مصنوعی ذہانت کے حامل دنیا کے پہلے ڈیجیٹل نیوز اینکر نے خبرنامہ پڑھ دیا

ویب ڈیسک  ہفتہ 10 نومبر 2018
چین کا پہلا روبوٹ نیوز اینکر جو اے آئی کے تحت خبریں سناتا ہے (فوٹو: بشکریہ ژن ہوا نیوز ایجنسی)

چین کا پہلا روبوٹ نیوز اینکر جو اے آئی کے تحت خبریں سناتا ہے (فوٹو: بشکریہ ژن ہوا نیوز ایجنسی)

بیجنگ: چین میں مصنوعی ذہانت اور اینی میشن سے تیار کردہ دنیا کے ایسے پہلے نیوز کاسٹر نے خبریں سنانی شروع کردی ہیں جو صرف کمپیوٹر میں ہی پایا جاتا ہے تاہم اس کا لہجہ اور خبریں پڑھنے کا انداز ایک حقیقی نیوز کاسٹر سے نقل کیا گیا ہے۔

ویڈیو شروع ہوتے ہی روبوٹ نیوز کاسٹر اپنی پہلی خبروں میں کہتا ہے کہ ’ہیلو ایوری ون آئی ایم این انگلش آرٹی فیشل انٹیلی جنس اینکر، دس از مائی ویری فرسٹ ڈے ان ژنہوا نیوز ایجنسی۔‘ اور اس کے بعد مجازی نیوز کاسٹر اپنا تفصیلی تعارف کراتا ہے۔ اسے بہت حد تک حقیقت کے قریب بنایا گیا جسے دیکھ کر چینی مہارت کی داد دینا پڑتی ہے اور اسے دیکھ کر اصلی انسان کا گماں ہوتا ہے حالاں کہ یہ ایک روبوٹ ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژِنہوا نے پہلی مرتبہ اسے متعارف کرایا ہے اور اس کے لیے چینی اینکر کے چہرے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ چین کے مؤقر اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق نیوز ایجنسی ایک اور نیوز اینکر بھی پیش کرے گی جو چینی زبان میں خبریں پڑھے گا۔

اس نیوز اینکر کی تیاری میں چین کے مشہور سرچ انجن سوگو اور ژن ہوا ایجنسی نے مل کر کام کیا ہے۔ ڈجیٹل اینکر انسانی آواز اور تاثرات کی ہوبہو نقل بھی کرتا ہے۔ اس طرح یہ کسی خشک اور سرد مزاج روبوٹ کی بجائے ایک جیتا جاگتا انسان معلوم ہوتا ہے تاہم چین میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آنے کے بعد اس کے متعلق ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے اور بعض نے اسے مصنوعی قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر رعایت دی ہے کہ یہ پہلا تجربہ ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔