یہ صوفی لوگ

عبدالقادر حسن  منگل 30 اکتوبر 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ہزار برس سے زیادہ مدت ہونے کو آئی ہے، فقیر کا لنگر جاری ہے اور اس کا فیض کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جب یہاں فاتحہ خوانی ، تلاوت اور نوافل ادا نہ کیے جارہے ہوں اور زیارت کرنے والوں کی آنکھوں سے آنسو نہ بہہ رہے ہوں۔

مطلق اقتدار والے دولت سمیٹنے میں لگے رہے اور موت کے بعد عبرت کا سامان بن گئے۔ ان کا شاہی وقار طنطنہ اور شان و شوکت سب کچھ ان کے ساتھ خاک میں دفن ہو گیا لیکن اسی شہر میں ایک درویش فقیر اور عاجز انسان عقیدتوں کا مرکز اور غریبوں کا آسرا بن گیا ۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں نے یہاں پیٹ بھر کر کھایا ۔کون لاتا ہے،کہاں سے آتا ہے، کیوں آتا ہے ، اس سے کسی کو بحث نہیں ۔ نادار اورمسافر آتے ہیں ان کی حاجات پوری ہوتی ہیں، ان کے پریشان اور مضطرب دل سکون پاتے ہیں۔ کھانے سمیت یہ سب ان کے لیے تبرک ہے۔

میں لاہور میں بیٹھا ہوں اور تصوف کی سب سے بڑی کتاب کشف المحجوب کے مصنف حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ؒ کی تبلیغ کو ان کی کتاب کی روشنی میںیاد کر رہاہوں اور تصور کرتا ہوںکہ اس درویش کے پاس کیا معجزہ تھا کہ کافروں کے دل پگھل گئے تھے ۔ کیا یہی پیغام ان کی سب سے بڑی کرامت تھی جو اب تک جاری ہے۔

اسی شہر لاہور میں وقت کے بادشاہ بھی دفن ہیں اور کسی بادشاہ کے عمائدین سلطنت کے لشکر کے لشکر بھی اس شہر کی مٹی میں سو رہے ہیں لیکن ان کے مقبرے اگر باقی رہ گئے ہیں تو وہ سیاحوں اور تفریح کرنے والوں کے لیے دلچسپ مقامات ہیں اور ان کی عمارتیں اپنی بقا کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کی توجہ کی محتاج ہیں ۔

سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ان کی مرمت کی جاتی ہے ورنہ ان کے مکینوں کی طرح ان کی یادگاریں بھی صرف تاریخ کے صفحات میں باقی رہ جائیں۔ دوسری تفریحی گاہوں کی طرح ان عمارتوں کو دیکھنے اور یہاں سیر کرنے کے لیے ٹکٹ لگائے گئے ہیں جو لوگ یہاں آتے ہیں، شاید ہی کوئی کسی ظل سبحانی کی مغفرت کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہو لیکن ایک فقیر کے مزار پر حاضری دینے کے لیے لوگ منتیں مان کر آتے ہیں ۔ اس مزار پر اتنا کچھ نچھاور کر جاتے ہیں کہ بلا مبالغہ لاکھوں لوگ روزانہ اس درگاہ سے اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔

پاک وہند میں یہ کوئی واحد درگاہ نہیں ۔ جنوبی ایشیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایسی لاتعداد درگاہیں موجود ہیں جہاں سے خلق خدا کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ یہ لوگ امن کے پیغامبر تھے ۔ انسان کا احترام کرتے تھے اور اس کی گمراہی ختم کرتے تھے۔

مسلمانوں نے ہزار سال تک ہندوستان پر حکمرانی کی لیکن شاید ہی کسی بادشاہ نے اسلام کی تبلیغ کی ہو ان کے مزاروں پر لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں جب کہ صوفیوں کے مزارات پر ان کے عقیدت مندوں کا ایک ہجوم رہتا ہے۔یہی صوفی لوگ تھے جنہوں نے ہندوستان کی تاریکیوں میں روشنی پیدا کی اور انھی کے طفیل ہندوؤں کے اس ملک میں آج دوسری بڑی قوم مسلمان ہیں اور ان کا پاکستان ہے صرف ہندوستان پر کیا موقوف، مشرقی ایشیاء کے دوسرے ملکوں میں انھی صوفیوں نے اللہ کے دین کو روشناس کرایا۔

ان کی زندگیاں حیران کن تھیں جوان کے قریب آتا اس کے نفس امارہ کے بت ٹوٹ جاتے ۔ قدرت نے ان لوگوں کو حسن کلام کی نعمت بھی عطاء کی تھی ۔ ان کے احوال ان کے مقالات اور اقوال پڑھیں تو ان کی ذہانت اور دانش پر حیرت ہوتی ہے۔ بلخ ترکی کا ایک مہاجر جو ترکی کے شہر قونیہ میں جا کر آباد ہوا اور رومی کہلایا۔

آج کی جدید دنیا میں افکار کی بحثوں کا سب سے بڑا موضوع ہے اور امریکا میںکئی ادارے اور کئی مصنف اس کے خیالات و افکار پر تحقیق کر رہے ہیں اور کتابوں اور مضامین کے انبار لگاتے چلے جا رہے ہیں۔صوفیوں کے زندہ رہنے والے افکار کبھی پرانے نہیں ہوتے ۔ ایک صوفی نے کہا تھا

کشتگان خنجر تسلیم را

ہر زماں از غیب جانے دیگر است

جو لوگ تسلیم و رضا کی تلوار سے قتل ہوگئے ان کو ہر زمانے میں ایک نئی زندگی ملتی رہی ۔ ایسی بات کوئی صوفی ہی کہہ سکتا ہے ۔ مغرب تک کسی راستے سے اس صوفی جلال الدین رومی کی اطلاع پہنچی تو نئے علوم کے حامل حیرت زدہ رہ گئے ۔ افکارو تخیلات کے نئے در کھل گئے کیونکہ یہ لوگ سکون اور امن کے لیے انسانوں کی پیاس بجھاتے ہیں۔

انسان نے ہر زمانے میں طمانیت قلب کو تلاش کیا اور صوفیوں نے اللہ کی زمین کو کانٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زندگیاں لگا دیں ۔ ایک دفعہ حضرت نظام الدین اولیا ؒ نے اپنی مجلس میں کسی بات پر فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے سامنے ایک کانٹا رکھ دے تو اس کے جواب میں تم بھی کانٹا نہ رکھ دو ۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو خدا کی زمین کانٹوں سے بھر جائے گی۔

دلوں کی دنیا کو تہہ و بالا کر دینے والی ایسی بات اس صوفی کی ہی ہو سکتی ہے جس کے گداز اور نرم دل میں انسانوں کے لیے محبت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ صوفیوں کی یہی با برکت اور پراثر باتیں انسانوں کے دلوں کو بدل دیتی ہیں۔ صوفیوںکا ہم مسلمانوں کی زندگیوں میںایک خاص مقام ہے اور ہم سب کے لیے یہ بابرکت مقام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔