ایتھوپیا میں اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی باقیات برآمد

ویب ڈیسک  جمعـء 9 نومبر 2018
گرفتار سابق صدر کے دور حکومت میں سیکڑوں لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

گرفتار سابق صدر کے دور حکومت میں سیکڑوں لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

جیجیگا: ایتھوپیا میں صومالیہ اور اُرومیا کے سرحدی علاقے کے درمیان ایک اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی باقیات ملی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالیہ اور اُرومیا کے سرحدوں کے درمیان جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والوں کو ایک اجتماعی قبر ملنے کا نکشاف ہوا ہے جس میں سے 200 سے زائد لاشوں کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔

ایتھوپیائی صومالیہ کے سابق صدر عابدی محمد عمر کے خلاف تحقیقات کے دوران ملنے والی اجتماعی قبر سے اس الزام کو تقویت ملی ہے کہ سابق صدر نے اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کرایا۔

سابق صدر کے دور حکومت میں مخالفین کی بڑی تعداد کو لاپتہ کردیا گیا تھا اور لسانی فسادات میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ سابق صدر کے حکم پر پولیس نے مخالفین کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کیا۔

سابق صدر عابدی محمد عمر عوامی مطالبے اور شدید احتجاج کے باعث رواں برس اگست میں مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں گزشتہ مہینے کے آخری ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔ سابق صدر کو 13 سالہ دور حکمرانی میں قتل عام، زیادتی اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر محمد عمر کو 19 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا اس دوران انہوں نے عدالت کی کھڑکی سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں نے سابق صدر کو دوبارہ پکڑ لیا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔