کنٹرول لائن پر بھارتی شرپسندی جاری

ایڈیٹوریل  ہفتہ 10 نومبر 2018
بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ امن عمل کی باتیں اور پرتشدد کارروائیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ فوٹو : فائل

بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ امن عمل کی باتیں اور پرتشدد کارروائیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ فوٹو : فائل

کنٹرول لائن کے تھب سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا جوان ظہیر احمد شہید ہوگیا، پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی فوج کی فائرنگ پر بروقت اور موثر جواب دیا اور ان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے بھارتی فوج نے فائرنگ کی تھی۔ بھارت کی پاکستان دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن اپنی مخاصمت میں بھارت اخلاقی اور بین الاقوامی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے میں پیش پیش ہے۔

ایک جانب بھارت دنیا میں خود کو امن کا پروردہ ثابت کرنے کے لیے امن مذاکرات اور تعلقات میں بحالی کے لیے ڈھونگ رچاتا ہے تو دوسری جانب علی الاعلان پاکستان کے خلاف سازشوں اور شرپسندانہ حرکتوں میں مصروف ہے، بھارت کی درپردہ سازشیں بھی وقتاً فوقتاً عیاں ہوتی رہی ہیں جس کے بعد دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ آچکا ہے۔

بھارت کئی بار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحد پر حالت امن میں بھی شرپسندانہ حرکتیں کرتا آرہا ہے، کئی بار پاکستان کے خلاف بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کئی فوجی جوانوں اور پاکستانی عوام کو نشانہ بنانے کے باوجود بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے جب کہ حالات کی خرابی کا سارا الزام بھارت پاکستان کے حصے میں ڈالتا آیا ہے۔

ضلع بھمبر کے تھب سیکٹر میں بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے پاک فوج کے سپاہی ظہیر احمد کی شہادت اور بھارتی فوج کی بلاجواز فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں پر تشویش کا اظہار اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے جنگی جنون کا نوٹس لے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت نے صدر آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر پر پاکستان کی حدود میں فائرنگ کی تھی۔ بھارت جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھا رہا ہے تاکہ وہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے ہٹا سکے۔

یوں تو بھارتی دشمنی روز اول سے پاکستان کے ساتھ ایک سی رہی ہے لیکن موجودہ انتہاپسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ صائب ہوگا کہ بھارت پاکستان کی امن خواہش کو کمزوری پر محمول نہ کرے، وقت آنے پر پاکستان کی جانب سے بھی کڑا جواب دیا جاسکتا ہے۔

بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ امن عمل کی باتیں اور پرتشدد کارروائیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ نیز عالمی برادری کو بھی بھارت کو لگام ڈالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔