قانون نافذ کرنیوالے ادارے 80 سے زائد لاپتہ شہری بازیاب کرانے میں ناکام

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 9 نومبر 2018
ہائی کورٹ کاقانون نافذ کرنے اداروں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار،ڈی جی رینجرز کو نوٹس جاری۔ فوٹو:فائل

ہائی کورٹ کاقانون نافذ کرنے اداروں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار،ڈی جی رینجرز کو نوٹس جاری۔ فوٹو:فائل

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین، ایم کیو ایم کے کارکنوں سمیت 80 سے زائد لاپتہ افراد کے مقدمات سے متعلق قانون نافذ کرنے اداروں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل ڈویژنل بینچ کے روبرو سرکاری ملازمین، ایم کیو ایم کارکنوں سمیت 80 سے زائد لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہوئی، عدالت کا قانون نافذ کرنے اداروں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے پولیس افسران سے مکالمے میں کہا کہ لاپتا افرادکے اہل خانہ پہلے ہی مظلوم ہیں، انھیں مزید پریشان نہ کریں۔

لاپتا شہری کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے حافظ سعید اور عبداللہ لاپتہ ہیں،دونوں کو رینجرز نے گرفتار کیا ہے،عدالت نے رینجرز کے  ڈی ایس آر کلیم اعوان کو طلب کرلیا، مسمات افشین نے کہا کہ میرا شوہر 5سال سے لاپتا ہے،محمد علی کو پی آئی بی سے گرفتار کیا گیا،11 جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں،عدالت نے محمد علی کی گمشدگی کا کیس لاپتا افراد کمیشن کو بھجوادیا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹیز بنادی جاتی ہیں مگر کارروائی نہیں ہوتی،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مہلت مانگنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے آپ بار بار مہلت مانگ کر عدالت کا وقت ضائع نہ کریں،عدالت میں لاپتا شہری کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا مشتاق عادل تین سال سے لاپتہ ہے، میرا کوئی کفیل نہیں اب گھر کا چولہا بھی بجھ گیا،عدالت نے درخواستوں پر ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور دیگر کو 20 دسمبر کیلیے نوٹس جاری کر دیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔