شہر اور شہری

امجد اسلام امجد  جمعرات 8 نومبر 2018
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

کل شام سے مجھے ایک تقریباً بھولی ہوئی پرانی نظم بہت یاد آ رہی ہے جس کا عنوان میں نے ’’ایک شہری کی کہانی‘‘ رکھا تھا۔ اس وقت تک عبدالوہاب البیاتی کی اسی موضوع پر لکھی گئی نظم میری نظر سے نہیں گزری تھی جس کا بعد میں میں نے ’’شہر ناپید کا مرثیہ‘‘ کے عنوان سے منظوم ترجمہ بھی کیا لیکن چارلس ڈکنز کے A Tale of Two Cities کی رعایت سے شہر کا استعارہ میرے لیے ایک خاص اہمیت اختیار کرچکا تھا اور یہ حقیقت بھی کھلنا شروع گئی تھی کہ کس طرح تخلیقی فکر رکھنے والا آدم زاد بیک وقت دو شہروں میں قیام کرتا ہے۔

ایک تو وہ جس میں وہ عملی طور پر رہ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے خوابوں اور سوچ کا وہ شہر جس میں وہ اصل میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔ حقیقت اور خواب کے اس ملاپ سے شہروں کی شکل کیسے بدلتی ہے اس کا ایک عملی مظاہرہ سیف سٹی لاہور پراجیکٹ کے احباب کی معرفت دیکھنے کے بعد میرا جی چاہ رہا ہے کہ اپنے قارئین کو بھی اس تجربے کی لذت، وسعت اور اہمیت میں شامل کیا جائے کہ جو شہر جتنا زیادہ ’’محفوظ‘‘ ہو گا اسی قدر وہ اس خواب کے شہر سے قریب تر ہوتا چلا جائے گا، جو ایک طرف سے اس گلوبل ولیج کا مثالی نمونہ ہے اور جس کی تعمیر ابن آدم کا اجتماعی ورثہ ہے لیکن اس سے پہلے عبدالوہاب البیاتی کی نظم کی چند لائنوں پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔

’’مکھیوں اور لوگوں کی کثرت سے آٹھوں پہر گونجتا یہ مرا شہر ہے

میری آنکھیں اسی کی ہوا میں کھلیں اور اسی کی فصیلوں پہ پھرتے ہوئے

میں نے آنکھوں سے اوجھل مناظر کو سوچا

جنھیں دیکھنے کے لیے زندگی بھر سفر کا جہنم سہا

یہیں میں نے سیکھے محبت کے معنی، یہیں پر نفس کے پس و پیش کا فرق جانا

اسی شہر میں مجھ کو والد نے چیزوں کی پہچان دی

اور بتایا مجھے کس طرح صبر کرتے ہیں کیسے بزرگوں

کی پاکیزہ روحوں سے فیضان ملتا ہے اس روشنی کا

جو اب تک نگاہوں میں اتری نہیں

پھر مرے باپ نے مجھ کو دن کے اضطراب مسلسل سے واقف کیا

اور دنیا کے نقشے پہ اس شہر کو ڈھونڈنے کی لگن دل کو دی

وہ طلسمات کا شہر ناپید جو ہو بہو میرے اس شہر کا عکس ہے

مگر اس کے تن پر جو ملبوس ہے ریزہ ریزہ نہیں

خواب کا شہر جو بے ہنر وحشیوں کا ٹھکانہ نہیں

گزشتہ کچھ عرصے سے لاہور کی ٹریفک، اس کی صورتحال، مسائل اور قوانین کی پابندی اور ترتیب کے بارے میں بہت سی خبریں سننے اور دیکھنے میں آ رہی تھیں۔ جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ موٹروے کے بعد اب شہروں کے اندر کی ٹریفک کے حوالے سے بھی کچھ اچھی باتیں سوچی جا رہی ہیں مگر وہ جسے فارسی میں کہتے ہیں کہ ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘ تو سیف سٹی پراجیکٹ کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر مجھے کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔

ایک بہت بڑے ہال میں ایک وسیع و عریض دیوار پر لگی اسکرین پر لاہور شہر کا ایک ایک کونا آٹھ ہزار کیمروں سے نہ صرف مسلسل دیکھا اور ریکارڈ کیا جا رہا تھا بلکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ فورس اور تربیت یافتہ عملہ بھی اس عمل کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔

پولیس کے شکایات نمبر 15 کے مرکزی ریسونگ سینٹر اور ریڈیو کے ایک ایف ایم چینل کے ذریعے سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک کو اس بات کی مسلسل اطلاع دی جا رہی تھی کہ کس علاقے میں ٹریفک کی کیا صورتحال ہے اور اس وقت کون سا راستہ زیادہ مناسب رہے گا۔ بتایا گیا کہ حالیہ ای چالان اور ہیلمٹ کی پابندی کی مہم کی وجہ سے جہاں ٹریفک قوانین کی پابندی اور ان پر عمل کے شعور میں اضافہ ہوا ہے وہاں موٹر سائیکل سے متعلق حادثات میں شدید زخمی ہونے والوں کی  تعداد میں بھی بہت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پتہ چلا کہ ماضی میں مناسب انتظامات نہ ہونے اور چیک سسٹم کے ناکافی وسائل کے ساتھ ساتھ شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پابندی نہ کرنے کے عمومی رویے کی وجہ سے یہ صورتحال مسلسل بگاڑ کا شکار تھی۔ باقاعدہ لائسنس ہولڈرز کی تعداد کل ٹریفک کے 50% سے بھی کم تھی اور نو عمر، کھلنڈرے اور اناڑی بچے معروف سڑکوں پر موٹر سائیکلیں دوڑاتے پھرتے تھے اور یوں اپنے ساتھ ساتھ صحیح چلنے والوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجاتے پھر رہے تھے۔

اناڑی ٹریکٹر ڈرائیور بڑی شاہراہوں پر دندناتے پھرتے تھے اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ رشوت کی فراوانی اور قانون کی خلاف ورزی ایک روایت کی سی شکل اختیار کر چکے تھے اور موجود ٹیکنالوجی عملی طور پر ناکارہ ہو چکی تھی اور اس اصول کے مطابق کہ کسی معاشرے کی تہذیبی سطح کا اندازہ کرنا ہو تو اس کی ٹریفک کو دیکھنا چاہیے۔

پاکستان کے تمام بڑی شہروں کی طرح لاہور بھی ایک افسوس ناک مثال بن چکا تھا۔ ایسے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، خصوصی فورس، تربیت یافتہ اور محنتی عملے اور شہریوں میں قانون کی پاسداری کے رویے کو ایک مہم کی شکل دینے کے رویے نے جو خوشگوار انقلاب پیدا کیا ہے نہ صرف اس میں تسلسل اور فروغ کی ضرورت ہے بلکہ اسے پاکستان کے ہر شہر اور ہر شہری کی زندگی اور تربیت کا حصہ بنانا چاہیے اور اس کا آغاز مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح پرائمری ایجوکیشن کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اس بات سے آگاہ ہو سکیں کہ سڑک پر آنے کے ضمن میں ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں اور یہ کہ کوئی شہر اس وقت تک ’’محفوظ‘‘ نہیں ہوتا جب تک اس کا ہر شہری ’’حفاظت‘‘ کے اس عمل میں برابر کا شریک نہ ہو۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔