سانپوں کے آگے دیے نہیں جلائے جاسکتے

نصرت جاوید  جمعرات 20 جون 2013

میرے چند بھائیوں جیسے پیارے صحافی دوست ان دنوں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اس بات پر بہت خفا ہیں کہ انھوں نے ذوالفقار چیمہ جیسے جی دار، اصول پسند اور ایمان دار پولیس آفیسر کو ہومیو پیتھک دوائیوں جیسی میٹھی تاثیر رکھنے والے ایک محکمے، موٹروے پولیس کا سربراہ کیوں لگا دیا۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ آئی جی بنا کر سندھ بھیج دیے جاتے تا کہ وہاں روز بروز بڑھتی ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات کو روکا جا سکے۔ سید قائم علی شاہ ان کے ایماندار اور آزاد منش رویے کے خوف سے انھیں اپنے پاس بلانے سے گھبراتے تو چیمہ صاحب کی خدمات پرویز خٹک کو بھی پیش کی جا سکتی تھیں تا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی راہ بنے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا اس افسر کو قبول نہ کرتے تو چوہدری نثار علی خان کو کم از کم انھیں اسلام آباد کا آئی جی لگا دینا چاہیے تھا۔

میں چیمہ صاحب کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ سنا ہے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھے ہیں۔ مگر میرے اس کالج میں گزرے زمانے میں کوئی اتنے نمایاں نہ تھے۔ مجھے شبہ ہے کہ نواز شریف صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے کسی زمانے میں، میں نے انھیں ایک دوبار وزیر اعظم کے دفتر کے اس کمرے میں بیٹھے دیکھا ہے جہاں سیکیورٹی پر مامور افسران بیٹھا کرتے تھے۔ آپ میں سے بہت لوگوں کی طرح میرے تک بھی ان کی شہرت میڈیا کے ذریعے آئی ہے۔ وہ ایک معاصر میں کبھی کبھار کالم بھی لکھتے ہیں۔ میں وہ کالم جب بھی چھپے بڑے غور سے پڑھتا ہوں۔ اکثر ان کے غیر ملکی دوروں کے دوران جمع کیے مشاہدات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر اس بات کا واضح اظہار بھی کہ ان کا دل پاکستان کو ایک صاف ستھرا اور ترقی کرتا معاشرہ بنانے کے لیے دھڑکتا رہتا ہے۔ وہ اس ملک کے لیے خوب صورت خواب دیکھتے ہیں اور میں ذاتی طور پر خواب دیکھنے والوں کو پسند کرتا ہوں۔ وہ نہ ہوں تو میڈیا میں سوائے مایوسی پھیلانے اور سیاپا کرنے کے اور کچھ ہوتا نظر نہ آئے۔

یہ سب کہنے کے بعد اپنی جان کی امان پاتے ہوئے یہ اصرار کرنے پر مجبور ہوں کہ ایک سرکاری افسر کو طے شدہ ضوابط کے تحت اپنے فرائض سر انجام دینا ہوتے ہیں۔ پولیس افسر کا اصل کام یہ ہے کہ وہ عادی اور دہشت پھیلانے والے مجرموں کو گرفتار کرے اور پھر ایسے لوگوں کو عدالتی قواعد کے مطابق کڑی سے کڑی سزائیں دلوانے کے لیے ٹھوس ثبوت اور گواہ اکٹھے کرے۔ اس کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں کہ ایک بھارتی فلم کے انسپکٹر چلبل پانڈے کی طرح مجرموں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے منہ کالے کرے اور پھر ان کی تذلیل اور اپنی ذاتی دہشت کے فروغ کے لیے گلی گلی پھرائے۔ یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ دن بدن بڑھتے ہوئے جرائم سے تنگ آ کر ہمارے عوام کی اکثریت طالبان جیسا فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے والے حکمرانوں اور پولیس افسروں کو خدا سے ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگ رہی ہے۔

مگر ’’دبنگ‘‘ ایس پی اور تھانے دار وغیرہ محض افراد ہوتے ہیں ادارے نہیں۔ وہ اپنی دہشت پھیلاتی شہرت کے ساتھ کسی علاقے کے انچارج وغیرہ بن کر وہاں چند دنوں کو دکھاوے والا امن و امان تو قائم کر سکتے ہیں مگر اس کو دائمی طور پر یقینی نہیں بنا سکتے۔ جرائم کی بیخ کنی اور مجرموں کو عبرتناک سزائیں دلوانے والا نظام ’’انسپکٹر چلبل پانڈے‘‘ نہیں ایک زندہ اور جاندار معاشرے کی طاقت سے بنے پولیس اور عدلیہ کے ادارے قائم کیا کرتے ہیں۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔ آنیاں جانیاں ہیں۔ صحت مند اور مہذب معاشروں کے حوالے سے متعلق روایات کے ساتھ ہی ساتھ ایک سچے اور اصول پسند سرکاری ملازم کی یہ ذمے داری بھی ہے کہ وہ اپنے فرائض ضوابطِ کار کے مطابق سر جھکا کر سرانجام دے اور میڈیا کو اپنا ڈھنڈورچی بنانے سے اجتناب برتے۔

ایک جرمن فلاسفر نے جس کا نام میں اس وقت بھول رہا ہوں کہیں لکھا تھا کہ “Secrecy is the Ethos of Bureaucracy”۔ اس فقرے کا آسان ترین ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ افسر شاہی کی اصل روح اس کی بے نامی ہے۔ ایک پکی نوکری والا سرکاری افسر اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور اپنی شہرت کے بل بوتے پر اپنے میدان میں ترقی کرنے سے پرہیز کرتا ہے۔ ’’دبنگ‘‘ شہرت رکھنے والے انتظامی افسران کی ضرورت برطانوی سامراج کو ہمارے خطے کے لوگوں میں اپنے آقاؤں، ریاست اور حکومت کا خوف پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے تھی۔ خیبر سے راس کماری تک برطانیہ سے آئے گورے افسران کی تعداد اس خطے کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ برطانوی راج کے عروج کے دنوں میں یہاں کے باسیوں کے دلوں میں لیکن خوف کی حکومت قائم تھی۔

وہ انگریز کے بنائے قانون اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے سے پہلے سو بار سوچتے۔ انگریزوں کے لارنس برادران تھے۔ ان میں سے ایک کے نام پر لاہور کا لارنس گارڈن، جسے اب باغ جناح کہا جاتا ہے، بنایا گیا تھا۔ ان بھائیوں کو جنون کی حد تک یقین تھا کہ پنجابیوں کو صرف ڈنڈے کے زور پر قانون کے تابع رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ڈھونڈے اور تربیت کردہ ’’چلبل پانڈوں‘‘ کے باوجود پنجاب وہ خطہ بھی ثابت ہوا جہاں جلیا نوالہ باغ کے بعد مارشل لاء لگانا پڑا۔ اس ضمن میں میرے پاس ان گنت انگریز افسروں کے نام اور ان سے وابستہ کہانیاں ہیں۔

مگر اس وقت میں کالم لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں کوئی مقالہ نہیں۔ ہاں آخر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ آج کل ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ہیں۔ ان کی اپنی شہرت ایک سخت گیر منتظم کی ہے اور پنجابی کا وہ محاورہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ سانپوں کے آگے دیے نہیں جلائے جا سکتے۔ خود سوچئے چوہدری نثار علی خان جیسا شخص اسلام آباد میں چیمہ کو آئی جی لگانے والا دیا کیسے جلا سکتا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔