اس کارکردگی کے بعد سرفراز احمد کی قیادت پر بھی انگلیاں اٹھنے لگیں۔

کینگروز کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں پاکستان نے مسلسل کئی سیشنز تک میچ میں حاوی رہنے کے باوجود جیت کا سنہری موقع گنوا دیا، اس کے بعد ابوظبی ٹیسٹ میں 57 پر 5 وکٹیں گنوانے کے بعد کوئی توقع نہیں کرسکتا تھا کہ پاکستان کم بیک کرے گا، کپتان سرفراز احمد اور ڈیبیو ٹیسٹ کھیلنے والے فخرزمان نے ڈولتی ناؤ کو سہارا دیا، ٹیل اینڈرز نے بھی مزاحمت کی، پہلی اننگز میں اچھا مجموعہ ترتیب دینے میں کامیابی حاصل ہوئی، اس کے بعد سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جانے والی کنڈیشنز میں محمد عباس نے یادگار بولنگ کرتے ہوئے دنیا بھر کے موجودہ اور سابق فاسٹ بولرز سے داد سمیٹی، یو اے ای میں کسی ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پیسر نے 2میچز کی اس سیریز میں 17 شکار کئے۔

افسوس کی بات ہے کہ وہاب ریاض جیسے سینئر بولر کو ٹیم میں کم بیک اور جگہ پکی کرنے کا موقع ملا لیکن لائن لینتھ کی بجائے صرف رفتار کو ہی ہتھیار سمجھنے والے پیسر دبئی ٹیسٹ کے بعد ہی ڈراپ ہوگئے، میر حمزہ نے ابوظبی میں قدرے بہتر کارکردگی پیش کی، اولین ٹیسٹ کی وجہ سے انہیں رعایت دی جاسکتی ہے، پیسر مزید کھیلتے ہوئے آئندہ میچز میں تجربہ حاصل کر کے محمد عباس کے اچھے جوڑی دار بن سکتے ہیں، محمد عامر پر حد سے زیادہ انحصار پہلے ہی کافی مہنگا پڑچکا، متبادل پلان پر عمل کرتے ہوئے میر حمزہ سمیت چند نوجوان بولرز کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہوگا،اس کمزوری کا کپتان سرفراز احمد کو بھی اندازہ ہے اور وہ پیس بیٹری کو مزیف مضبوط بنانے کی ضرورت کا اعتراف کرچکے ہیں۔

بال ٹمپرنگ کیس میں پابندی کی سزا کا سامنا کرنے والے سٹیو سمتھ اور ڈیوڈ وارنر کی مدد کے بغیر پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے کوشاں آسٹریلوی ٹیم سے ٹیسٹ میچز میں زیادہ مزاحمت کی توقعات نہیں تھیں لیکن پہلے ٹیسٹ میں عثمان خواجہ، ٹم پین اور ٹریوس ہیڈ کی مزاحمت نے سیریز دلچسپ بنا دی، دوسرے میچ میں عثمان خواجہ کی انجری نے پاکستان کے لیے فتح کا سفر اور بھی آسان کر دیا، ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کینگروز کو کپتان ایرون فنچ، ڈارسی شارٹ، کرس لین اور جارح مزاج آل راؤنڈر گلین میکسویل کی خدمات حاصل تھیں۔

پیسر بلی سٹین لیک زمبابوے میں کھیلی جانے والی ٹرائی سیریز میں بھی پاکستانی بیٹسمینوں کو خاصا پریشان کرچکے تھے، اینڈریو ٹائی اور کولٹرنائل مختصر فارمیٹ کے سپیشلسٹ سٹار ہیں،ایڈم زمپا بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بہترین سپنرز میں شمار ہوتے ہیں، کینگروز کی قوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیریز میں سخت مقابلوں کی توقع کی جارہی تھی، پاکستانی مڈل آرڈر کی ناکامی نے کینگروز کو آسان اہداف اور فتح کے لیے مواقع بھی فراہم کیے لیکن حیران کن کارکردگی کے لیے مشہور گرین شرٹس نے بڑے مجموعے نہ ہونے کے باوجود غیر معمولی کارکردگی پیش کی۔

ایشیا کپ میں بے دانت کے شیر نظر آنے والے پیسرز نے مضبوط آسٹریلوی بیٹنگ لائن کے خلاف نپی تلی بولنگ کی لیکن کینگروز کی ناک میں دم ایک سال بعد قومی ٹیم میں واپس آنے والے آل راؤنڈر عماد وسیم نے کیا، ابوظبی میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں مہمان بیٹنگ کے 3 برج الٹنے والے بولر نے ایسی دھاک بٹھائی کہ دیگر بولرز بھی قہربن کر ٹوٹ پڑے، یکطرفہ مقابلے میں کینگروز کسی موقع پر بھی ہدف کے قریب پہنچتے نظر نہیں آئے۔

عماد وسیم کا مہمان بیٹنگ لائن پر ایسا خوف بیٹھا کہ دوسرے میچ میں ان کی گیندوں پر رنز بنانا بھول کر وکٹیں بچاتے رہ گئے، سپنر نے اپنے 4 اوورز میں صرف 8 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی،اس کے بعد ایرون فنچ الیون کے لیے آسان ہدف بھی مشکل ہوتا گیا، گلین میکسویل کی آخر میں ماردھاڑ بھی بیکار گئی۔

سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان ٹیم کی مسلسل 10ویں سیریز میں فتح بڑی خوش آئند ہے، تاہم اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کے کینگروز کیخلاف دونوں میچز میں جیت بولرز کے مرہون منت تھی، بابر اعظم اور محمد حفیظ کے سوا کسی کی کارکردگی میں بھی تسلسل نظر نہیں آیا، ماضی میں بڑے سکورز کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرنے والے فخر زمان کا بیٹ ایشیاکپ میں خاموش رہا، ڈیبیو ٹیسٹ میں رنز بنانے میں کامیاب رہے لیکن کینگروز کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کی دونوں اننگز میں اپنے نیچرل کھیل کا مظاہرہ نہیں کر پائے، بہتر بائونس والی پچز پر کھل کر سٹروکس کھیلنے والے فخر زمان ایشیائی کنڈیشنز میں جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے ہیں، دونوں میچز میں آؤٹ ہونے ہونے سے قبل اعتماد سے عاری سٹروکس ان کی تکنیکی خامیوں کو آشکار کر رہے ہیں۔

پاکستان کے ایک میچ ونر کا یواے ای کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ نہ ہو پانا ٹیم مینجمنٹ اور کپتان دونوں کے لیے باعثِ تشویش ہے، ان کا ٹیلنٹ ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کوچز کو خصوصی کام اور اوپنر کو سخت محنت کرنا ہوگی، حسین طلعت پہلے میچ میں متاثر کن کارکردگی نہ پیش کر پانے کے بعد ڈراپ ہوئے،اس سیریز سے قبل کئی میچز میں آصف علی کے جارحانہ 25 یا 30 رنز میچ کا نقشہ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن کینگروز کے خلاف سیریز میں ایک یا دو سٹروکس کھیلنے کے بعد ہی چلتے بنے۔

پہلے میچ میں حسن علی اور دوسرے میں فہیم اشرف نے آخر میں پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کا مجموعہ بہتر بنانے میں مدد دی، یہ کام مڈل آرڈر میں سے کسی کو کرنا چاہیے تھا، پہلا میچ باہر بیٹھ کر دیکھنے والے شعیب ملک نے دوسرے میں حسین طلعت کی جگہ تو لی لیکن فارم میں نظر نہیں آئے، مڈل آرڈر میں ایک دو اچھی اننگز دیکھنے میں آتیں تو گرین شرٹس بہتر ہدف دے سکتے تھے،آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 200کا مجموعہ عام سی بات ہے لیکن کینگروز پیسرز نے لائن اور لینتھ کیساتھ سلوبال بھی کرواتے ہوئے پاکستانی بیٹسمینوں کو غلطیوں پر مجبور کیا۔

کینگروز کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے شاید گرین شرٹس کے لیے کینگروز کو کلین سویپ کرنا مشکل نہیں ہوگا لیکن آئندہ کے چیلنجز کا سامنا کرنے سے قبل بیٹنگ میں مسائل پر قابو پانا ہوگا،دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں مہمان ٹیم کو فتح کی امید دلاکر آخری اوور میں رخصت ہوجانے والے گلین میکسویل کے 2 کیچ ڈراپ ہوئے،گرین شرٹس کو یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ بعض اوقات ایک غلطی کتنی بھاری پڑ سکتی ہے،ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو بیٹسمین کو ملنے والا ایک موقع،ایک بڑا اوور یا چند کمزور گیندیں میچ کا نقشہ بدل دیتی ہیں، جارح مزاج گلین میکسویل تو بازی پلٹ دینے کا کارنامہ کئی بار سرانجام دے چکے ہیں ، کینگروز کے پاس کئی میچ ونرز موجود ہیں،کسی ایک نے غیر معمولی کارکردگی پیش کردی تو کلین سویپ کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔