مرنے کے بعد کا دردِ سر

انیس منصوری  جمعرات 8 نومبر 2018
muhammad.anis@expressnews.tv

[email protected]

ہمارے جیسے چھوٹے لوگ جسے بڑے لوگ ’’میلا‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں اگر وہ مشہوہونے کے لیے کوئی ڈراما کریں تو سمجھ بھی آتا ہے، لیکن آج کل کسی کے اکاؤنٹ سے رقم نکل آئے یا جیل چلا جائے تو وہ مشہور ہو جاتا ہے۔ فالودے والے کو اپنے فالودے کا نام کروڑ پتی فالودہ رکھ لینا چاہیے۔

رکشے والے کو پیچھے لکھوا دینا چاہیے کروڑ پتی سے جل مت ۔ آصف علی زرداری کو کون نہیں جانتا ۔ اتنے مشہور ہیں کہ ان کے نام کے محاورے بن چکے ہیں،اگرکوئی’’کنگلے میلے‘‘ سے دکان والا زیادہ پیسے مانگ لے تو وہ فورا کہتا ہے کہ زیادہ پیسے کیوں دوں؟

مجھے زرداری سمجھا ہوا ہے۔ اتنی مشہوری کے باوجود آصف علی زرداری کا یہ دلچسپ بیان سمجھ نہیں آیا کہ اگر جیل گیا تو مشہور ہوجاؤں گا۔اس وقت کے جتنے سیاستدان ہیں، ان میں سب سے زیادہ جیل زرداری نے ہی کاٹی ہے۔ اتنی ساری جیل کاٹنے کے باوجود کوئی انھیں مزید مشہورکرنا چاہتا ہے؟ اس مشہوری پر مجھے ایک امریکی یاد آگیا ۔وہ بھی مشہور ہونے کے لیے نئے نئے پروگرام بناتا تھا۔

نیویارک کے ساحل سمندرکے پاس ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان سے بڑا شاہ زیب جتوئی کا جیل میں گھر تھا ۔اتنی چھوٹی دکان کے اوپر مچان میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ جس طرح مچھلی کے بچے کو تیرنا خود ہی آجاتا ہے۔ جیسے سینما والے کو ٹکٹ بیچنے کا معلوم ہوتا ہے، جیسے ایک لوہارکے بچے کو سریا لگانا آتا ہے، ویسے ہی یہ لڑکا ابھی بولنا نہیں سیکھا تھا تو شراب کی بوتل کا ڈھکن کھول لیتا تھا۔کیونکہ اس کے باپ کی چھوٹی سی شراب کی دکان تھی اور اسی دکان میں وہ پیدا ہوا تھا، لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ اُس نے کبھی شراب نہیں پی۔ انتہائی غربت میں آنکھ کھولنے والا یہ شخص ’’ڈائمنڈ جم‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔ ہم جیسا غریب تھا، اس لیے سب اسے ’’میلا ‘‘ ہی سمجھتے تھے، مگر پھر اس کی قسمت کا تارا چمک گیا۔

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب امریکا میں ٹرین کے ڈبے لکڑی کے ہوتے تھے۔ امریکا کا رقبہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا اور وہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ رابطہ کرنے کا ذریعہ ٹرین ہی تھی، لیکن آئے دن وہاں لکڑی کے ڈبوں میں آگ لگنے کے واقعات ہوتے تھے ۔ لوہے کی فیکٹریاں ابھی لگی نہیں تھی۔ جم کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اُس نے لوہے کا ایک ڈبہ بنایا ۔ ابتدائی طور پر اُس کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور پھر ایک کے بعد ایک ٹرین کے مالک اُس سے رابطہ کرنے لگے۔ اُس کے پاس اتنے آرڈر تھے کہ سرکجھانے کی فرصت نہیں تھی ۔ وہ ایک ’’میلے‘‘ سے اب ارب پتی بن چکا تھا ۔ پیسے کی اب اُس کے پاس کمی نہیں تھی، لیکن جو لوگ خود سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ اب بھی میلا ہے ۔

یہ بات ٹم کو کھائے جاتی تھی ۔ اُس نے بڑے بڑے لوگوں کو عالیشان دعوتیں دینا شروع کیں ۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اب ’’ہائی کلاس‘‘ میں بھی مشہور ہوجائے۔ اُس وقت کے ایک لکھاری نے کہا تھا کہ جم اتنی بڑی اور عالیشان دعوتیں کرتا ہے کہ اُسے دیکھ کر رومن سلطنت کا وقت یاد آجاتا ہے۔ وہ نیویارک میں ایک وقت میں پانچ الگ جگہوں پر پارٹی رکھتا تھا۔ اُس کی پانچ الگ جگہوں پر پارٹی میں ایک سے بڑھ کر ایک آدمی کو بلایا جاتا تھا۔کہتے ہیں کہ نیویارک کی تاریخ میں اُس سے زیادہ شراب کسی نے نہیں خریدی ۔ وہ خود شراب نہیں پیتا تھا لیکن اپنی پارٹیوں اوردوستوں کے لیے وہ شراب کے ٹرک خالی کردیتا تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یاروں کا یار تھا۔ایک تھا لیکن سب پر بھاری تھا ۔

اُس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اُس کی پارٹی میں آیا ہوا کوئی بھی آدمی خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔ آج سے 100 سال پہلے وہ اپنی پارٹی میں آئے ہر شخص کو طلائی گھڑی دیتا تھا جس کی مالیت 200 پاؤنڈ تک ہوتی تھی، ہر جگہ اُس کی واہ واہ ہوتی تھی ، لیکن وہ یہ چاہتا تھا کہ لوگ اُس کی اور تعریف کریں وہ اور زیادہ مشہور ہوجائے۔ آج کا پاکستان یا دور ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ بھائی جیل چلے جاؤ اُس سے زیادہ مشہورہوجاؤ گے یا پھر امریکا میں ہی ہوتا توکہتا کہ ٹرمپ بن جاؤ ۔

وہ حکومت میں نہیں رہا مگر ہر ایک پر اثر انداز ضرور ہوتا تھا ۔ جس طرح ہمارے یہاں ہر نئی حکومت کو پرانا فرنیچر اچھا نہیں لگتا، بالکل اسی طرح جم کو ہر سال اپنا فرنیچر برا لگنے لگتا تھا اور وہ نیا فرنیچرلیتا تھا، مگر وہ سب سے الگ نظر آنا چاہتا تھا۔ اس لیے اُسے ہیروں کا شوق ہوگیا ۔

وہ چاہتا تھا کہ مظاہرے ہوں، قرضہ ہو یا پھر دھرنا بس لوگ اُس کی تعریف کریں ۔ اس لیے وہ ہر وقت ہیروں سے بھرا رہتا تھا اور روز ہیروں کا نیا سیٹ پہنتا تھا اور اگر پانچ الگ جگہ جاتا تھا تو دن میں پانچ بار ہیروں کا نیا سیٹ پہنتا تھا۔اب سنیے جم کا دل ایک اداکارہ پرآگیا۔ایان علی کی طرح للئین رسل تھی۔ جم نے للئین کو ایسی سائیکل تحفے میں دی جس میں سونے کے پہیے لگے ہوئے تھے، پوری سائیکل پر ہیرے جڑے ہوئے تھے۔

اب آپ خود سوچیں ایک طرف للئین کا حسن وجمال اور دوسری طرح سونے اورہیرے کی سائیکل۔ جب للئین وہ سائیکل لے کر نکلتی ہوگی تو روڈ پرکیسا رش لگتا ہوگا۔ جیسے ایان علی کی پیشیوں پر رش تھا ویسا ہی رش لگا رہتا ہوگا، مگر للئین نے جم کو مایوس کیا ۔ جب وہ رشتہ لے کر اُس کے پاس پہنچا تو اُس نے انکارکردیا۔ جم افسردہ ہوگیا اوراُسے احساس ہوا کہ دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، جب وہ ایک اس دولت سے کسی کا دل بھی نہیں جیت سکتا۔

جم کے پاس بے تحاشہ دولت تھی، لیکن مرنے سے کچھ عرصے قبل اُس نے اپنی دولت فلاحی ادارے کے نام کردی ۔ مرنے سے کچھ پہلے اُس کے پاس بس 40 ہزار پاؤنڈ تھے۔ اُس نے چالیس ہزار پاؤنڈ کوآگ لگا دی اور ایک تاریخی جملہ اُس نے جلتے ہوئے نوٹوں کو دیکھ کرکہا کہ ’’ میں مرنے کے بعد اپنے اوپرکوئی درد سر نہیں رکھنا چاہتا۔‘‘

اب تمام مشہوری کے باوجود آصف علی زرداری نے اسمبلی میں بہت اہم تقریرکی، مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے اپنی اور شہبازشریف کی عمر 62,63 کیوں بتائی ۔ پتہ نہیں کون سے 62,63 پر اشارہ کر رہے تھے، لیکن ان کے یہ الفاظ اہم ہیں کہ ہمیں ملک کی ترقی کے لیے سوچنا چاہیے اور جم کی طرح مرنے کے بعد اپنے اوپر درد سر نہیں لینا چاہیے۔ جتنا اچھا ہو، اب کردینا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔