شادی کے بعد۔۔۔ ہمّت کریں تو مزید تعلیم حاصل کرسکتی ہیں

مبشرہ خالد  منگل 6 نومبر 2018
یہ کہانی صرف کنزہ کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کی یہی کہانی ہے۔ فوٹو: فائل

یہ کہانی صرف کنزہ کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کی یہی کہانی ہے۔ فوٹو: فائل

کنزہ کا میٹرک میں اے ون گریڈ آیا۔ اسے ڈاکٹر بننے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس نے انٹر میں ٹاپ کیا تھا۔ اب اس کی خواہش تھی کہ میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے اور وہ اپنا ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرسکے، مگر انٹر کے رزلٹ کے بعد جب میڈیکل یونیورسٹی میں داخلے کا وقت آیا تو اس کے لیے ایک اچھا رشتہ آگیا۔

والدین نے یہ سوچا کہ اب اسے گھر داری ہی تو کرنی ہے، مزید پڑھ کر کیا کرے گی اور یوں اس کی شادی ہوگئی۔ مزید تعلیم حاصل کرنے اور ڈاکٹر بننے کا جو سپنا کنزہ نے دیکھا تھا، وہ بکھر گیا اور اسے ایک نئے گھر میں نئے رشتے اور تعلق کے ساتھ کچن سنبھالنا پڑا۔

یہ کہانی صرف کنزہ کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کی یہی کہانی ہے۔ ان کے خواب رسموں رواجوں کی نذر ہو جاتے ہیں یا پھر والدین کی خواہشات اور ان کی ذمہ داریوں کے سامنے لڑکی بے بس ہو جاتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی لڑکی خصوصاً شادی کے معاملے پر والدین کو اپنی پسند اور مرضی سے آگاہ کر سکے اور انہیں بتا سکے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اکثر لڑکیاں ان معاملات کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرلیتی ہیں اور تعلیم کا سلسلہ تمام ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں شادی کے بعد بھی پڑھائی کا سوچنا محال ہے۔

ایک مرتبہ اگر لڑکی کچن میں چلی جائے تو پھر چولھے ہانڈی کرنے ہی میں اس کی عمر تمام ہو جاتی ہے۔ جس طرح اس کے والدین نے تعلیم کو شادی پر فوقیت نہیں دی تھی، اسی طرح سسرال میں بھی اس حوالے سے حوصلہ افزائی شاذ ہی ہوتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ نسلِ نو کو اچھی تربیت و تعلیم ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ہی بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ ماؤں کی اولاد ہر میدان میں کام یاب ہونے کے ساتھ ساتھ مہذب اور زیادہ باشعور ہوتے ہیں۔

یہ عام مشاہدہ ہے اور اس کی کئی مثالیں آپ کے گرد و پیش میں موجود ہیں۔ ان پڑھ اور تعلیم و تربیت کے عمل سے بے بہرہ خاتون کے مقبلے میں باشعور عورت وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان میں اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر پیدا کر سکتی ہے جس کا ہمارے معاشرے پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ جب ہم اس نکتے کو سمجھتے ہیں تو پھر ہمارے لیے تعلیم کیوں غیر اہم ہوگئی ہے؟ یا پھر تعلیم حاصل کرنا شادی سے کیوں مشروط ہے۔

وہ لڑکیاں جو میٹرک یا انٹر کے بعد شادی ہو جانے کی وجہ سے باقاعدہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر کوئی ڈگری نہیں حاصل کرسکیں، اگر چاہیں تو اب بھی اپنا شوق پور کر سکتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اب آپ ڈاکٹر یا انجینیئر تو نہیں بن سکیں گی، مگر غیررسمی تعلیم اور مختصر مدت کے مختلف کورسز ضرور کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ ہمت کریں تو ان ڈگریوں کا حصول ممکن ہے جو گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

آج کے جدید دور میں مختلف جامعات نے آن لائن کورسز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جب کہ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اسکائپ کے ذریعے لیکچر دے کر آپ کو اس قابل بناتے ہیں کہ آپ کسی مضمون میں ڈگری لے سکیں۔ بی بی اے، ایم بی اے اور دیگر ڈگریوں کی تعلیم بھی گھر بیٹھے حاصل کرنا ممکن ہے۔

آرٹس کے مضامین میں ڈگری کا حصول آپ کے لیے آسان ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل ریلیشنز، پولیٹیکل سائنس، اکنامکس، ابلاغ عامہ جیسے مضامین آپ کو ملازمت کا اہل بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ ملازمت کے حصول کے لیے تعلیمی مدارج طے کریں بلکہ اس سے آپ کو نیا حوصلہ ملے گا اور یہ آپ میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے ساتھ آپ اپنے بچوں کو ان کی پڑھائی میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے مدد دے سکتی ہیں۔ یوں تو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن ڈگریوں کی بہتات ہے، مگر آرٹس اور کامرس کے عام مضامین کی تعلیم کم فیس میں گھر بیٹھے آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

شادی کے بعد بھی آپ کے پڑھنے کا ایک فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے اسکول میں داخلہ دلوانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہی ہوتی ہیں۔ اکثر بڑے اسکولوں میں والدین سے انٹرویو کے دوران ان کی تعلیم معلوم کی جاتی ہے اور ان کے میٹرک یا انٹر ہونے کی صورت میں  بچے کو داخلہ دینے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی خاتون ایسے اسکول میں انٹرویو کے دوران یہ بتاتی ہے کہ کس طرح اس نے شادی کے  بعد بھی تعلیم حاصل کی اور محنت کر کے ڈگری لی ہے تو اس کا مثبت اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔

دوسری طرف بچوں کو گھر میں بھی پڑھائی کے دوران مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر والدین تعلیم یافتہ نہ ہوں یا جدید علوم سے آگاہی نہ رکھتے ہوں تو انہیں مشکل پیش آسکتی ہے۔ ایک میٹرک اور انٹر پاس عورت کا بچہ جب تعلیمی مدارج طے کرتا ہے تو اس کا نصاب سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ کے کم تعلیم یافتہ ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ بچے کو ٹیوشن بھیجنا ہو گا اور یہ آپ کے مالی بجٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ساتویں،آٹھویں کے بچے کو انگلش، حساب جیسے مضامین کے لیے ٹیوشن بھیجنا تو سمجھ آتا ہے، مگر کم تعلیم یافتہ مائیں اپنے پرائمری سطح پر پڑھنے والے بچوں کو بھی ٹیوشن بھیجنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

ایک اور مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں اور اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں آپ سے راہ نمائی اور مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ خود کو بہت بے بس محسوس کرتی ہیں کیوں کہ آپ خود کو تعلیم سے کافی دور کر چکی ہوتی ہیں۔ اسی لیے اگر آپ وقت نکال سکتی ہیں تو آن لائن تعلیم حاصل کریں اور جدید علوم کے ساتھ وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت کے مختلف انداز اور طریقے سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ نہ ہو کہ کل جب آپ خود بچے سے سوال کریں کہ تم کیا بننا چاہتے ہو، کیا پڑھنا چاہتے ہو تو اس کا جواب ہو کہ امی آپ کو بتانے کا کیا فائدہ آپ اس بارے میں کیا جانتی ہیں، کچھ بھی تو نہیں!!

جب آپ خود کو اس حوالے سے تیار رکھیں گی تو اولاد اپنے مستقبل کا کوئی خواب آپ سے شیئر کرنے کو اہمیت دے گی۔ آپ خود تو ڈاکٹر یا انجینیئر نہیں بن سکیں، مگر اپنی اولاد خصوصاً بیٹی کے بارے میں سوچیں۔ اسے تعلیم دلوائیں اور امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ایک کارآمد اور مفید شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔