شہزادہ محمد بن سلمان اصلاح پسند ہیں؟

عبید اللہ عابد  اتوار 4 نومبر 2018
ناقدین مشرق وسطیٰ میں یورپ بسانے کے منصوبہ ساز کو اقتدارکا بھوکا تصور کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ناقدین مشرق وسطیٰ میں یورپ بسانے کے منصوبہ ساز کو اقتدارکا بھوکا تصور کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

چوبیس مارچ 2018ء  کو عرب دنیا کے معروف ترین ٹی وی چینل ’’الجزیرہ‘‘ میں ایک پروگرام ’’اپ فرنٹ‘‘ نشر ہوا۔ اس میں تین مہمانوں کو بلایا گیا تھا، جن میں ایک سعودی صحافی جمال خشوگی بھی تھے جنہیں چند ہفتے قبل استنبول (ترکی) میں قائم سعودی قونصلیٹ میں مبینہ طور پر قتل کردیاگیا، بعدازاں ان کی لاش کو قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے قریب ایک خالی جگہ پر دبا دیا گیا۔

ٹی وی پروگرام میں ایک اہم ترین سوال پر بحث ہو رہی تھی کہ کیا 32 سالہ  سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان واقعی اصلاح پسند (ریفارمر) ہیں؟ دراصل ان دنوں ’’ایم بی ایس‘‘ (مغربی دنیا میں محمد بن سلمان کو اسی نام سے لکھا اور پکاراجاتا ہے) مختلف ممالک کے دوروں پر جا رہے تھے اور وہاں ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اپنے ملک میںکرپشن کے خلاف مہم چلانے اور خواتین کے حق میں اصلاحات متعارف کرانے والے ہیں۔

ایسے میں بعض لوگوں نے بن سلمان کو ’’انقلابی‘‘ قرار دینا شروع کر دیا لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں نے ایم بی ایس کے بعض اقدامات پر تحفظات ظاہر کرنا شروع کردیے جن کے تحت وہ اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں جبکہ ان کے مطابق یمن میں ہونے والے  جنگی جرائم میں بھی ایم بی ایس  کے احکامات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

ٹی وی پروگرام میں جمال خشوگی (جنھوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی اور اُن دنوں امریکا میں قیام پذیر تھے) نے بتایا کہ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں سعودی علما، دانشور اور صحافی جیلوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں، یہ محمد بن سلمان ہی تھے جنھوں نے  بطور ولی عہد منصب سنبھالنے کے فوراً بعد چار وزراء اور گیارہ شہزادوں کو قید میں ڈال دیا۔ اگرچہ انہوں نے تاثر دیا کہ ان لوگوں کی گرفتاری کا سبب بدعنوانی ہے تاہم ان کے اس دعوے کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

نقاد محمد بن سلمان کو اقتدار کا بھوکا تصور کرتے ہیں، اس ہوس میں وہ اپنے خاندان کے متعدد اہم اور موثر افراد کو عتاب کا شکارکر چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق خاندانی اور کاروباری شخصیات کی تعداد قریباً 200 ہے۔ انھیں تب رہائی ملی جب انھوں نے اربوں ریال ولی عہد کے قائم کردہ انسداد بدعنوانی بورڈ کے حوالے کئے۔

یاد رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز ملک کے بادشاہ بنے تو محمد بن سلمان  اقتدار کی سیڑھی میں تیسرے نمبر پر کھڑے تھے لیکن وہ زیادہ انتظار نہ کر سکے، اپنے والد سے شاہی فرمان جاری کرایا، ولی عہد محمد بن نائف کو برطرف کرایا اور خود جون 2017ء میں ولی عہد کی کرسی پر جا بیٹھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد انھوں نے بادشاہ کے اختیارات بھی استعمال کرنا شروع کر دیے، ان سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی۔

محمد بن سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی 2030ء کا منصوبہ متعارف کرایا۔ بعض حلقے کہتے ہیں کہ اس منصوبے میں مخالفین کو ٹھکانے لگانا بھی شامل ہے۔ انھوں نے اس منصوبے کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دیا۔ اس باب میں وہ امام مسجد الحرام اور امام مسجد نبوی کو بھی خاطر میں نہ لائے۔ اگست 2018ء میں امام مسجد الحرام الشیخ ڈاکٹر صالح بن محمد الطالب کے بارے میں خبریں منظرعام پر آئیں کہ انھیں محض اس بنیاد پر گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاگیا کہ انھوں نے کنسرٹس اور دیگر تفریحی تقریبات میں مرد وزن کی  مخلوط محافل کو خلاف شریعت قرار دیا تھا حالانکہ انھوں نے اپنے خطبہ میں شاہی خاندان کو براہ راست بالکل بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔

سعودی حکام کا خیال تھا کہ امام مسجدالحرام کے اس خطاب کا سبب حکومت کی طرف سے قوانین میں وہ نرمی تھی جس کے نتیجے میںخواتین کو مردوں کی تقریبات میں شرکت کی اجازت دیدی گئی تھی۔ الشیخ ڈاکٹرصالح بن محمد الطالب کی گرفتاری کی خبریں سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچیں، تاہم انھیں تقویت تب ملی جب الشیخ ڈاکٹرصالح بن محمد الطالب کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔

گرفتار ہونے والے دیگرسکالرز میں سلمان العودہ بھی ہیں، عواد القرنی بھی ہیں، فرحان المالکی، مصطفیٰ حسن اور سفرالحوالی بھی ہیں۔ سلمان العودہ اور عواد القرنی کو سوشل میڈیا پر پسند کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ انھیں ستمبر 2017ء میں گرفتارکیا گیا، الزام عائد کیاگیا کہ ان کے اخوان المسلمون سے تعلقات ہیں۔ یاد رہے کہ اخوان المسلمون کو سعودی حکومت نے بلیک لسٹ کیا ہوا اور دہشت گرد قراردیا ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اخوان المسلمون کا دہشت گردی سے تعلق جوڑنے میں سعودی عرب مسلسل ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ 68 سالہ سفرالحوالی کا ’’جرم‘‘ یہ تھا کہ انھوں نے 3000 صفحات پر مشتمل ایک کتاب مسلمانوں اور جدید تہذیب کے موضوع پر لکھی جس میں محمد بن سلمان اور حکمران خاندان کے اسرائیل سے تعلقات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرکے آل سعود غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل سے متعلق سعودی موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔ امریکی اخباری جریدے دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے بظاہر اس متنازع خطے پر اسرائیلی اور فلسطینی دعوؤں کو برابر قرار دیا تھا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہودی لوگوں کو اپنے قدیمی آبائی علاقوں میں کم از کم جزوی طور پر ایک خود مختار ریاست کا حق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ تمام لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک پرامن ریاست میں رہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی اپنی زمین کا حق حاصل ہے مگر ہمیں نارمل تعلقات اور سب کے لیے استحکام کے لیے ایک امن معاہدے کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘

انھوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انھیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ رہنے پر کوئی مذہبی اعتراض نہیں جب تک کہ یروشلم کی مسجدالقدس محفوظ ہو۔ انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل میں بہت سے مفادات مشترک ہیں۔ مارچ 2018ء میں سعودی عرب نے بھارتی ائیرلائن کمپنی کو اسرائیل جانے کے لئے سعودی فضاؤں کو استعمال کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ اسی طرح اپریل 2018ء میں محمد بن سلمان نے فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ انھیں مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کی تجاویز کو تسلیم کر لینا چاہئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں نے ایک طویل عرصہ سے امن کے یکے بعد دیگرے مواقع ضائع کیے ہیں، اب انھیں  رونا دھونا بند کرنا چاہئے۔ اس تناظر میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات کس تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان  اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں کس قدر بے چین ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گزشتہ برس ستمبر میں  اسرائیل کا ایک خفیہ دورہ بھی کرچکے ہیں، جس کی تصدیق ایک اسرائیلی سرکاری افسر نے (اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر) اس خبر کی تصدیق کی تھی۔ اسے اسرائیلی اور عرب میڈیا نے نمایاں اندازمیں شائع کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹیشن  اینڈ انٹیلی جنس یسرائیل کاتز نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سعودی دارالحکومت ریاض بلائیں اور اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  شاید یہ  دن جلد آنے والاہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے  یحییٰ السری کا کہنا ہے کہ سعودی حکام ہر نمایاں شخصیت پر کڑی نظر رکھتے ہیں، حتیٰ کہ ان لوگوں پر بھی جو خاموش رہتے ہیں اور شاہی حکومت کے حامی ہوتے ہیں۔ وہ لوگ بھی محفوظ نہیں ہیں جو سعودی حکومت اور اس کے اقدامات کی خوب تشہیر کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق اب تک شاہی خاندان کے مختلف افراد کے علاوہ ملک بھر سے درجنوں آئمہ حضرات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں اب کوئی فرد بھی محمد بن سلمان کی طرف سے متعارف کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ تاہم جمال خشوگی نے کہا تھا کہ  ایم بی ایس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ تنقید کرنے والوں کو سعودی عرب میں سانس لینے کا موقع دیں۔ اسی طرح سعودی میڈیا، دانشوروں اور لکھاریوں کو اصلاحات کے موضوع پر بحث و مباحثہ کرنے کی اجازت دیں۔

خشوگی نے پروگرام میں بتایا کہ محمد بن سلمان نے 500 ارب ڈالرز سے دارالحکومت ریاض کے قریب ایک نیا شہر ’’نیوم‘‘ بسانے کا فیصلہ کیا ہے، جو تفریحی شہر ہوگا۔ اس متنازعہ منصوبے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان کس راستے پر گامزن ہیں۔ یہ شہر صوبہ تبوک میں بن رہا ہے، اگر یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو ملکی معیشت کا دیوالیہ نکل جائے گا لیکن کسی کو بھی اس منصوبے سے متعلق حقیقت پسندانہ تجزیہ لکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ’’نیوم‘‘ 344 مربع کلومیٹر رقبے پر واقع ہوگا، اس میں کھیلوں کے میدان اور ثقافتی مراکز بھی ہوں گے، یہ شہر سن 2022ء تک تکمیل کو پہنچے گا۔

دوسری طرف آل سعود خاندان بالخصوص شہزادہ محمد بن سلمان کو یمن میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے عالمی اداروں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تک یمن میں 6000 عام شہری جنگ کا لقمہ بن چکے ہیں، ان میں سے 60 فیصد  سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

اس تناظر میں شہزادہ محمد بن سلمان پہلے ہی خطے میں شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھے جاتے تھے لیکن حال ہی میں جمال خشوگی کے قتل کے بعد پوری دنیا بالخصوص عرب دنیا کے لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ ایک بڑے حلقے کا خیال ہے کہ سعودی صحافی کو شہزادہ محمد بن سلمان ہی کے حکم پر قتل کیا گیا ہے۔ ترک حکومت نے سعودی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اس شخصیت کا نام بتائے جس کے حکم پر یہ واقعہ ہوا، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سعودی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جمال خشوگی کی نعش کی بابت معلومات بھی فراہم کرے۔

گزشتہ موسم گرما میں محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کو سعودی عرب واپس لانے کے احکامات جاری کئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جمال خشوگی کو اپنے لئے خطرناک کیوں سمجھتے تھے؟ اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ وہ ایسے صحافی تھے جو قابو نہیں آ رہے تھے۔ انھیں خوفزدہ کرنا بھی مشکل تھا اور  رام کرنا بھی۔ اپنی بات پر ڈٹ جانے والا  یہ صحافی اس ’’سرخ لکیر‘‘ کو کبھی خاطر میں نہ لایا جو سعودی حکمرانوں نے کھینچ رکھی تھی۔

محمد بن سلمان ہر اس فرد کو غائب کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو ان کے منصوبوں (بالخصوص نئے شہر ’’نیوم‘‘) کی راہ میں رکاوٹ بنے۔  وہ مشرق وسطیٰ میں یورپ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جمال خشوگی نے متعدد پروگراموں میں اس منصوبے کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ اب نقاد محمد بن سلمان سے پوچھ رہے ہیں کہ یورپ اس مرحلے تک آزادی اور برداشت کو روا رکھ کر پہنچا، ان کا اپنا رویہ کیسا ہے؟ یورپ میں تو مشکل پیدا کرنے والے صحافیوں کو قتل نہیں کیا جاتا، انھیں اپنی ’’حوالگی‘‘ میں لینے کا حکم نہ دیا جاتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔