ڈپریشن... قاتل ذہنی دباؤ

ڈاکٹر میشال نذیر  ہفتہ 10 نومبر 2018
کیٹ اسپیڈ اور اینتھنی بوڈین، دونوں ہی اپنے اپنے شعبے کے کامیاب ترین افراد میں سے تھے لیکن دونوں ہی نے خودکشی کرلی۔ لیکن کیوں؟ (فوٹو: فائل)

کیٹ اسپیڈ اور اینتھنی بوڈین، دونوں ہی اپنے اپنے شعبے کے کامیاب ترین افراد میں سے تھے لیکن دونوں ہی نے خودکشی کرلی۔ لیکن کیوں؟ (فوٹو: فائل)

5 جون 2018 کے روز کیٹ اسپیڈ کی خودکشی کی خبر نے تہلکہ مچا دیا، وہ اپنے ہی گھر میں مردہ پائی گئیں۔ وہ ایک مشہور امریکی فیشن ڈیزائنر اور بہت کامیاب کاروباری عورت تھیں۔ موت کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی۔ وہ ڈیزائنر برانڈ کیٹ اسپیڈ نیویارک کی بانی اور مالکن تھی۔ ان کا برانڈ ہینڈ بیگز کےلیے بہت مشہور تھا۔ اسی خبر کے تین دن بعد یعنی 8 جون 2018 کو ایک اور مشہور شخصیت کی خودکشی کی خبر آئی۔ یہ ایک مشہور امریکی شیف، مصنف، اور ٹی وی شخصیت اینتھنی بورڈین کی خودکشی کی خبر تھی، جو ٹونی کے نام سے مشہور تھے۔ وہ اپنے پروگرامز میں بین الاقوامی ثقافت، کھانوں، اور مختلف تہذیبوں میں رہن سہن کو اجاگر کرتے تھے۔ وہ دنیا کے بااثر شیفس میں سے ایک تھے۔ اینتھنی بورڈین سفری دستاویزات لکھنے کے حوالے سے بھی بہت جانے جاتے تھے۔ 61 سال کی عمر میں ان کی زندگی کا اختتام خودکشی پر ہوا۔ اینتھنی بورڈین نے فرانس کے ایک ہوٹل میں خودکشی کی، جہاں وہ اپنے ایک کھانے پکانے کے شو کی شوٹنگ کےلیے آئے ہوئے تھے۔

اگر ہم موازنہ کریں تو ایک بات جو ان دونوں میں مشترک ہے، وہ ہے اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب ہونا۔

بظاہر تو دونوں کے پاس ہی پرآسائش زندگی، اچھا کیرئیر اور اچھی سماجی حیثیت تھی؛ مگر پھر بھی کچھ تو تھا جو چھپا تھا، اندر ہی اندرتھا، اور کسی کو پتا ہی نہیں تھا۔

دونوں کی موت کی وجہ ذہنی دباؤ بتائی گئی لیکن دونوں کے خاندان اور دوست احباب اس سے مکمل طور پر لاعلم بھی تھے؛ اور ان کے کسی قسم کے ذہنی دباؤ سے انجان بھی۔ سب سے اہم اور ضروری بات یہ بھی ہے کہ دونوں ہی عمر میں پچاس سال سے زیادہ کے تھے، جو پختہ (میچیور) عمر کہلاتی ہے، جہاں جذبات سے زیادہ ہوش سے کام لیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن یا ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کا رجحان 15 سے 29 سال کے عمر کے لوگوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ان دونوں کی خودکشی کے بارے میں جان کر آپ بھی یقیناً ذہنی دباؤ کی سنگینی کو سمجھ چکے ہوں گے۔

خودکشی کے ان دو واقعات کے بعد کئی مشہور شخصیات سوشل میڈیا کے ذریعے ذہنی دباؤ سے متعلق آگاہی مہم کا حصہ بنیں؛ اور اپنے واقعات شیئر کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ذہنی دباؤ میں ہونا کوئی شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ ایک طبی حالت ہے جس کا علاج ممکن ہے؛ اور یہ کہ اسے معمولی نہ سمجھیے بلکہ اس کا مقابلہ ڈٹ کر کیجیے۔

یہاں میں دیپیکا پڈوکون کا ذکر کرنا چاہوں گی جو مشہور اداکارہ ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ذہنی دباؤ آگاہی مہم کا آغاز کیا اور اپنی کہانی بھی بتائی کہ کیسے وہ خود 2004 میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں، اور اس کا علاج بھی کیا۔

یہ ذہنی دباؤ آخر کیا ہے؟ ذہنی دباؤ (ڈپریشن) ایک عام لیکن سنگین طبی بیماری ہے۔ یہ آپ کے احساسات، آپ کی سوچ، اور آپ کے کام پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اس کی وجہ سے آپ پریشان اور دکھی رہنے لگتے ہیں جبکہ وہ کام جسے کرنے سے آپ خوشی محسوس کرتے ہیں، اس میں بھی آپ کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے آپ کے جسم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں بھوک نہ لگنا، وزن کم ہوجانا یا بڑھ جانا، سونے میں مشکل یا نیند کا نہ آنا، تھکاوٹ محسوس ہونا، خود کو مجرم یا بیکار محسوس کرنا، سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں مشکل کا ہونا وغیرہ جیسی ظاہری علامات شامل ہیں۔

ذہنی دباؤ کا سب سے خطرناک مرحلہ مو ت یا خودکشی کے بارے میں سوچنا ہے۔ اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو ایک انسان ذہنی دباؤ میں آکر خودکشی جیسا انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، تقریباً پوری دنیا میں 8 لاکھ افراد سالانہ خودکشی کرتے ہیں، یعنی تقریباً ہر دس منٹ میں پندرہ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

لیکن خوش قسمتی سے یہ ایک قابل علاج مرض ہے، بالکل اسی طرح جیسے بخار، ٹی بی، ہیپاٹائٹس وغیرہ قابل علاج ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر پندرہ میں سے ایک بالغ شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے؛ اور ہر چھ میں سے ایک شخص اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ عورتیں مردوں کے مقابلے میں ذہنی دباؤ کا شکار زیادہ ہوتی ہیں۔ 2018 میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے کچھ مشہور شخصیات کی خودکشی نے کئی سوالات کھڑے کیے۔ یہ لوگ وہ تھے جو اپنے اپنے شعبوں میں کامیابی کے عروج پر تھے۔ تو آخر ایسے کون سے عوامل تھے جنہوں نے ان لوگوں کو خودکشی پر مجبور کیا؟ ان سوالوں کے جوابات تو اب شاید ہی مل سکیں لیکن ایسے واقعات ہمیں سوچنے پر مجبور ضرور کرتے ہیں۔

روزانہ آپ کی نظروں سے خودکشی کے واقعات گزرتے ہوں گے، اخبار پڑھتے ہوئے، ٹی وی دیکھتے ہوئے، یا سوشل میڈیا پوسٹیں کھنگالتے ہوئے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں؟

خودکشی کرنے کی ویسے تو بہت ساری وجوہ ہیں لیکن سب سے بڑی اور اہم وجہ ذہنی دباؤ (ڈپریشن) ہے۔ ذہنی دباؤ کسی کو بھی، کسی بھی عمر میں، کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ خدارا اس کی سنگینی کو سمجھیے اور اسے بھی دوسری بیماریوں کی طرح ختم کرنے کےلیے علاج کروائیے۔

اس کی بروقت تشخیص بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کو اپنے اندر ذہنی دباؤ کی کوئی بھی علامت نظر آئے تو بلاجھجک اپنے والدین کو (اور اگر وہ نہ ہوں تو کسی بھی قریبی قابلِ بھروسہ دوست کو) بتائیے کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج ہی سے اس قاتل بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔

ہم جس معاشرے رہتے ہیں وہاں ہمیں معاشی، معاشرتی اور سماجی لحاظ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اور ایسے میں ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا ہونا فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کا بروقت علاج ممکن بنایا جائے اور خود کو اور اپنے پیاروں کو اس مرض سے بچایا جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر میشال نذیر

ڈاکٹر میشال نذیر

بلاگر حیاتی کیمیا (بایو کیمسٹری) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اسلام اور سائنس کے موضوع سے خصوصی شغف رکھتی ہیں۔ جو کچھ ہمارے ارد گرد ہورہا ہے، اس سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر، معاشرے کی وہ تصویر ہے جس میں دھنک کے سارے رنگ ہیں؛ اور جسے دیکھنے کےلیے خوبصورت آنکھ چاہیے، جو ہر رنگ میں چھپی خاموشی، شور، سکون، خوشی، غم، خیال، تصور، غرض کہ ہر معاشرتی احساس کو دیکھ، سن، سمجھ اور برداشت کرسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔