انصاف کے تقاضے

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 8 نومبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

جب کوئی حکومت دشمنوں میں گھری ہوئی ہو اور مخالفین حکومت کی کسی بھی غلطی یا غلط فیصلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہوں تو حکومت کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے ،ملک بھر میں انکروچمنٹ کے خلاف ایک ساتھ ایسی سخت کارروائی ہو رہی ہے کہ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔

انکروچمنٹ کے خلاف کارروائیوں کے دوران بے گناہ لوگوں کی اموات بھی ہوچکی ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن ناجائز تعمیرات کو بلڈوزکیا جا رہا ہے وہ سال دو سال کے دوران تعمیرکی ہوئی ہیں؟ یہ ناجائز تعمیرات عشروں پہلے کی ہیں۔ ہماری حکومتوں کا حال یہ ہے کہ ان کی ناک کے نیچے قانون شکنی ہوتی ہے اور وہ مصلحتاً خاموشی اختیار کیے بیٹھی رہتی ہیں۔

کراچی میں  پاکستان کوارٹر نامی بستی قیام پاکستان کے ساتھ ساتھ وجود میں آئی تھی۔ اس قدیم ترین بستی کو بلڈوز کرنے کے خلاف رہائشیوں نے احتجاج کیا جسے انتہائی بے دردی سے کچل دیا گیا جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔

ہم کسی حوالے سے نہ انکروچمنٹ کے حامی ہیں نہ انکروچمنٹ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس حوالے سے ہمارا اعتراض یہ ہے کہ ان تجاوزات کو قائم ہونے کیوں دیا گیا؟ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عموماً رہائش سے محروم عوام اس قسم کی غیرقانونی تعمیرات کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن پیشہ ور قبضہ گیر موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی بڑی ناجائز تعمیرات کرلیتے ہیں اور جب ان ناجائز تعمیرات کی بھاری قیمتیں لگتی ہیں تو یہ پیشہ ور قبضہ گیر اپنی ناجائز تعمیرات کو فروخت کردیتے ہیں یوں یہ کام قبضہ گیروں کے لیے ایک بھاری اور مستقل آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

کراچی شہر میں سیکڑوں نہیں ہزاروں کچی آبادیاں موجود ہیں اور انھیں قائم ہوئے اب عشروں کا عرصہ ہو رہا ہے، قبضہ گیروں کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ مناسب قیمت لگتے ہی وہ اپنی ناجائز تعمیرات فروخت کردیتے ہیں لیکن رہائش سے محروم غریب عوام اپنی محنت کی کمائی لگا کر کچے پکے مکانات بنا لیتے ہیں اور ہمارے حکمران اور سیاستدان محض ووٹ کے حصول کی خاطرکچی بستیوں کی حمایت کرتے ہیں اور غریب رہائشیوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے وعدوں پر اپنے ووٹ پکے کرلیتے ہیں۔

غریب رہائشی سہولتوں سے محروم عوام کچی بستیوں میں پکے مکان بنانے کے لیے قرض لیتے ہیں اور اپنا پیٹ کاٹ کر رہائش کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب سرکار کا دل چاہتا ہے ان غریب عوام کی بستیوں کو تاراج کر دیا جاتا ہے جس کا عموماً کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ یہ کھیل صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں اچانک موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

پیشہ ور قبضہ گیروں کا توکوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن رہائش سے محروم لوگ بڑے جتن کرکے جب اپنی رہائش کا انتظام کرلیتے ہیں اور اچانک جب انھیں مسمارکیا جاتا ہے تو اس کا الزام فطری طور پر حکومت پر آتا ہے اور متاثرین سڑکوں پر آکر مظاہرے شروع کردیتے ہیں اور مظاہرین کو تشدد سے روکنے کے لیے حکومتی اداروں کو مظاہرین پر تشدد کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک منظم کھیل ہے جو بڑی ہوشیاری اور مہارت سے کھیلا جاتا ہے جس کا مقصد حکومت کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔کراچی کے علاوہ پنجاب سمیت تقریباً سارے ملک میں یہ تماشا بڑے منظم اور بامعنی انداز میں ہو رہا ہے اور رہائش سے محروم ہونے والے حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں۔

عمران حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی دو مہینے بھی نہیں ہوئے کہ ملک بھر میں انکروچمنٹ کو بلڈوز کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اس کی انکوائری کروا کر یہ دیکھے کہ ملک بھر میں ناجائز تعمیرات کو بلڈوز کرانے میں سیاسی مفادات تو کارفرما نہیں ہیں۔ کراچی میں دیگر صوبوں کے علاوہ بیرون ملک سے لاکھوں لوگ آتے ہیں اور بڑے آرام سے شناختی کارڈ ، ڈومیسائل اور دوسری ضروری سرکاری دستاویزات بڑے پراسرار طریقے سے بنا لیتے ہیں اور پاکستان کے باضابطہ شہری بن جاتے ہیں۔ کیا ہماری حکومتیں اس منظم کاروبار سے لاعلم ہیں ۔

اربنائزیشن کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے، دیہی علاقوں سے روزگار کے حصول کے لیے لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن یہ کام پاکستان کی طرح بے لگام نہیں ہوتا۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کی مکمل تحقیقات کے بعد انھیں باضابطہ رجسٹر کیا جاتا ہے اور ان کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جاتی ہے لیکن کراچی ایک ایسا شہر بن گیا ہے جہاں آنے اور قانونی دستاویزات حاصل کرنے کا کام بڑے منظم طریقے سے عشروں سے ہو رہا ہے جس کا ایک نتیجہ کراچی میں جرائم کی بھرمار ہے۔ متعلقہ اداروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ مجرموں کی شہریت زبان اور رہائش کو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائے تاکہ یہ حقیقت سامنے آئے مجرموں کا تعلق صرف کراچی سے نہیں ہے۔

حالیہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی میں کتنے پیشہ ور ہیں کتنے وہ لوگ ہیں جنھوں نے تنکا تنکا جوڑ کر اپنے لیے ایک آشیانہ بنایا تھا جسے مسمار کردیا گیا۔ اندھا دھند اقدامات ہماری حکومتوں کا ایک مشغلہ ہے کیا یہ کام ایک منظم طریقے سے نہیں کیا جاسکتا تھا اگر حکومت صرف ایک سروے کرا لیتی کہ قابضین میں پیشہ ور لوگ کتنے ہیں اور واقعی ضرورت مند کتنے ہیں لیکن بروقت یہ کام نہیں کیا گیا حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ حقیقت میں بے گھر ہونے والوں کو متبادل رہائش مہیا کرے اور پیشہ ور عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرے تاکہ  قبضوں کا سلسلہ ختم ہوسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔