سیٹھی بمقابلہ مانی جنگ جلدی چھڑگئی

سلیم خالق  جمعرات 1 نومبر 2018
جب تک احسان مانی ’’مخبروں‘‘کا جال ختم نہیں کرتے انھیں مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے . فوٹو : فائل

جب تک احسان مانی ’’مخبروں‘‘کا جال ختم نہیں کرتے انھیں مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے . فوٹو : فائل

’’ذکا اشرف نے اپنے دور میں بورڈ کا پیسہ پانی کی طرح بہایا، ان کے اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئیں‘‘ چند برس قبل جب سابق چیئرمین کو بورڈ سے ہٹایا گیا تو ایسی خبریں ’’باخبر ذرائع‘‘ سے میڈیا کی زینت بنیں، اب نجم سیٹھی کا دور ختم ہوا توانھوں نے جو الاؤنسز وغیرہ لیے ان کی تفصیلات سامنے آ گئیں، مگر میں احسان مانی کو داد دیتا ہوں جنھوں نے جو کیا سامنے آکر کیا اور ویب سائٹس پر تفصیلات لگائی گئیں، وہ ویسے ہی سادہ انسان ہیں، ٹویٹر تو دور کی بات روایتی میڈیا سے بھی دور ہی رہتے ہیں۔

چیئرمین ٹورز کرانے اور دیگر فوائد پہنچانے کے بھی قائل نہیں لہذا ان کی دوستیاں نہیں بنیں گی، جب انھوں نے عہدہ سنبھالا تب ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ وہ بورڈ کے تمام اخراجات و دیگر تفصیلات ویب سائٹ پر دیں گے، اسی لیے اب ایسا ہوا لیکن نجم سیٹھی نے اس پر انتہائی سخت ردعمل دیا بلکہ پی سی بی کو قانونی نوٹس تک بھیج دیا، ان کا یہ اعتراض ہے کہ جو تفصیلات دی گئیں اس دور میں وہ صرف ایک برس چیئرمین رہے باقی تو ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ تھے، انھوں نے بطور پی ایس ایل چیف بھی کوئی رقم وصول نہیں کی، ویسے یہ بات سب جانتے ہیں کہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے نجم سیٹھی چیئرمین نہ بن سکے تو طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی تشکیل دی گئی۔

شہریارخان بیچارے ڈمی چیئرمین بن گئے اور اصل اختیارات نجم سیٹھی کے پاس ہی تھے، ہر فائل انہی کی میز سے گزر کر آگے جاتی تھی، یہ اعدادوشمار ان کے خاص الخاص چیف فنانشنل آفیسر نے تیار کیے، اگر اس میں واقعی کوئی غلطی ہے تو بورڈ کو تحقیقات کرانی چاہیے کہ کہیں دانستہ کسی کو فائدہ پہنچانے کیلیے تو ایسا نہیں کیا گیا، سی او او سبحان احمد کو ہمیشہ پی ایس ایل کے معاملات سے دور رکھا گیا انھوں نے بھی یقیناً کوئی الاؤنس نہیں لیا ہوگا لیکن ان کے بارے میں بھی اعدادوشمار دیے گئے ہیں، شاید آپ کو یاد ہو چند برس قبل میں نے پی سی بی گورننگ بورڈ ارکان کے اخراجات کی ایک رپورٹ دی تھی، اس میں سابق رکن پروفیسر اعجاز فاروقی کے ورلڈکپ کیلیے دورۂ آسٹریلیا پر کئی لاکھ روپے درج تھے۔

درحقیقت وہ ٹور پر گئے نہ ہی کوئی رقم لی، اس وقت میں نے کئی بار پوچھا لیکن بورڈ نے جواب دینا گوارا نہ کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو معاملات میں گڑبڑ تھی یا آفیشلز اتنے قابل نہیں ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ملک جن مسائل کی زد میں ہے انھیں چھوڑ کر وزیر اعظم عمران خان کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ وہ احسان مانی سے کہیں کہ ’’ نجم سیٹھی کے اخراجات کی تفصیلات میڈیا کو جاری کرو‘‘ انھوں نے اس میں اپنے دور کے اخراجات کی تفصیل بھی لکھی ہے، البتہ اس پر شدید ردعمل کے بعد سابق چیئرمین نے’’سیاسی انتقام‘‘ والا بیان تھوڑا جلدی دے دیا، ان کے لیے اصل مسائل پی ایس ایل کی آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے ہیں جسے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے نواز شریف کے دور حکومت اور نجم سیٹھی کی چیئرمین شپ کے دوران ہی تیار کیا تھا۔

اس میں مبینہ طور پر سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آچکیں جن کی میڈیا نے نشاندہی بھی کردی تھی، اس حوالے سے اگر مستقبل میں ایف آئی اے یا نیب تحقیقات کرے تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے، تب معاملات زیادہ سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں، چند برس قبل ذکا اشرف کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے سوال پر مرزا اقبال بیگ کے شو میں نجم سیٹھی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا ’’ او ہوہو میں تو ڈر گیا‘‘ مجھے احسان مانی کی جانب سے ایسے جواب کی ایک فیصد بھی توقع نہیں البتہ اب پینڈورا باکس کھل گیا ہے، آئندہ مزید کئی ایسی چیزیں سامنے آسکتی ہیں جو میڈیا کیلیے بریکنگ نیوز ہوں گی۔

موجودہ چیئرمین پی سی بی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ بہت آہستہ آہستہ کام کر رہے ہیں مگر شاید ہماری سوچ مکمل درست نہیں، اندر ہی اندر بہت کچھ ہو رہا ہے، البتہ انھوں نے ایک بڑی غلطی سابقہ ٹیم پر بھروسہ کر کے کی، ان کی تمام مووز کا مخالفین کو پہلے ہی پتا چل جاتا ہے جس سے مشکلات کا سامنا ہے اور آئندہ بھی کرنا پڑے گا، جب تک احسان مانی ’’مخبروں‘‘کا جال ختم نہیں کرتے انھیں مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے، ہمارے ملک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بغیر نظام نہیں چل سکتا حالانکہ یہ بالکل بھی درست بات نہیں ہے، چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر سسٹم چلتا رہتا ہے، کرکٹ میچ میں بھی آپ کو ایک باری ملتی ہے، اس میں صلاحیتوں کے اظہار کا پورا چانس ہوتا ہے، آپ اچھی بیٹنگ کریں اورخوب اسکور کریں ہر طرف واہ واہ ہو گی۔

پھر جب اننگز ختم ہو تو دوسرے کو بھی کھیلنے دیں، میچ کے بعد علم ہو جائے گا کہ کس کی پرفارمنس زیادہ اچھی رہی، کوئی بات چھپی نہیں رہے گی، بجائے شور مچانے کے عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ کون زیادہ عمدہ کھیلا، احسان مانی کو ابھی چند ہی ماہ ہوئے ہیں انھیں وقت دینا چاہیے لیکن بدقسمتی سے جیسے عمران خان سے لوگ توقع کر رہے ہیں کہ وہ آتے ہی جادو کی چھڑی گھما کر ملک کے تمام مسائل حل کر دیں گے ویسا ہی چیئرمین پی سی بی کے ساتھ بھی ہے، وزیر اعظم کو اپوزیشن کے لوگ پریشان کر رہے ہیں ویسے ہی مانی صاحب کو ان دیکھی اپوزیشن کا سامنا ہے، امید ہے کہ دونوں ہی ان معاملات سے خوش اسلوبی سے نمٹ کر اچھے کام کریں گے جنھیں یاد رکھا جائے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔