ہاتھیوں کا یتیم خانہ، مینگروز کی سُرنگیں، دریا کے بیچوں بیچ دکانیں

ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری  اتوار 4 نومبر 2018
مچھلیاں پیروں سے چمٹ جاتی ہیں، لوگ کُھل کر ہنسنے کے عادی،سری لنکا خوب صورتی اور حیران کُن مناظر کی جھلک دکھاتا سفرنامہ۔ فوٹو: فائل

مچھلیاں پیروں سے چمٹ جاتی ہیں، لوگ کُھل کر ہنسنے کے عادی،سری لنکا خوب صورتی اور حیران کُن مناظر کی جھلک دکھاتا سفرنامہ۔ فوٹو: فائل

ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے؟ کیسے ہونا ہے؟ کب ہونا ہے؟ یہ سب پہلے سے ہی لکھ دیا گیا ہے۔ اِنسان اپنی زندگی میں کیا کچھ سوچتا ہے، کیا کیا منصوبے بناتا ہے لیکن، ہوتا وہی ہے جو اوپر والا چاہتا ہے۔

ناچیز کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میں نے ایک دوست کے ساتھ رواں برس ترکی دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ ویزا مسائل کی وجہ سے ترکی کا پروگرام کینسل ہوا اور انڈونیشیا کا اِرادہ کیا۔ چند مجبوریوں کی بِنا پر اس کو بھی چھوڑنا پڑا کیوںکہ اللہ پاک نے ہماری قسمت میں سیلون کی چائے لکھ چھوڑی تھی۔ سیلون یعنی سری لنکا کے بارے میں بہت کچھ سُن رکھا تھا اور چوںکہ یہ ہمارا دوست ملک ہے۔ اِس لیے وہاں جانے کا قصد کیا۔ یہ میری زندگی کا پہلا بیرون ملک سفر تھا۔ اس لیے جوش اور بے قراری بھی عروج پر تھی۔

دن کاٹے نہ کٹتے تھے اور راتیں بھی تارے گِن گِن کر گزارنی پڑتی تھیں۔ اٹھتے بیٹھتے صرف سیلون کا ذِکر۔ خواب بی آتے تو اس میں بھی ناشپاتی جیسا یہ جزیرہ نظر آتا۔ آخر مہینوں کے انتظار کے بعد وہ لمحہ بھی آن پہنچا جب تیکھے نقوش والی، مورپنکھ سری لنکن ساڑھی میں ملبوس ایک سانولی سی دوشیزہ نے “آئی بو آن’’(آپ کی عمر دراز ہو) کہہ کر سری لنکن ایئر لائن کی پرواز میں ہمارا استقبال کیا۔ ہماری لاہور سے کولمبو کی فلائیٹ تقریباً ساڑھے تین گھنٹوں پر محیط تھی۔ پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر جب جہاز نے ’’بندرانائیکے انٹرنیشنل’’ کے رن وے کو چھوا تو ایک خوش گوار کیفیت حواس پر طاری ہو گئی۔

یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ جانے سے پہلے سری لنکا کے بارے میں میرے خیالات بالکل ویسے تھے جیسے جنوبی ایشیا کی کسی بھی ریاست کے بارے میں ہو سکتے ہیں۔ یعنی اندھیر نگری۔ لیکن سری لنکا کے پہلے نظارے نے ہی میری توقعات کا محل زمین بوس کر دیا۔ بندرانائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا بھر کے سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ مشرق، مغرب، شمال اور جنوب سے لوگ سری لنکا اْمڈ آئے تھے جو مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ اس ملک میں کچھ تو خاص ہے۔

سری لنکا کے چوتھے وزیرِاعظم کے نام پر رکھا گیا بندرا نائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جنوبی ایشیا کے اس چھوٹے سے جزیرے کا سب سے بڑا اور مرکزی ایئرپورٹ ہے جو نہ صرف سری لنکن پرچم بردار قومی فضائی کمپنی ’’سری لنکن ایئرلائن’’ بلکہ مقامی کمپنی سینامون (Cinnamon) کی پروازوں کا بھی گڑھ ہے۔

یہ ایئرپورٹ صدر مقام کولمبو سے 32 کلومیٹر شمال میں ’’نیگومبو‘‘ نامی شہر میں واقع ہے۔

اب میں آپ کی اس سحر انگیز سر زمین سے ملاقات کرواتا ہوں۔

ہِند ساگر کا یہ چھوٹا سا جزیرہ جسے ’’ مشرق کا آنسو‘‘، ’’سراندیپ‘‘، ’’سیلون‘‘، ’’رتنا دیپ‘‘ اور ’’بحرِہند کا موتی‘‘ سمیت نہ جانے کتنے ناموں سے پُکارا جاتا رہا ہے، بھارت کے جنوب مشرق میں خطِ اِستوا سے کچھ درجے شمال میں واقع ہے۔ ’’خلیجِ منار‘‘ اور ’’آبنائے پالک‘‘ اسے بھارت کے جنوبی حصے سے جُدا کرتی ہیں۔ یہ دنیا کا 24 واں بڑا جزیرہ ہے۔ سری لنکا کا پورا اور سرکاری نام ’’جمہوری و اِشتراکی جمہوریہ سری لنکا‘‘ ہے جس کا کْل رقبہ 65،610 مربع کلومیٹر ہے۔ زیادہ سے زیادہ لمبائی 432 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 224 کلومیٹر ہے۔ جزیرے کی آبادی لگ بھگ سوا دو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ اِن میں 70 فی صد بدھ مت کے ماننے والے، 12 فی صد ہندو، 10 فی صد مسلمان ، 7 فی صد عیسائی اور بقیہ مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں۔

ملک کو 9 مختلف صوبوں اور 25 ضلعوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ملک کے شمالی کونے میں سری لنکن تامل، مشرق میں سری لنکن مُور، انڈین تامل جنوب وسطی جب کہ سنہالی ملک کے جنوب، مغرب اور وسطی حِصے میں آباد ہیں۔ سنہالی ملک کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہیں۔ تامل اور سنہالی قومی زبانیں ہیں، جب کہ انگریزی بھی بڑے پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ کولمبو وفاقی دارالحکومت ہے۔

سری لنکا کی تاریخ بہت پرانی ہے جس میں لگ بھگ 2،550 سال کی تاریخ باقاعدہ طور پر تسلسل کے ساتھ کاغذ کے سینے میں محفوظ ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس جزیرے کی تاریخ ہمیں قدیم ہندوستانی کتابوں اور ویدوں جیسے رامائن میں بھی ملتی ہے جس میں اس جزیرے کو ’’لنکا’’ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جب آسمان سے زمین پر بھیجے گئے تو ’’سراندیپ‘‘ میں انھوں نے پہلا قدم رکھا جس کا نشان سری لنکا کے پہاڑ ’’آدم کی چوٹی‘‘ (ADAM’S Peak) پر پائے جانے کی روایات ملتی ہیں۔ اس پہاڑ کی بلندی 797 فٹ ہے اور روایات کے مطابق یہاں حضرت آدم علیہ السلام کے قدم کا نشان بھی موجود ہے، جسے بدھ اور ہندو بھی اپنے اپنے نجات دہندہ کا نشان مان کر پوجتے ہیں۔

6 صدی قبلِ مسیح میں اس جزیرے پر سنہالیوں کی آمد شروع ہوئی۔ امکان غالب ہے کہ یہ ہندوستان سے یہاں آئے تھے۔ اس سے قبل 3 صدی قبلِ مسیح میں بدھ اِزم یہاں متعارف ہو چکا تھا، جس کے بطن سے بڑی بڑی اور عظیم تہذیبوں نے جنم لیا جو انورادھا پورا (200 قبلِ مسیح سے 1000) اور پولونارووا (1070 تا 1200) کے علاقوں میں واقع تھیں۔ ان کے علاوہ گمپولا، کینڈی اور جافنا کی سلطنتیں بھی اہمیت کی حامل رہی ہیں۔

پرتگالی سب سے پہلی قوم تھی جس نے 1505 میں اس جزیرے پر نوآبادیاتی نظام قائم کیا۔ سولہویں صدی میں پرتگیزی قبضے کے بعد اس خوب صورت جزیرے اور اس کے وسائل پر ولندیزیوں کی رال ٹپکی اور یوں بحرِہند کا موتی 1658 میں یورپ کے اس ظالم سنار کی جھولی میں آن گِرا۔ 1796 میں جزیرے کا کچھ ساحلی حِصہ انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا اور آہستہ آہستہ 1815 میں سری لنکا تاجِ برطانیہ کا حصہ بن گیا۔

اہم بحری راستوں کے سنگم پر ہونے کی بدولت سری لنکا مختلف ایشیائی تہذیبوں اور خِطوں کی ثقافت سے روشناس ہوا۔ قدیم یونانی جغرافیہ دانوں نے اسے ’’ٹیپروبین‘‘ کے نام سے پکارا جب کہ عربوں نے اسے ’’سراندیپ‘‘ کے نام سے یاد کیا۔ انگریزوں نے اسے مشہورِ زمانہ ’’سیلون‘‘ کا لقب دیا۔ 1948 میں اپنی آزادی کے 24 سال بعد، 1972 میں سیلون کا نام دوبارہ سری لنکا رکھ دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سری لنکا ایشیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر تینوں بڑی یورپی طاقتوں ( پرتگیزی، ڈچ، برطانوی) نے ایک کے بعد ایک حکومت کی۔

سری لنکا کی تاریخ کا سب سے سیاہ دور 1983 سے 2009 کی خانہ جنگی کا ہے۔ جب ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں ’’تامل ٹائیگرز‘‘ نے تباہی مچارکھی تھی۔ 26 سال کی متواتر گوریلا کارروائیوں کے بعد 19 مئی 2009 کو یہ جنگ، تامل ٹائیگرز کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اپنے اِختتام کو پہنچی اور سری لنکا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہاں کے عوام آج بھی اس خونی جنگ کے ذکر سے لرز جاتے ہیں۔ آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں کہ پاکستان نے اس جنگ میں سری لنکن حکومت کی بہت مدد کی۔ حکومتِ پاکستان نے نہ صرف سری لنکن فوج کو ہتھیار فراہم کیے بلکہ جدید خطوط پر انکی تربیت کا بھی اہتمام کیا۔ سری لنکن آج بھی اس بات پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

یہاں سے میں اپنی داستانِ لنکا شروع کرنا چاہوں گا۔ بندرانائیکے انٹرنیشنل سے ہم اپنے گائیڈ کے ہمراہ سیلون کی سیر کو نکل کھڑے ہوئے۔ ہم نے ایئرپورٹ سے ہی تازہ دم ہو کر کینڈی کے لیے اپنا سفر شروع کیا۔ پہلی ہی نظر میں اس ملک کی خوب صورتی آنکھوں کے راستے روح میں اْتر گئی۔ سڑک کے دونوں جانب لہلہاتے دھان کے کھیت، پام کے اونچے اونچے درخت، کیلے اور انناس کے باغات، تاحدِ نگاہ پھیلا گیلا سبزہ، چھوٹے بڑے ندی نالے، بادلوں بھرا نیلگوں آسمان، صاف ستھرے مکان اور ان سب کے بیچ گزرتی تارکول کی پتلی سی مگر پُختہ سڑک۔ جیسے جیسے ہم شمال مشرق کی جانب بڑھتے جا رہے تھے، زمین سطحِ سمندر سے بلند ہوتی جا رہی تھی، سبزہ اور گھنا جب کہ ہوا میں خنکی بھی بڑھ رہی تھی۔ دِن کے کوئی دس بجے ہم کیگالی سے ہوتے ہوئے ’’پینّاوالا‘‘ پہنچ گئے۔

پینّاوالا، ضلع کیگالی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو لبِِ دریا واقع ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا ہاتھیوں کا یتیم خانہ (Pinnawala Elephant Orphanage) ہے جہاں تین نسلوں کے لاوارث، یتیم اور معزورہاتھی حکومتی سرپرستی میں پرورش پا رہے ہیں۔ 25 ایکڑوں پر محیط اس نیشنل پارک کو محکمۂ جنگلی حیات نے 1975 میں جنگلی اور آوارہ ہاتھیوں کے تحفظ اور بہتر پرورش کے لیے بنایا تھا۔

یہاں داخل ہوتے ہی حیرت انگیز نظارہ دیکھنے کو ملا۔ چھوٹے چھوٹے معصوم ہاتھی یہاں وہاں آزادانہ دوڑ رہے تھے جب کہ کچھ کو بوتل سے دودھ پِلایا جا رہا تھا۔ خُدا کی قدرت کا نظارہ یہاں اپنے عروج پر تھا۔ پھر کچھ فاصلے پر دریائے ’’اویا’’ واقع ہے جہاں دن میں دو دفعہ اس نرم اور عظیم الجثہ مخلوق کو نہلایا جاتا ہے۔ صبح10 بجے اور دوپہر2 بجے یہ ہاتھی مہاوتوں کی زیرِنگرانی پارک سے نکل کر، شہر کے بازاروں میں پریڈ کرتے اور دھماچوکڑی مچاتے ہوئے دریا تک جا پہنچتے ہیں۔ جہاں ایک پمپ سے پانی کی تیز دھار ان پر ماری جاتی ہے۔ کچھ ہاتھیوں کو دریا میں لٹا کر برش سے رگڑ کر نہلایا جاتا ہے۔ یہ دریا زیادہ گہرا نہیں ہے۔ ہاتھی مزے سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس غُسل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح یہ نظارہ دیکھنے دریائے اویا کے کنارے جمع تھے۔ سب اس حقیقت سے واقف تھے کہ دنیا میں یہ نظارہ شاید ہی کہیں اور دیکھا جا سکے۔ یہاں مختلف دکانوں پر ہاتھیوں کے مجسمے، کی چین، تصاویر اور پرنٹد شرٹس فروخت کی جا رہی تھیں جنہیں سیاح بس دیکھ کر ہی آہیں بھر رہے تھے۔ اگرچہ سری لنکا کی کرنسی پاکستان کے مقابلے میں کافی کم ہے (ان دنوں ایک سری لنکن روپے 160 امریکی ڈالر کے برابر تھا) لیکن یہاں منہگائی اپنے عروج پر ہے۔ ہم پاکستانی جو اپنے ملک میں منہگائی کا رونا روتے نہیں تھکتے یہاں آکر اپنے ملک کو نہایت سستا خیال کرتے ہیں۔

پینّاوالا کے بعد ہماری اگلی منزل وسطی سری لنکا کا خوب صورت پہاڑی شہر ’’کینڈی‘‘ تھا۔ کینڈی کو جانے والے پہاڑی راستے سری لنکا کے حسین ترین راستوں میں سے ہیں۔ صاف ستھرے اور گھنے درختوں سے اٹے ہوئے۔ سری لنکا میں کچرا وہ واحد چیز تھی جو بہت تلاش کے بعد ہی کہیں ملتی تھی۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سری لنکن قوم جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ، باشعور، وقت کی پابند، صاف ستھری اور قانون پسند قوم ہے۔ زیادہ تر افراد متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی آمدنی کا انحصار زرعی اجناس اور پھلوں پر ہوتا ہے۔ یہاں بھی پاکستان کی طرح جگہ جگہ سڑک کنارے رنگ برنگے پھلوں کے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔

خیر تو بات ہو رہی تھی کینڈی کی۔

کینڈی کی سلطنت برٹش راج سے پہلے سری لنکا کی آخری سلطنت تھی جس پر ’’شری وکرما راجاسنگھے‘‘ نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ 1815 میں اس سلطنت کا خاتمہ ہوا اور کینڈٰی سلطنت انگریزوں کے زیرِانتظام آگئی۔ کینڈی شہر اس کا دارالسلطنت تھا۔

سطح مرتفع کینڈی، کوہِ نکلس اور کوہِ ہتانا کی پہاڑیوں کے سنگم پر واقع وسطی صوبے کے اس صدر مقام کو سری لنکا کے سب سے بڑے دریا ’’ماہاویلی‘‘ نے گھیر رکھا ہے۔ یہ شہر سری لنکن ثقافت، ادب، فنونِ لطیفہ، موسیقی، رقص اور روحانیت کا مرکز ہے۔ یہ ثقافت قدیم شاہی دور میں خوب پھلی پھولی ہے۔ یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ کینڈی شہر سیلون کے جسم میں دِل کی مانند دھڑکتا ہے۔ یہ شہر دیکھنے والے کو بہت کچھ پیش کرتا ہے۔ ولندیزی اور انگریزی دور کی خوب صورت شاہ کار عمارتیں اس شہر کی پہچان ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے انسان قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں گھوم رہا ہو۔ کینڈی کا رقبہ 27 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی مجموعی آبادی 125,400 افراد پر مشتمل ہے اور یہ شہر 500 میٹر سطح دریا سے بلندی پر واقع ہے۔ یہ شہر سری لنکا کی آخری شاہی سلطنت ’’کینڈی کنگڈم‘‘ کا پایۂ تخت تھا۔ شہر کے عین وسط میں 1807 میں شری وکرما راجاسنگھے کی بنائی گئی کینڈی جھیل واقع ہے جسے مقامی لوگ ’’دودھ کا سمندر‘‘ بھی کہتے ہیں۔ شفاف پانی کی یہ جھیل دیکھنے والے کی نظر کو قید کر لیتی ہے۔ اسی جھیل کے کنارے کینڈی کی سب سے مشہور جگہ ’’مقدس دانت کا مندر‘‘ (Temple Of The Sacred Tooth) واقع ہے۔

’’شری دالدا مالی گاوا‘‘ یا متبرک دانت کا مندر، نہ صرف سری لنکا بلکہ بدھ مذہب کا مقدس ترین مندر ہے جسے 1988 میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔ یہ مندر سیلونی ورثے کے جڑاؤ تاج میں ایک بیش قیمت نگینے کی طرح جگمگا رہا ہے۔ اس مندر کو باہر سے ہی دیکھ کہ یوں لگتا ہے جیسے آپ کسی قدیم بدھ سلطنت میں آ پہنچے ہیں۔ جگہ جگہ لہراتا پانچ رنگوں پر مشتمل بدھ مت کا پرچم اور آسن جمائے گوتم بدھ ہر جگہ آپ کا دل کھول کر استقبال کرتے ہیں۔ مندر میں زائرین اور سیاحوں کو مکمل لباس پہن کر ہی جانے دیا جاتا ہے۔

کئی یورپی سیاح یہاں نیکروں کے اوپر سری لنکن لنگی (جومندر کے دروازے سے بہ آسانی مل جاتی ہے) پہنے ہوئے ملتے ہیں۔ مندر کے اندر جگہ جگہ آپ کو پھول بیچنے والے ملیں گے۔ بُدھ مذہب میں عبادت کے دوران بُدھا کو چڑھاوا چڑھایا جاتا ہے، جس میں پھولوں کے علاوہ دودھ، شربت، پھل اور مٹھائیاں شامل ہیں۔ اس مندر کی تعمیر میں قدامت اور جِدت ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔ جہاں پُرانے ساگوان کی لکڑی کی چھتیں، قدیم طرز کے نقش و نگار، پتھروں کی مورتیاں اور چوبی دریچے ملتے ہیں، وہیں شطرنجی فرش، بیش قیمت قندیلیں، جالی دار پردے اور دیواروں پر ٹنگی نت نئی قد آور تصاویر بھی اپنی بہار دِکھا رہی ہیں۔ مندر میں جگہ جگہ ہاتھی دانت اور گوتم بُدھا کے مجسمے رکھے گئے ہیں۔ ایک بڑا ہال عبادت کے لیے مختص ہے جہاں کیسری رنگ کا لباس پہنے بدھ بھکشو چوکڑی مار کر اپنی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ اب بات چِھڑ ہی گئی ہے تو آپ کو ان کی عبادت کا طریقہ بھی بتائے دیتے ہیں۔

بدھ مت میں عبادت زیادہ تر غوروفکر اور مراقبے پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ آنکھیں بند کر کے دھیان لگاتے ہیں اور مخصوص منتروں کا جاپ کرتے ہیں۔ ان کی عبادت ہندوؤں سے مشابہت ضرور رکھتی ہے لیکن اُن سے مختلف ہے۔ یہ خدا سے نہیں مانگتے نہ اس کی رحمانیت کو پُکارتے ہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ ایشورتا یا رحمانیت انسان کے اندر ہوتی ہے۔ یہ گوتم بدھ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل پیرا ہوکر اپنے تصوف کو جگانے کی کوشِش کرتے ہیں۔ یہی ان کی عبادت کا حاصل ہے۔ بدھسٹ دن میں دو بار عبادت کرتے ہیں۔ صُبح اور سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بدھ ازم میں کسی خاص چیز کے کھانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن زیادہ تر لوگ گوشت (ماسوائے مچھلی اور مرغی کے) کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ تبھی ہمیں سری لنکا میں کتوں، بندروں اور چوہوں کی بہتات نظر آتی ہے۔

چہار جانب سے تالاب میں گِھرے اس مندر سے باہر نکلیں تو ساتھ ہی کینڈی کا شاہی محل جلوہ افروز ہے۔ اس محل کا مرکزی حصہ ہی باقی بچا ہے۔ یہ محل اور مندر ایک ہی کمپلیکس کا حِصہ ہیں جس میں ایک میوزیم اور پگوڈا بھی شامل ہیں۔ یہاں کی قدیم روایات کی مطابق ریاست کا راجا ہی ان متبرک مقامات کا محافظ ہوتا ہے۔ جس دن ہم اس مندر کو دیکھنے گئے اسی دن تھائی لینڈ کے وزیرِاعظم بھی اس مندر کے دورے پر تھے، لیکن کیا مجال کہ کوئی پروٹوکول، ٹریفک بلاک، دھکم پیل نظر آئی ہو۔ اپنے وطن کی بہت یاد آئی کہ وہاں حالات ہی کچھ اور ہیں۔ شاید اسی لیے یہ قوم ہم سے بہت آگے ہے۔

اْس شام ہمیں کینڈی اور سیلون کی ثقافت کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع ملا۔ گائیڈ نے بتایا کہ آج شام 5 بجے یہاں ایک ’’کلچرل ڈانس شو‘‘ ہے جو کینڈی کی ریڈکراس بلڈنگ میں منعقد ہونا تھا۔ ہم نے ٹکٹ خریدے اور ہال میں جا بیٹھے۔ پورے ہال میں ہم دو کے علاوہ کوئی ایشیائی باشندہ نہیں تھا۔ یورپی باشندے یہ پروگرام دیکھنے کے لیے امڈ آئے تھے۔ یہاں کینڈین اور جنوبی سری لنکا کے مختلف رقص پیش کیے گئے، جن کا احوال آگے پیش کروں گا۔ شام کینڈی شہر میں آوارہ گردی کرتے گزری۔ کینڈی کلاک ٹاور اور مختلف چھوٹے چھوٹے مندر اور چرچ دیکھتے دیکھتے رات آن پہنچی۔ کینڈی کی رات کسی یورپی شہر سے کم نہ تھی۔

روشنی میں نہائی برٹش اور ڈِچ طرز کی پرانی عمارتیں، کینڈی کی سُرخ رنگ کی نئی نویلی بسیں، صاف سُتھری سڑکیں، دور پہاڑی پر آسن جمائے بُدھا کا وشال مجسمہ، کینڈی کی جھیل میں جگمگ کرتی روشنیاں، چھوٹے چھوٹے چرچ، منہگے ہوٹل اور ریستوراں، لہراتے ہوئے سیلونی پرچم اور اوپر سے ہلکی ہلکی رِم جھم کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں، کینڈی کسی خواب سے بالکل بھی کم نہ تھا۔

اگلے دن کے پروگرام میں سیفانی اور پیرادینیا کا شاہی باغ شامل تھا۔ سب سے پہلے ہم سیفانی کے مرکزی اسٹور پر گئے۔ سیفانی، سری لنکا کا مشہور ترین جواہرات اور زیورات کا برانڈ ہے۔ ان کے مرکزی اسٹور کی بالائی منزل پر سیاحوں کے لیے ایک قیمتی پتھروں کا میوزیم اور ایک چھوٹا آڈیٹوریم بنا ہے جہاں سیاحوں کو سری لنکن جواہرات اور پتھروں کی تاریخ پر بنی ایک ڈاکیومنٹری دکھائی جاتی ہے۔ میوزیم میں برازیل ، مراکش، آسٹریلیا، پیرو، جنوبی افریقہ، کولمبیا، سری لنکا، کانگو، مڈغاسکر، انڈیا اور برما سے نکالے جانے والے قیمتی پتھر رکھے گئے ہیں۔ یہاں دکھائی جانے والی ڈاکیومنٹری کے مطابق سری لنکا کو ’’رتنا دیپا‘‘ یعنی جواہرات کا جزیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ رتنادیپ کی وجہ تسمیہ یہاں سے نکلنے والے بیش قیمت جواہرت اور پتھر ہیں۔

مشہور سیاح ’’مارکوپولو‘‘ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس جزیرے پر دنیا کے بہترین نیلم، پُکھراج اور فیروزے ملتے ہیں۔ لنکا کی دلدلیں، دریاؤں کے تل اور ریت لعل و یاقوت اْگلتی ہیں۔ اس ملک کی زمین اور اس کی ساخت انتہائی قدیم ہے۔ 90 فی صد سے زائد چٹانیں ہزاروں سال پُرانی ہیں۔ زیادہ تر جواہرات جنوبی و وسطی پہاڑی سلسلوں سے نکالے جاتے ہیں۔ اور یہیں جنوب میں ہی ’’رتنا پورہ‘‘ Rattnapura واقع ہے جو سیلون میں ’’جواہرات کے شہر‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بیشتر جواہرات اسی علاقے سے نکالے جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سری لنکا کے کل زمینی رقبے کا 25 فی صد حصہ اپنے اندر جواہرات کے ذخائر لیے ہوئے ہے۔ جواہرات اس ملک کے زرِمبادلہ کا اہم حصہ ہیں۔ یہ انڈسٹری پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے طور پر چلائی جاتی ہے۔

یہ تو تھی جواہرات کی تاریخ۔ اس کے بعد ہمیں اسٹور دِکھایا گیا جہاں سیلزمین نے بہت کوشش کی کہ ہم کچھ نہ کچھ خرید لیں مگر ہم پاکستانی بھی بہت ڈھیٹ ہیں ایک بار جو فیصلہ کر لیا اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ ہم کام یابی سے خالی ہاتھ ہی سیفانی سے اپنی جیبیں بچا کہ نکل آئے۔ اگلی منزل پیراڈینیا کا شاہی نباتاتی باغ ( Royal Botanical Garden) تھا۔ پیراڈینیا کینڈی کا ایک نواحی قصبہ ہے جو شہر سے چند کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ 147 ایکڑ پر محیط اس نباتاتی باغ میں سالانہ دو لاکھ سیاح آتے ہیں۔ لنکا کے سب سے بڑے دریا ’’مہاویلی‘‘ کے کنارے واقع یہ باغ اپنے آرکائیڈ (Orchids) کے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہاں مختلف پودوں اور جڑی بوٹیوں کی 4000 سے بھی زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں جن میں بانس، لونگ، دار چینی، آرکائیڈ اور پام کے درخت سرِفہرست ہیں۔

یہاں سے نکل کہ ہم اپنی اگلی منزل ’’بینٹوٹا‘‘ کی جانب روانہ ہوئے۔ گاڑی سری لنکا کی ہائی وے A.1 پر فراٹے بھر رہی تھی جب موانیلا سے کیگالی کے راستے میں ایک جگہ ہمارے گائیڈ نے کِتابی شکل کی ایک چوٹی دکھائی۔ 798 میٹربلند اس چوٹی کا نام ’’بائیبل پیک‘‘ (Bible Peak) تھا۔ یہ اس علاقے کی مشہور چوٹی ہے۔ بنٹوٹا پہنچنے سے پہلے ہمارے گائیڈ نے ایک جگہ بریک لگائی اور اترنے کو کہا۔ یہ ’’پیراڈائز سپائس اینڈ ہربل گارڈن‘‘ تھا۔ جہاں سیلون میں پائے جانے والے تمام مسالاجات اور جڑی بوٹیاں اْگائی جاتی ہیں۔ یہاں ان جڑی بوٹیوں سے طبی مقاصد کے لیے تیل، بام، لوشن اور سفوف تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں میں نے پہلی بار جائفل، کالی مرچ، جنگلی انناس، لونگ، دار چینی اور جاوتری سمیت بے شمار نئے قسم کے پودوں اور جڑی بوٹیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس باغ کے اندر ہی ایک دوکان میں مختلف بیماریوں کی لیے روغن اور بام وغیرہ بیچے جا رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ تھکن دور کرنے کے لیے مساج کا بھی انتظام تھا۔ ہم نے یہاں بھی اپنی جیبیں بند ہی رکھیں کہ سری لنکا میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ یہاں آیورویدک اور جڑی بوٹیوں سے علاج کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اگرچہ بڑے شہروں میں اسپتال موجود ہیں لیکن دیہات میں لوگ قدرتی اور دیسی طور طریقوں سے علاج کروانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

سورج غروب ہونے سے پہلے ہم بنٹوٹا BENTOTA پہنچ گئے۔ سری لنکا کے جنوب مشرقی ساحل پر، ضلع گال کا یہ چھوٹا سا شہر کولمبو سے 65 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ سطحِ سمندر سے 3 میٹر بلند یہ شہر ’’دریائے بنٹوٹا‘‘ کے دہانے پر واقع ہے۔ بنٹوٹا گنگا (لنکا میں دریا کے لیے گنگا کا لفظ استعمال ہوتا ہے) شہر کو دو حصوں میں کاٹتا ہے۔ ایک طرف شہر کا گنجان آباد اور کاروباری حصہ جب کہ دوسری جانب پرسکون ساحلِ سمندر اور اس کے کنارے بنے خوب صورت ریزورٹ واقع ہیں۔

یہ شہر تین چیزوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ پہلی دریائے بنٹوٹا اور اس کی واٹر اسپورٹس جن میں جیٹ سکی اور سرفنگ وغیرہ شامل ہیں۔ میں نے بھی ان کا بھرپور لطف اُٹھایا ہے۔ یہ ایک یادگار تجربہ تھا۔ دوسری مشہور چیز یہاں بننے والا مشروب ’’ٹوڈی‘‘ ہے۔ ٹوڈی ایک قسم کی شراب ہے جو پام کے درختوں اور پتوں سے کشید کی جاتی ہے۔ سفید رنگ کی یہ شراب اس شہر کے غُربا کے لیے مال کمانے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہاں کی تیسری اور مشہور ترین چیز یہاں موجود خوب صورت اور صاف ستھرا ریتلا ساحل ہے جو ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ ہندساگر کی لہریں روز اس ساحل سے ٹکراتی ہیں اور اس کی ریت میں نمی کے ساتھ ساتھ مونگے اور سیپیاں چھوڑ جاتی ہیں۔ دور اُفق پر غروب ہوتے سورج کی سنہری کرنیں جب ہند ساگر کے جھلملاتے پانی پر پڑتی ہیں تو اس سے مُنعکس ہوتی روشنی دور تک پھیل جاتی ہے۔ سایہ دار پام کے درخت کے نیچے بیٹھ کر اس منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا دنیا کا ایک یادگار تجربہ ہے۔ ایک دفعہ کر کے دیکھیے گا۔

اس جگہ کی سب سے غیرمعمولی بات یہ تھی کہ جس ریزورٹ میں ہماری رہائش تھی اس کے ایک جانب سمندر اور دوسری جانب دریائے بنٹوٹا تھا۔ سامنے سمندر اور پیچھے کی جانب دریا تھا۔ ایک جانب زوروں کی ہوا چلتی تو دوسری جانب سکون۔ ایک جانب موسلا دھار بارش ہوتی جب کہ دوسری جانب بوند بوند کرکے پانی برستا تھا۔ ایک جانب سمندر کا مٹیالا پانی جبکہ دوسری جانب دریا کا نیللگوں رنگ۔ قدرت کا یہ حسین اِمتزاج دنیا میں شاید ہی کسی اور جگہ آپ کو مِلے۔

اگلی صبح ہماری پہلی منزل بنٹوٹا سے 11 کلومیٹر جنوب کی طرف ’’کوسگوڈا‘‘ میں واقع کچھووں کا حفاظتی گھر ( TURTLE CONSERVATION HOUSE) تھا۔ یہ دراصل کچھووں کی سینکچوری (انڈوں سے بچے نکلوانے کی جگہ/افزائش کی جگہ) ہے جہاں سری لنکا میں پائے جانے والے کچھووں کی پرورش اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ سری لنکا میں 5 اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں جن میں سبز کچھوا، سنگ پشت نسل کا کچھوا، لوگرہیڈ، ہاکس بِل اور زیتونی کچھوا شامل ہیں۔ ان میں سنگ پُشت نسل کا کچھوا سب سے بڑا ہوتا ہے۔ یہاں چھوٹے بچوں سے لے کرہر عمر کے کچھوے رکھے گئے ہیں۔ آپ یہاں جسمانی طور پر معزور کچھوے (اندھے، رسولی والے) بھی دیکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ان کے لیے عطیات بھی دے سکتے ہیں۔ یہاں دنیا میں پائے جانے والے کُل 5 سفید کچھوؤں ( Albino ) میں سے بھی ایک کو رکھا گیا ہے۔ یہاں کچھوؤں کی خوراک مچھلی اور گوشت پر مشتمل ہوتی ہے جو سرکار کی طرف سے دی جاتی ہے۔

یہاں سے ہو کر ہم ’’بالا پٹیا‘‘ شہر پہنچے جہاں دریائے مادُو کی سفاری (Maadu River Safari) ہماری منتظر تھی۔ مادو گنگا جنوبی لنکا کا ایک خوب صورت چھوٹا دریا ہے۔ ہندساگر میں ملنے سے پہلے دریا کا پاٹ چوڑا ہو جاتا ہے جو ایک بہت بڑی جھیل کا منظر پیش کرتا ہے، اسے ’’مادو گنگا جھیل‘‘ کہتے ہیں۔ دو چھوٹی نہریں اس جھیل کو قریبی واقع ’’رندومبے جھیل‘‘ سے ملاتی ہیں اور اس تمام پیچیدہ سے مرکب کو ’’مادو کمپلیکس‘‘ کہتے ہیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں چمکتے سورج کے نیچے آپ ماحول کو ثقافت سے باہم شیر و شکر ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ دریا اور اس کی جھیلیں ماحولیات اور ماحولی نظام کا قیمتی خزانہ ہیں۔ یہاں آپ کو دریا کے کنارے اور بیچوں بیچ 303 اقسام کے پودے اور 248 اقسام کے جان دار و پرندے ملیں گے۔ کیپٹن بوٹ ہاؤس کی طرف سے یہاں ایک بھرپور دریائی سیر کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 3000 سری لنکن روپے میں آپ پورا 1 گھنٹہ 45 منٹ اس دریائی علاقے کی سیر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مادو سفاری زندگی کا ایک حسین تجربہ ہے۔ اگر آپ سری لنکا جائیں تو ’’ضلع گال‘‘ میں واقع اس جگہ جانا مت بھولیے گا۔ دریا میں اترتے ہی آپ کو جگہ جگہ کرنا (Mangroves) کے جنگلات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں ان کی 24 اقسام پائی جاتی ہیں۔

مختلف پودوں اور جڑی بوٹیوں کی کثرت کی بدولت رنگارنگ پرندے اور جانور یہاں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سیکڑوں اقسام کی مچھلیاں، مگرمچھ، سانپ، چھپکلیاں، مرغابیاں، تتلیاں، بھنورے، کونجیں اور مختلف رینگنے والے جانور شامل ہیں۔ یہاں آگے چل کر آپ ’’دار چینی کے جزیرے‘‘ (CINNAMON ISLAND) پر پہنچتے ہیں۔ اس جزیرے کے رہائشی کثیر مقدار میں دار چینی کاشت کرتے ہیں اور اس کے بعد مختلف شکلوں میں اسے بیچتے ہیں۔ یہاں ہمیں براہِ راست دار چینی کی لکڑی کو چھیل کر اس کے سفوف سے مسالا چائے، تیل، گرم مصالحہ اور اس کی باریک شاخوں سے چٹائیاں بنا کر دکھائی گئیں۔ دارچینی کی کاشت ایک تھکادینے والا اور لمبا عمل ہے۔ دار چینی کا اک درخت 45 سال تک کارآمد رہتا ہے۔ دارچینی کا تیل مچھر بھگانے، کولیسٹرول کم کرنے، جوڑوں کے درد، ذیابطیس، ایئر فریشنرز میں خوشبو کے طور پر اور پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بے پناہ فوائد کی بدولت دار چینی سری لنکا کی برآمدات کا ایک اہم جزو ہے۔

اس جزیرے سے نکل کر ہم ایک اور جگہ پہنچے جہاں چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی مچھلیوں سے ’’فْٹ مساج‘‘ کرایا جاتا ہے، جی بالکل یہاں انسانوں کی بجائے مچھلیاں آپ کی تھکن کو دور کرتی ہیں۔ مختلف چھوٹے چھوٹے تالابوں میں جب آپ اپنے پاؤں ڈال کر بیٹھتے ہیں تو یہ سیکڑوں مچھلیاں آپ کے پیروں سے چمٹ کر انہیں چاٹتی ہیں اور ان پر دباؤ کے ذریعے آپ کو راحت پہنچاتی ہیں۔ ہے ناں مزے کی چیز۔ اس سے آگے ’’کوٹھ دوا‘‘ کے جزیرے پر زمانۂ قدیم کا ایک بدھ مندر ہے جہاں بڑا سا مجسمہ آسن جمائے بیٹھا ہے۔ اس جزیرے کے بعد دوسرے راستے سے واپسی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ 15 جزائر کے اس حسین دریا میں آپ کو وقت گزرنے کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا۔ مینگرووز/کرنا کی گھنی سرنگیں جن کے اندر سے آپ کی کشتی گزرتی ہے آپ کو ایک طمانیت کا احساس دے جاتی ہیں۔ دریا کے بیچوں بیچ بنی جھونپڑیاں اور دکانیں آنکھوں کو نہایت بھلی محسوس ہوتی ہیں۔ جہاں سیاح رک کر ناریل پانی اور انناس سے پیٹ بھرتے ہیں۔ اور آخر میں سامنے آپ دریائے مادو کو ہند ساگر میں ملتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے یہاں زندگی میں پہلی بار دریا اور سمندر کا ملاپ دیکھا جو واقعی ایک خوش گوار منظر تھا۔

اگلے دن ہماری منزل سری لنکا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر، کولمبو تھا۔لنکا کے جنوب مغربی ساحل پر آباد کولمبو، وفاقی دارالحکومت سری جے وردھنے پورا کوٹے (یہ کولمبو کا وہ حصہ ہے جہاں تمام سرکاری ادارے واقع ہیں) کے بالکل متوازی واقع ہے۔ کولمبو ایک مصروف اور روشن شہر ہے جو اپنے اندر جدید طرزِزندگی کے علاوہ قدیم تہذیبی آثار بھی سموئے ہوئے ہے۔ شہر کی آبادی تقریباً 647،100 نفوس پر مشتمل ہے لیکن کولمبو کے شہری علاقے ضلع کولمبو، گاماپا اور کالوتارا پر مشتمل ہیں، جن کی مجموعی آبادی تقریباً 56،48،000 ہے۔اس شہر کا نام کولمبو پہلی بار 1505ء میں پرتگالیوں نے رکھا اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نام کلاسیکی سنہالی نام ’’کولن تھوتا‘‘ (جس کا مطلب ‘‘دریائے کیلانی پر واقع بندرگاہ‘‘ ہے)، سے اخذ کیا گیا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کولمبو کا نام سنہالی زبان کے نام کولو۔ امبا۔ تھوتا سے اخذ ہوا ہے جس کے معنی ‘‘آم کے درختوں والی بندرگاہ‘‘ ہیں۔

کولمبو کی بڑی بندرگاہ اور مشرقی و مغربی ساحلوں پر تجارتی راہ داری کی حیثیت سے کولمبو کی اہمیت تقریباً 2000 سال سے عیاں ہے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اس شہر کو جزیرہ سری لنکا کا مرکز انگریزوں نے 1815ء میں یہاں قبضے کے بعد بنایا تھا۔ 1948ء میں آزادی کے بعد تک یہ سری لنکا کا دارالحکومت رہا، بعدازاں سرکاری دفاتر سری جے وردھنے پورا کوٹے میں منتقل کیے گئے۔ بہرحال کولمبو بدستور سری لنکا کا تجارتی مرکز ہے۔ دوسرے بڑے شہروں کی طرح کولمبو کے شہری علاقے نہایت پھیلے ہوئے ہیں اور انہیں کولمبو 1 سے 15 تک ہندسوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مرکزی شہر سری لنکا کے مشہور بینکوں، تجارتی دفاتر، ریستوانوں اور سیاحتی مقامات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی اس میں قدیم مندروں اور عمارتوں کی آمیزش بھی ہے۔ یہاں کی مشہور جگہیں گالے فیس گرین ، وہارمہادیوی پارک، گنگا رامایا مندر، لوٹس ٹاور، سیما ملاکا مندر، آزادی اسکوائر، ماؤنٹ لاوینیا بیچ اور قومی عجائب گھر ہیں۔

گنگا رمایا مندر لنکن، تھائی، انڈین اور چائینیز طرزِتعمیر کا ایک بیش قیمت نمونہ ہے جہاں عبادت گاہوں کے علاوہ لائبریری، رہائشی ہال اور میوزیم بھی بنائے گئے ہیں۔ یہ کولمبو کا اہم ترین بدھ مندر ہے۔ اس کے ساتھ ہی 19 صدی کا ایک اور مشہور بدھ مندر، سیما ملاکا واقع ہے۔ یہ مندر بیئرے جھیل (BAIRE LAKE) کے درمیان میں واقع ہے۔ اس مندر کی تعمیر سری لنکا کی ایک مسلمان کاروباری شخصیت کی مرہونِ مِنت ہے۔ یہ مندر کئی سنہرے مجسموں کا گھر ہے۔

کولمبو کا نیشنل میوزیم لنکا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے جو 1877 میں قائم کیا گیا۔ یہاں بدھ مذہب کی متبرک اشیاء کے علاوہ گوتم بدھ کے سیکڑوں سال قدیم مجسمے، کینڈی سلطنت کا تخت و تاج، ہاتھی دانت کے برتن، مختلف علاقوں کے ماسک، قدیم آبپاشی کا نظام، رتنا پورہ کے جواہرات، لنکا کے ملبوسات اور سیلون کی تاریخ سے جُڑی ہزاروں اشیاء نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ سفیدی میں نہایا یہ عجائب گھر کسی محل سے کم نہیں دِکھتا۔

چین کی طرف سے بنایا جانے والا لوٹس ٹاور، پوری طرح مکمل ہو جانے کے بعد جنوبی ایشیاء کی دوسری بڑی عمارت ہو گا۔ کنول کے پھول کی طرز پر بنایا جانے والا 350 میٹر بلند یہ ٹاور ٹیلی کمیونیکیشن اور سیاحت کے لیے استعمال ہوگا۔

اب میں آپ کو یہاں کی ثقافت اور بود و باش کے چند حسین پہلوؤں سے روشناش کرواؤں گا۔

1۔ سری لنکن دسترخوان:سری لنکا کے کھانوں میں مچھلی اور چاول کو خاص اہمیت حاصل یے۔ ان کا کوئی کھانا ان لوازمات کے بنا پورا نہیں مانا جاتا۔ اس ملک کے کھانوں میں آپ کو جنوبی بھارت (کیرالا، تامل ناڈو)، انڈونیشیا اور ڈچ لینڈ (نیدرلینڈ) کی گہری چھاپ ملے گی۔ تمام کھانوں میں ناریل، گرم مسالے، مچھلی اور چاول کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ گوشت کی نسبت سبزیاں زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مسلمان علاقوں میں گوشت پسندیدہ خوراک ہے۔

چاول کری (اُبلے چاولوں کے ساتھ مچھلی کا سالن، اچار، چٹنی اور سبزیاں)، فش کری (لنکن مسالوں سے تیار مچھلی کا لذیذ سالن)، کری بھات (ناریل کے دودھ میں بنے نمکین چاول)، کوٹو (انڈے، گوشت اور مکھن سے بنی ایک روٹی جو سبزیوں کے ساتھ پیش کی جاتی ہے)، ڈوسا (چاولوں کے آٹے اور ناریل سے بنی جالی دار روٹی)، کول (سمندری مچھلی، کیکڑے اور جھینگوں پر مشتمل جافنا کی ایک مشہور ڈش)، ملائے اچارو (سری لنکن ملائی اچار)، باباتھ ( گائے کے گوشت سے بنی لنکن ملائی ڈش) مشہور کھانے ہیں۔ اس کے علاوہ بارہا قسم کی چٹنیاں اور سوپ بھی خاصے مشہور ہیں۔ اندو، وڑا، پیٹیز، پیزا اور کوکیز نئی نسل میں مقبول ہیں۔

پھلوں میں کیلا، انناس اور پپیتا یہاں کی جان ہیں۔ آپ جہاں جائیں گے آپ کو پپیتے کے جوس سے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ جیک فروٹ، آم، انگور اور چیری بھی کھائی جاتی ہے۔

2۔ سیلون ٹی :سیلون ٹی، یہ وہ الفاظ ہیں جو سری لنکا میں آپ کو ہر جگہ سننے کو ملیں گے۔ چاہے سری لنکن ایئرلائن کی فلائٹ ہویا پھر کوئی عام سا ہوٹل یہ چائے آپ کو جگہ جگہ نظر آئے گی۔

سری لنکا کی رگوں میں چائے دوڑتی ہے، چائے یہاں کی ثقافت ہے۔ یہاں کی کوئی بھی تقریب اس مشروب کے بغیر ادھوری ہے۔ سیلون ٹی کی خاص بات یہ ہے کہ ہم نے جہاں بھی یہ چائے پی اس کا ذائقہ مختلف تھا۔ سیلون ٹی اس ملک کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ تیز قسم کی یہ چائے کم دودھ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اس کا ایک کپ ہی ہم پاکستانیوں کے چودہ طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔

1824 میں انگریز چین سے چائے کا پہلا پودا یہاں لائے، جسے پیراڈینیا کے شاہی نباتاتی باغ میں خوب صورتی کے لیے لگایا گیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے آسام اور کلکتہ سے بھی چائے کے پودے منگوائے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیلون میں بڑے پیمانے پر ان کی کاشت شروع ہوگئی اور آج سری لنکا دنیا کا تیسرا بڑا چائے پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔

3۔ رقص:بھارت کی طرح لنکن ثقافت پر بھی رقص کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ ہر تہوار اور رسم میں رقص سرایت کر چکا ہے۔ یہاں کینڈی کے ریڈ کراس ہال میں ہمیں مختلف علاقوں کے مختلف رقص دکھائے گئے جن میں درج ذیل شامل تھے:

٭پوجا ڈانس (یہ خُدا یا اپنے ڈانس گْرو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے)

٭ کوبرا ڈانس (اس میں سپیرے کی بین پر کوبرا سانپ کی حرکات کو رقص کی صورت پیش کیا جاتا ہے)

٭ ربّن ڈانس (ایک خاص ردھم پر کیے جانے والے اس رقص میں ایک ڈھول کو ہوا میں اچھال کر بجایا جاتا ہے)

٭ میورا وناما (یہ ڈانس کینڈین رسم ‘ونّم’ سے تعلق رکھتا ہے جس میں مور کی حرکتوں اور ناچ کو نفیس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں رقاص مور پنکھ سے بنا لباس پہنتے ہیں)

٭ ویس ڈانس (ویس کینڈین رقاصوں کی روایتی پوشاک ہے جسے مکمل کرنے میں 64 زیورات اور آرائشی اشیاء استعمال ہوتی ہیں۔ یہ لباس بھاری ہوتا ہے جسے مرد زیبِ تن کرتے ہیں)

٭جنوبی لنکن ماسک ڈانس (اس میں ماسک پہنے رقاص سانپ کو گرودا سے مارنے کا منظر پیش کرتے ہیں، گرودا ایک دیو مالائی پرندہ ہے)۔

4۔ صنعت و حرفت :یوں تو چھوٹے سے اس جزیرے میں بہت سی صنعتیں ہیں لیکن سیاحت، چائے، گرم مسالے اور جواہرات اس ملک کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

بغیر کسی شک کہ ’’سیاحت‘‘ اس ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں آپ کو یورپ، ایشیا، افریقہ یہاں تک کہ جنوبی امریکا اور نیوزی لینڈ کے لوگ بھی نظر آئیں گے۔ سیلون ٹی اور مسالوں ( لونگ، دار چینی، ہلدی) کے ساتھ ساتھ جواہرات اور قیمتی پتھر یہاں کی صنعت کا اہم ستون ہیں۔ ان میں زمرد، یاقوت، زرقون، فیروزہ، پُکھراج اور لعل شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل اور کوکونٹ انڈسٹری بھی کافی زرِمبادلہ کما کر دے رہی ہیں۔ ربڑ بھی ملک کی اہم پیداوار ہے۔ سری لنکا دنیا کا آٹھواں بڑا ربڑ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ دیگر صنعتوں میں تمباکو، ٹیلی کمیونیکیشن، کشتی و جہاز سازی، بینکنگ سیکٹر، انناس اور پپیتا شامل ہیں۔

5۔ گوتم بُدھ:جس طرح پاکستان میں ہمیں ہر گلی، محلے میں ایک مسجد ملتی ہے اسی طرح سری لنکا کے ہر دوسرے چوراہے پر آپ کو ’’گوتم بدھ‘‘ مسکراتے نظر آئیں گے۔ یہ یہاں کی بُدھ ثقافت کا اہم حِصہ ہیں جبھی یہاں بدھا کے مجسمے نہ صرف مندروں بلکہ بندرگاہوں، چوکوں، گلیوں، دکانوں، ہوٹلوں، بینکوں، دریا کناروں اور ساحلوں پر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ کہیں شیشے کے بکس میں براجمان تو کہیں درخت کے نیچے لیٹے ہوئے۔ حتیٰ کہ بندرانائیکے ایئرپورٹ پر بھی چوکڑی مارے بدھا آپ کا سواگت کرتے ہیں۔ سو آپ جہاں کہیں جائیں گہ آپ کو بدھا کے درشن ضرور ہوں گے۔ کہیں کہیں ان کے آس پاس کیسریا رنگ کا لباس پہنے بُدھ بھکشو بھی نظر آ ہی جاتے ہیں۔

6۔ ماسک:اس جزیرے میں جہاں درختوں اور پہاڑوں پر بسنے والی روحوں اور شیطانوں کی پوجا کی جاتی ہے اور انہیں خوش کرنے کی لیے طرح طرح کے جتن کیئے جاتے ہیں، ’’شیطانی نقاب‘‘ یا مکھوٹا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ماسک جو یہاں کے ڈراموں اور دیگر رسم و رواج میں استعمال کیے جاتے ہیں مختلف اقسام کے ہوتے ہیں، جن میں دیومالائی شکلیں، شیطانی شکل، جانوروں اور انسانوں کی اشکال شامل ہیں۔ یہ رنگ برنگے اور بیک وقت خوب صورت اور خوف ناک مکھوٹے یہاں کی ثقافت کا اہم جزو ہیں۔ جنوبی لنکا کا شہر ’’امبالانگوڈا‘‘ ماسک انڈسٹری کا مرکز ہے۔ یہاں نہ صرف زمانۂ قدیم سے شیطانی ماسک بنائے جاتے ہیں بلکہ یہاں کے شیطانی رقاص بھی مشہور ہیں۔ یہ ماسک ایک درخت کدورو کی لکڑی سے بنائے جاتے ہیں جن پر بعد میں رنگوں سے مختلف شکلیں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح بڑے ذوق و شوق سے یہ ماسک اپنے ممالک لے کر جاتے ہیں۔

7۔ لِباس:یوں تو سری لنکا کا کوئی سرکاری لباس نہیں ہے لیکن خواتین زیادہ تر ساڑھی اور بیشتر مرد لنگی پہنتے ہیں جسے ’’سارونگ‘‘ کہا جاتا ہے۔لنکن ساڑھی انڈین ساڑھی سے ذرا مختلف ہے۔ آفس میں ساڑھی کے علاوہ جینز اور لانگ اسکرٹ بھی پہنا جاتا ہے۔ مردوں میں سوتی اور ریشمی دھاری دار لنگی بہت مقبول ہے جس کے اوپر پوری آستین والی شرٹ اور قمیض پہنی جاتی ہے۔ دفتری اوقات میں پینٹ اور شرٹ کا رواج ہے جب کہ نوجوانوں میں جینز مقبول ہے۔

8۔ طرزِزندگی:آخر میں آپ کو اس قوم کی چند اہم باتیں بتانا چاہوں گا جو دیکھنے میں تو نہایت سادہ ہیں لیکن ہماری روز مرہ زندگی اور رویوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سری لنکن قوم کا طرزِزندگی نہایت سادہ ہے۔ سادہ کھانا اور سادہ پہننا۔ یہ صبح سے شام تک منہمک ہو کر اپنا کام کرتے ہیں۔ وقت کے پابند اور نظم و ضبط کے قائل ہیں۔ سڑک ہمیشہ زیبرا کراسنگ سے پار کریں گے۔ میں نے کسی لنکن کو بیچ سے سڑک پار کرتے نہیں دیکھا۔ ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ ہر ڈرائیور پیدل افراد کو زیبرا کراسنگ پر چلتا دیکھ فوراً رک جاتا ہے پھر وہ چاہے ایک مسافر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قوم کھانا ضائع نہیں کرتی۔

یہاں شرح تعلیم تقریباً 92 فی صد ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ کسی بھی تیسری دنیا کی غریب قوم کے لیے یہ شرح انتہائی حیرت انگیز ہے۔ یہاں رکشے اور ٹیکسی والے سے لے کر ٹھیلے والا تک ہر ایک آسانی سے آپ سے انگریزی میں بات کر سکتا ہے۔ شاید اس میں یہاں آنے والے سیاحوں کا بھی عمل دخل ہو۔ بہت کم لوگ انگریزی سے نابلد ہیں۔

یہاں کے لوگ کُھل کر ہنسنے کے عادی ہیں۔ یہ اجنبی سیاحوں کو دیکھ کر بھی ایسے ہنستے ہیں جیسے کوئی شناسا ہو۔ ان کی یہ عادت سیاحوں کے دلوں میں گھر کرنے کو کافی ہے۔

ایک اور اہم بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ 9 بجے کے تک تمام چھوٹے بڑے شہر بند ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کولمبو جیسا بڑا شہر بھی۔ اکا دکا لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ یہاں زندگی رات جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کے اصول کے ساتھ گزاری جاتی ہے۔ لنکن قوم دن میں کئی بار چائے کی چسکیاں لیتی ہے۔ چائے کی اتنی شیدائی شاید ہی کوئی اور قوم ہو۔ پاکستانیوں کی طرح سری لنکن بھی کرکٹ کے بہت بڑے فین ہیں اور اپنی کرکٹ ٹیم کے بارے میں بہت حساس۔

سری لنکن قوم کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس قوم میں احساسِ کمتری نام کو بھی نہیں۔ کسی کو اپنی رنگت یا غربت کے حوالے سے کوئی کمپلیکس نہیں۔ کوئی لڑکا یا لڑکی گوری چمڑی والوں کو گھور کہ نہیں دیکھتا۔ سب اپنے اپنے کاموں میں ہنسی خوشی مگن ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کے پہناوے کو بھی نہیں گھورتا۔ شاید اس لیے بھی یہ سیاحوں کا من پسند ملک ہے۔

ہم یہاں جتنی سڑکوں اور راستوں سے گزرے وہ سب صاف ستھرے تھے۔ کوڑے کا نام و نشان نہیں، حالاںکہ یہ تعلیمات تو ہمارے نبی ﷺ کی ہیں لیکن ہم ہی ان پر عمل نہیں کر رہے۔

یہ تھی اس بُدھ دیس کی یاترا جو اپنی ترقی کا سفر نہایت تیزی سے طے کر رہا ہے اور جس کا نام آج بھی دنیا کے خوب صورت اور پُرامن ممالک کی فہرست میں جگمگا رہا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔