وفاقی کابینہ میں اہم فیصلے

ایڈیٹوریل  ہفتہ 10 نومبر 2018
حکومتی ارکان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ ملک ایک ٹرانزیشن اور ٹرانسفارمیشن کے دور سے گزر رہا ہے۔ فوٹو: فیس بک

حکومتی ارکان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ ملک ایک ٹرانزیشن اور ٹرانسفارمیشن کے دور سے گزر رہا ہے۔ فوٹو: فیس بک

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے کامیاب دورہ چین پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ وفاقی کابینہ نے برطانیہ اور پاکستان میں قیدیوں کے تبادلے کے لیے پروٹوکول، ٹیکس کے بارے میں پالیسی وضع کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام ، احمد نوازسکھیرا کو سیکریٹری سرمایہ کاری بورڈ تعیناتی، لبرٹی ایئرلائن کو چارٹرڈ پروازوں کے لیے لائسنس کے اجراء اور ایس ای سی پی کا نیا بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین نے تاریخی امداد کی ہے البتہ دوست ملک نے نقد مالی امداد کے اعلان سے روکا ہے۔وزیراعظم نے بلا امتیاز احتساب جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

وزیراعظم نے درپیش چیلنجز کے حوالہ سے بتایا کہ وہ دو ماہ تک ایوان میں نہیں آسکتے، اپوزیشن ان کے اس فیصلہ پر تحفظات ظاہر کرسکتی ہے کیونکہ قومی ایشوز ، قابو میں آتی ہوئی بحرانی صورتحال اور داخلی و خارجی معاملات پر دو ماہ تک پارلیمنٹ سے غیر حاضری کئی سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ چین سے کیے گئے معاہدات پر کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا ، یہی جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کو کسی بھی قومی معاملہ سے الگ نہ رکھا جائے، دنیا سے رابطہ اور اقتصادی ، سفارتی ، سیاسی اور عسکری معاملات یا تنازعات پر قومی مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات کی شفافیت پر بحث پارلیمنٹ کے معتبر فورم پر ہونی شرط ہے تاکہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پارلیمنٹ کی بالادستی اور اس میں جاری بحث و تقاریرکے معیار پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔

بہر حال حکومت کا یہ سیاسی ارادہ قابل تعریف ہے کہ احتساب جاری رہے گا مگر اس تاثر کا قائم رہنا جمہوری تسلسل کے لیے ناگزیر ہے کہ شفاف جوابدہی اور کرپٹ لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی صد فی صد ٹرانسپیرنسی کی حامل ہو، دنیا کی پارلیمانی تاریخ میں جوابدہی کو سیاست دانوں اور منتخب اراکین سینیٹ وقومی اسمبلی کے لیے ذمے داری سے مشروط جمہوری خوبی قراردیا گیا ہے لہذا احتساب منصفانہ،عادلانہ اور بلا امتیاز ہو جب کہ کرپٹ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کو قانونی کارروائی سے ماورا سیاسی ڈیبیٹ ، میڈیا ٹرائل ، اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی کی نذر نہ کیا جائے۔

حکومتی ارکان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ ملک ایک ٹرانزیشن اور ٹرانسفارمیشن کے دور سے گزر رہا ہے جس میں اپوزیشن اور حکومت کے مابین جمہوری  پارلیمانی خیر سگالی لازم ہے، موجودہ دھینگا مشتی، گالم گلوچ ، تکرار اور لفظی گولہ باری کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ فکری مکالمہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر شائستگی اور سنجیدگی کا مظہر ہو۔

وزیراعظم بلاشبہ دورہ چین کو بریک تھرو سمجھتے ہیں، انھوں نے کابینہ کو دورہ چین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دورہ چین توقعات سے زیادہ کامیاب رہا، چین نے پاکستان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، چین پاکستان کو زرعی شعبے میں پہلی بار مکمل تعاون دیگا۔

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے کامیاب دورہ چین پر اطمینان کا اظہار کیا اور کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری، پاکستان سری لنکا کوسٹ گارڈ سے متعلق وزارت ساحلی امور اور پاک سوڈان سیاحت اورجنگلی حیات کے تحفظ کے معاہدے کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں چینی سیلولر کمپنی ہواوے کے ساتھ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ٹیلنٹ پروگرام اور اس کے علاوہ پاکستان اور نائیجیریا کے درمیان سفارتی تعلقات کے فروغ کی منظوری دی گئی۔

وزیر اطلاعات نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل تیارکر لیا گیا ہے، متعلقہ وزارتوںکو ان پر فوری عملدرآمدکی ہدایت کردی ہے۔

واضح رہے برطانیہ سے ملزمان یا قیدیوں کے تبادلے کی قانونی پیش رفت کچھ کم اہم نہیں ہے ،ان ملزمان اور قیدیوں میں ہائی پروفائل کیسز میں نامزد سیاسی خانوادوں کے افراد، وزرا، سیاسی رہنما اور بعض سنگین کیسز میں ملوث افراد کی تحویل کے معاملات شامل ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسی سیاق و سباق میں عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے امریکا سے بات ہوئی ہے، دفتر خارجہ کا صائب تبصرہ ہے کہ یہ قوم کے لیے جذباتی معاملہ ہے، عافیہ کی مشکلات کم کرنے لیے کوشش کریں گے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس ضمن میں قانونی مدد مہیا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی اور مسلسل احتسابی عمل پر اپنے مخصوص طرز ظرافت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے کیسز پر بات نہ کریں تو ایوان کا ماحول ٹھیک ہوجائیگا چونکہ ان سب کو مک مکا کی عادت پڑی ہوئی ہے، جو ہم نہیں کریں گے، انھوں نے آسیہ بی بی کے حساس معاملے پر کہا کہ کسی کے کہنے پرکچھ نہیں کریں گے، نظر ثانی اپیل دائرکی گئی ہے۔

ای سی ایل کا فیصلہ بھی وہیں ہوگا، پی اے سی کی سربراہی کے معاملے پراپوزیشن کے ساتھ ڈیڈ لاک کا انھوں نے اعتراف کیا تاہم جمہوری عمل کا تقاضہ ہے کہ اس مسئلہ کا جلد کوئی حل نکالا جائے کیونکہ دیگر قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل بھی ادھوری پڑی رہے گی جب کہ ’’اسموتھ سیلنگ‘‘ کے لیے سخت فیصلے کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔