بروقت اور مستحسن اقدام

شکیل فاروقی  منگل 6 نومبر 2018
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

شیر شاہ سوری عدل وانصاف کے حوالے سے تاریخ کا بہترین حکمران تھا ۔اس کا اصل نام فرید خان تھا وہ 1486 میں پیدا ہوا ۔ اس کا لڑکپن سہسرام میں گزرا ، بڑا ہوا تو اس نے اپنے باپ کی جاگیرکا انتظام نہایت حسن وخوبی سے سنبھالا، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا پھر اس نے  مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمت قائم کردی۔

اگرچہ اس کی حکمرانی کا دور پانچ سال سے بھی کم تھا، لیکن اس مختصر سے عرصے میں بھی اس نے وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیے جنھیں تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی۔ اس نے بڑی بڑی سڑکیں بنوائیں ، جن میں پشاور سے کلکتہ  تک جانے والی مشہور  جی ٹی روڈ سر فہرست ہے، اس نے مسافروں کے آرام کے لیے سرائیں بنوائیں اور عوام الناس کی سہولت کے لیے کنویں کھدوائے۔

اس کے دور حکمرانی میں عوام کی جان و مال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا عالم یہ تھا کہ سونے زیورات سے لدی  پھندی کوئی بھی خاتون تن تنہا بے خوف وخطر رات کے وقت بھی کسی راستے سے گزر سکتی تھی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ میلی آنکھ سے اس کی جانب نظر اٹھانے کی جرأت یا جسارت کرسکے۔

خیال رہے کہ یہ وہ دور تھا جب آج کے دورکی جدید سہولیات کے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ شیر شاہ سوری نے قانون کی حکمرانی اور عوامی انصاف کا ایسا شاندار نظام قائم کیا جو آج کے ترقی یافتہ دور میں رول ماڈل تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے قائم کیے گئے پولیس، فوج، عدلیہ اور مال گزاری کے نظام کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں ۔

اگرچہ کہنے کو شیر شاہ سوری ایک مطلق العنان حکمران تھا لیکن وہ آج کے جمہوری حکمرانوں سے لاکھ درجے بہتر تھا وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا ۔ وہ لوگوں کے حالات  بذات خود اور براہ راست معلوم کرنے کے لیے راتوں کو گشت کیا کرتا تھا۔

ایک مرتبہ اس کے ملازم خاص نے اس کی خدمت میں عرض کیا ’’بادشاہ سلامت! راتوں کو مستقل جاگتے رہنے سے آپ کی صحبت پر برا اثر پڑ رہا ہے، کیونکہ آپ نے آرام کرنا بالکل چھوڑدیا ہے‘‘ ملازم کی یہ بات سن کر شیر شاہ نے برجستہ جواب دیا ’’جب حکمران سو جاتا ہے تو جرائم پیشہ لوگ جاگ اٹھاتے ہیں۔

اس لیے حکمران کے لیے ضروری ہے کہ اگر رعایا سوئے تو وہ ان کی نگہبانی کے لیے جاگتا رہے۔‘‘ اپنے اس طرز حکمرانی کی وجہ سے بیان کرتے ہوئے شیر شاہ سوری نے جو کچھ کہا تھا، اس میں ہمارے آج کے حکمرانوں کے لیے یک سبق پوشیدہ ہے۔ اس نے کہا تھا کہ ’’مظلوم پہلے ظالم کے خلاف ہے، پھر وہ اس حکم کے خلاف ہوجاتا ہے جس کی حکمرانی میں اس پر ظلم ہوا ہو اور آخر میں وہ اس ملک کے خلاف ہوجاتا ہے ، جہاں اس پر ظلم ہوتا ہے‘‘ چنانچہ شیر شاہ سوری نے اپنی سلطنت میں یہ اعلان کر رکھا تھ کہ ’’اگر کبھی میری رعایا کے ساتھ کسی بھی طرح کی نا انصافی کی گئی تو میں رشتے داروں اور قرابت داروں کا ذرا بھی لحاظ نہیں کروںگا بلکہ نا انصافی کرنے والے کو قرار واقعی سزا دوںگا۔‘‘

شیر شاہ سوری کے بادشاہی دور حکمرانی کی یہ مثال ہمارے موجودہ جمہوریت دورکے حکمرانوں کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہے جنھیں الیکشن لڑنے کے بعد برسر اقتدار آجانے پر یہ معلوم ہی نہیں رہتا کہ جن عوام کے ووٹوں کی مدد سے انھیں مسند اقتدار تک رسائی حاصل ہوئی ہے وہ کس حال میں ہیں اور ان بے چاروں پر کیا بیت رہی ہے۔ وہ کسی شاعر کی اس فقرا صدا کو سننے سے بھی محروم یا قطعی بے نیاز ہوجاتے ہیں۔

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

ہمارے نظام حکومت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ میڈیا بالخصوص الیکٹرونک میڈیا کے اس برق رفتار ترقی یافتہ دور میں بھی عوام سے کٹ کر رہ جانے والے ہمارے جمہوری حکمران اصل حقائق اور مسائل سے ناواقف اور لاعلم رہتے ہیں اور ان کے ارد گرد جمع ان کے چمچے اور مفاد پرست جی حضوری کرنے والے ماتحت افسران ‘‘سب اچھا ہے‘‘  کہہ کر انھیں گمراہ کرکے اس وقت تک اندھیرے میں رکھتے ہیں جب تک لاوا پک نہیں جاتا اور پانی سر سے اونچا نہیں ہوجاتا۔ پھر جب آخر کار عوامی لاوا پک پک کر پھٹ پڑتا ہے تو اس وقت تک حالت کی ڈور حکمرانوں کے ہاتھوں سے باہر نکل چکی ہوتی ہے اور تب کفِ افسوس ملتے ہوئے ہی کہنا پڑتا ہے۔

اب پچھتاوت ہو وت کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

وطن عزیز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی سربراہ حکومت کو اس فرسودہ نظام کی برسوں پرانی خامی کو محسوس کرنے اور اس کے تدارک کے لیے ایک جدید اصلاحی نظام وضع کرنے کا احساس ہوا ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے نام سے اس نئے نظام کو متعارف کرانے کا سہرا پاکستان تحریک انصاف اور اس کے منتخب وزیراعظم  پاکستان عمران خان کے سر ہے۔

انھیں مخصوص اور منفرد نوعیت کے اس نے نظام کی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ نظام عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے بہت معاون ہوگا۔ ان کا کہناتھا کہ جو اس نظام سے خوش ہیں کہ کرپشن ختم ہوجائے گی ان کے لیے یہ نظام اچھا ہے، لیکن جنھیں اس نظام سے مشکلات پیش آئیںگی کہ ان کا کھانا پینا بند ہوجائے گا وہ پھر سڑکوں پر نکل کرکہیںگے ’’ مجھے کیوں نکالا؟‘‘

پاکستان کے عوام کو سرکاری محکموں اور اداروں سے ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ ان کے جائز کام بھی بروقت نہیں ہوتے اور انھیں سرکاری دفاترکے چکر پر چکر لگانے پڑتے ہیں، رشوت کا بازار گرم ہے اور عالم یہ ہے کہ بقول دلاور فگار:

لے کے رشوت پھنس گیا ہے

دے کے رشوت چھوٹ جا

سب سے زیادہ پریشانی بے چارے عام آدمی کی ہے جس کا نہ کوئی سورس ہے اور نہ سفارش، بڑے افسر تک اسے رسائی حاصل نہیں ہوتی کہ اسے اپنا دکھڑا سنائے اور اپنی شکایت اس تک پہنچائے اور اگرکسی طرح آفیسر بالا تک رسائی حاصل بھی ہوجائے تو بے چارے کو یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ بقول شاعر:

ہم نے سوچا تھا کہ حاکم سے کریںگے فریاد

وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا

عام آدمی کی مجبوریوں اور بے بسی کا بھرپور احساس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے یہ موثر نظام متعارف کرایا ہے ، اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کا کنٹرول وزیراعظم کے آفس میں ہوگا اور وہ بذاتِ خود اس کی نگرانی کریںگے۔ اس نظام کے ذریعے ملک کا کوئی بھی شہری اپنے موبائل فون کی مخصوص ایپلی کیشن کی مدد سے حکومتی محکموں تک اپنی آواز پہنچا سکے گا۔ اس کے علاوہ عوام ای میل، ٹیلی فن کال اور تحریری خطوط کے ذریعے سے بھی اپنی شکایات ازالے کے لیے حکومت تک پہنچا سکیں گے۔

ازالے کی مدت دو ہفتے تک محدود ہوگی جس کے گزر جانے کی صورت میں متعلقہ محکمے افسر سے جواب طلبی کی جائے گی، اس نظام کو صوبائی چیف سیکریٹری کے توسط سے ملک کے چاروں صوبوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا ، تاکہ وزیراعظم وفاق کے علاوہ صوبائی معاملات اور عوام کے مسائل سے آگاہ او با خبر رہیں ۔ ان کا یہ کہنا بالکل درس ہے کہ وہ محض وفاق کے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ پاکستان کے عوام اس نظام کی مدد سے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت کا احتساب کرسکیں گے۔

اس نظام کے ذریعے وزا کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ماتحت اداروں میں کہاں سست روی ہے کہاں مسائل پیدا ہورہے ہیں اور کہاں کرپشن اور رشوت خوری ہورہی ہے۔ بلا شبہ پاکستان سٹیزن پورٹل کا نظام پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک لائق ستائش بروقت اور مستحسن اقدام ہے جس کے لیے وزیراعظم عمران خان تعریف و مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نظام کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ در اصل کسی بھی منصوبے یا نظام کی کامیابی کا انحصار اس کے عمل در آمد پر ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔