حکومت کو بے لگام سوشل میڈیا سے خوف کیوں؟

اظہر تھراج  ہفتہ 10 نومبر 2018
دنیا بھر میں حکومتوں کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا ہے۔ فوٹو: فائل

دنیا بھر میں حکومتوں کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا ہے۔ فوٹو: فائل

سوشل میڈیا شاید اس نیت سے تخلیق کیا گیا کہ بلا رنگ و نسل و مذہب و ملت، کرہ ارض کو اصلی گلوبل ولیج بنا دے گا۔ ہم اپنے دکھ سکھ ریئل ٹائم میں بانٹنے کے قابل ہوجائیں گے بلکہ ان گنت مشترکہ مسائل کے درجنوں حل بھی ڈھونڈھ سکیں گے۔ شاید پہیے کی ایجاد کے بعد سب سے اہم ایجاد انٹرنیٹ ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کی زباں بندی کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے کالعدم کردیا ہے، اب خبر پر خبر کے ٹھیکیداروں کی اجارہ داری ختم ہوچکی ہے۔ کوئی میرا مضمون چھاپنے سے انکار کرے گا تو میں اسے فیس بک پر ڈال دوں گا۔ جن ریاستوں میں سوشل میڈیا کو سائبر زنجیر پہنانے کی کوشش کی گئی، وہیں کے دس پندرہ سال کے بچوں نے ان زنجیروں کو توڑ کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر کوئی بھی اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرسکتا ہے۔

سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کو بولنے کی آزادی دی ہے تو میلوں دور بیٹھے منچلوں کے دلوں کو بھی جوڑا ہے۔ پاکستانی نوجوان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں اور اب تک ایک اندازے کے مطابق بھارت سمیت مختلف ملکوں سے متعدد لڑکیاں محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر پاکستان آچکی ہیں۔ ہمسایہ ملک چین سے ’’ڈولی‘‘ آئی تو شارجہ سے بھارتی نژاد ننگیتا، جنوبی افریقی عیسائی لڑکی زاہرہ ونزل پاکستانی نوجوان کی محبت میں گرفتار ہوکر چلی آئی۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ’’پیو ریسرچ‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد انٹرنیٹ، سوشل ویب سائٹس، موبائل فونز اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے رومانوی تعلقات استوار کرتی ہے۔

امریکا بھر سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے 35 فیصد نوجوان رومانوی تعلقات میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ 86 فیصد نوجوان اسکول اور تعلیمی ادارے کے اوقات میں اپنے رومانوی تعلقات کے ساتھیوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ سماجی رویوں، نوجوانوں اور بدلتے وقت کے رواجوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اپنے تعلیمی اداروں میں بھی رومانوی تعلقات میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ نوجوان نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سمیت اپنے رومانوی تعلقات پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں تعلیمی میدانوں میں انقلاب آیا ہے، وہیں تعلیمی اداروں میں فطری محبت بھی پروان چڑھی ہے۔

یہ دل کا معاملہ تھا اور دلوں کو جوڑتا گیا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے منفی استعمال بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس کی بھرمار سے مسائل نے جنم لیا، کئی خواتین مردوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر زندگیاں گنوا بیٹھیں۔ حال ہی میں سابق ڈی آئی جی گلگت بلتستان کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سابقہ بیوی کی تصاویر فیس بک پر ڈالی ہیں۔ اسی طرح متعدد واقعات ہیں جو معاشرے کےلیے ناسور بنے۔ ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق سائبر کرائم سیل میں سب سے زیادہ شکایات جنسی ہراسانی کی موصول ہوئی ہیں۔ رواں سال اس ادارے کو 2,295 شکایات موصول ہوئیں، 255 مقدمات درج کیے گئے اور 209 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ توہین مذہب اور نفرت انگیز مواد پھیلانے پر سزائیں بھی سنائی گئیں۔ رواں سال سائبر کرائم کی شرح ماضی سے زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں حکومتوں کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اسے بین کررکھا ہے تو امریکا میں مڈٹرم الیکشن کے دوران فیس بک کے 30 اور انسٹاگرام کے 85 اکاؤنٹس بندکردیئے گئے، ان اکاؤنٹس پر الزام یہ عائد کیا گیا کہ یہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہورہے تھے جبکہ یہ روسی اور فرانسیسی زبانوں میں تھے۔

حال ہی میں پاکستان میں چلنے والی احتجاجی لہر کے پیچھے بھی سوشل کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کے مطابق اشتعال انگیزی پھیلانے والے زیادہ اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہوتے رہے ہیں۔ کسی حد تک حکومت کا الزام بھی درست ہے کیونکہ ٹی وی چینلز اور اخبارات تو حکومت کے کنٹرول میں تھے جنہوں نے اس آسیہ مسیح کیس کی سماعت سے فیصلہ آنے تک سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کوئی خبر نہیں دی۔ سوشل میڈیا پر زیادہ شور تب مچا جب وزیراعظم نے خود ٹی وی پر اپنے خطاب میں دھمکی آمیز لہجے میں مظاہرین کو چھوٹا طبقہ کہا۔ انہوں نے مظاہرین کی طرف سے کی گئی تقاریر کو بھی اپنے الفاظ میں بیان کردیا وگر نہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کس نے کیا کہا۔

اس سے پہلے ایک ریاستی ادارے کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی جنہیں مختلف حوالوں سے تنقید کرنے پر واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کی طاقت پر حکومت میں آنے والی پی ٹی آئی اب خود اسی سوشل میڈیا سے خوفزدہ ہے۔ یہ اس بے لگام گھوڑے کو’’ریگولیشن‘‘ کے کھونٹے سے باندھنا چاہتی ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ اس کے ہر سیاہ و سفید کو ’’سب اچھا ہے‘‘ کے پیرائے میں دیکھا جائے، ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، پتھر کو گْہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہُما دکھایا جائے، بے حال عوام کو خوشحال لکھا جائے؛ ویران گلیوں، سنسان راستوں، اجڑے چمن میں ہریالی ہی ہریالی پیش کی جائے۔

حکومت سوشل میڈیا کو ضرور واچ کرے۔ توہین آمیز، نفرت انگیز مواد کو ضرور روکے مگر تنقید سننے اور برداشت کرنے کا جگرا بھی پیدا کرے کیونکہ دھونس اور دھوکے سے دبائی گئی آوازیں ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

اظہر تھراج

اظہر تھراج

بلاگر انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم فل ہیں۔ بڑے قومی اخبارات بشمول روزنامہ خبریں، پاکستان، نوائے وقت سے وابستہ رہے۔ آج کل دنیا نیوز نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ جمہوریت کے زبردست حامی، آمریت کے مخالف ہیں۔ ان سے @azharthiraj کے ذریعے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔