محتاط رہنے کی ضرورت ہے

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 10 نومبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، اقتدار سے باہر ہونے والی اشرافیہ مختلف سمتوں سے حکومت پر حملے کر رہی ہے، ان حملوں میں ایک حملہ تضحیک کا ہے۔ عمران خان عوام کے منتخب وزیر اعظم ہیں اور انتخابات دولت کے بل بوتے پر نہیں جیتے بلکہ عوام میں اپنی ایمانداری عوامی مسائل حل کرنے کی ایماندارانہ خواہش سے عوام کے دل جیت کر انتخابات جیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ عوام کی کرپٹ حکمرانوں سے بیزاری بھی تھی۔ ایک عشرے سے ملک کو حکمران اشرافیہ نے اپنی چراگاہ بنالیا تھا ہر طرف کرپشن کا بازار گرم تھا جس کا مشاہدہ عوام بڑے غور سے کر رہے تھے۔

نااہل اور کرپٹ عناصر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ کر عوام کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ عوام ایک سیکریٹری کے گھر میں پھیلے اور کھلے پڑے اربوں روپوں کو دیکھ کر حیران تھے کہ کرپشن کی گنگا میں حکمران ہی نہیں، ان کی بیورو کریسی بھی کس آزادی کے ساتھ ہاتھ دھو رہی ہے یہ کھلے حقائق تھے جو عوام کے ذہنوں کو جھنجھوڑ رہے تھے کہ اب کرپٹ اشرافیہ سے نجات ضروری ہے، سو عوام نے کرپٹ اشرافیہ کو رد کر دیا۔

دنیا میں بل گیٹس جیسے ارب پتی دولت مند ہیں لیکن ان میں دولت کا وہ غرور نہیں ہوتا جو نو دولتیوں کے چہروں سے ٹپکتا ہے عوام ان رعونت زدہ چہروں کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ دولت وہ بھی لوٹی ہوئی انسان کوکس قدر مغرور بنا دیتی ہے۔ یہ سارے عوامل مغرور اشرافیہ سے عوام کی بے زاری اور نفرت کا باعث بنے۔

ہماری  اشرافیہ عوام میں منتخب وزیر اعظم کوکم تر ثابت کرنے کے لیے عمران خان کا نام انتہائی گھٹیا انداز میں لیتی رہی ہے جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایک مڈل کلاس کو وہ مقام و مرتبہ نہ مل سکے جسے اشرافیہ نے اپنا حق بنا لیا تھا۔ فرسٹ لائن اشرافیہ کے حکومت کے ساتھ توہین آمیز سلوک کو دیکھ کر سیکنڈ لائن کے عام افراد بھی وزیر اعظم کے خلاف بدزبانی کرنے لگے ، ان ساری حرکتوں کا واحد مقصد عوام میں بد دلی پیدا کرنا تھا ۔

عمران خان کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے جب عام لوگ عمران خان کی تضحیک کرتے ہیں تو وہ صرف ایک فرد واحد کی تضحیک نہیں بلکہ پوری مڈل کلاس کی تضحیک ہوتی ہے۔ جو لوگ عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں وہ صرف ایک فرد واحد کی حمایت نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اس ملک کی پوری مڈل کلاس کی حمایت کر رہے ہیں ، جو لوگ اشرافیہ کے ایک فرد یا افراد کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دراصل پوری اشرافیہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

جو لوگ مڈل کلاسر کی آج توہین کر رہے ہیں وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ تبدیلی کا جو عمل آج شروع ہوا ہے وہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملک کا تعلیم یافتہ اور اہل کسان اس ملک کا وزیر اعظم اور مزدور کا اہل بیٹا ملک کا صدر نہیں بن جاتا۔ یہ بات پاکستان میں حیرت انگیز اس لیے لگتی ہے کہ یہاں ابتدا سے اشرافیہ نے سیاست اور اقتدار پر قبضہ جما رکھا ہے اور مزدوروں کسانوں اور غریب طبقات کو کمی بنا رکھا ہے۔

میں نے اپنی ذاتی محنت اور لگن سے ڈبل ایم اے کیا، جانے مجھ جیسے کتنے لوگوں نے اپنی ذاتی قابلیت اور محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن وہ بابو، بڑے بابو سے آگے نہ جاسکے ۔ دوسری طرف اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے نان میٹرک اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان عیش کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ حقائق صرف کرپٹ اور نااہل اشرافیہ کے لیے باعث شرم نہیں بلکہ پورے ملک اور ملک کے سماجی نظام کے لیے باعث شرم ہے کہ ایک مزدور ایک کسان کا تعلیم یافتہ اور اہل بیٹا جوتیاں چٹخاتے پھر رہا ہے اور کرپٹ اور نااہل اشرافیہ کی نااہل اولاد اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھی عیش کر رہی ہے۔

یہ ظلم ہے یہ ناانصافی ہے اس کو ہر حال میں ختم ہونا چاہیے ہمارے پڑوسی ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے اہل لوگ ملک کے صدر بھی بنے۔ ملک کے وزیر اعظم بھی بنے ہم انصاف اور مساوات کے نام لیوا ہیں اور ہمارے ملک پر 71 سال سے نااہل اور کرپٹ اشرافیہ قابض ہے۔ عوام عمران حکومت کی اس لیے حمایت کر رہے ہیں کہ اس نے 71 سالہ اسٹیٹس کو کو توڑ کر مڈل کلاس کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا اور عوام یہ امید کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اب تبدیلی کا یہ پہیہ آگے بڑھ کر کسانوں مزدوروں، دانشوروں، مفکروں، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے سر پر اقتدار کا تاج رکھے گا۔

تبدیلی کی اس گاڑی کو اگر آگے بڑھانا ہے تو عمران حکومت کو عوام کی توقعات پر پورا اترنا پڑے گا۔ کرپٹ اشرافیہ کو اور پیچھے دھکیل کر غریب اور مڈل کلاس کو آگے لانا پڑے گا، اپنی صفوں میں اگر نا اہل اور کرپٹ عناصر گھس آئے ہیں تو انھیں نکال باہر کرنا پڑے گا اور قابل ایماندار لوگوں کو آگے لانا پڑے گا۔ پاکستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ عوام میں سیاسی شعورکی کمی ہے ۔ ہماری حکمران اشرافیہ نے عوام کے ذہنوں میں یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی ہے کہ ان کا سیاسی کام صرف ہر پانچ سال بعد اشرافیہ کے ڈبوں کو اپنے ووٹوں سے بھرنا ہے اور اشرافیہ کی یہ بات عوام کی نفسیات کا حصہ بن گئی ہے۔

اشرافیہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اگر عمران حکومت کو وقت مل گیا تو وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کرے گی اور اگر حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اشرافیہ کا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا اس نے اپنے بعد اقتدار کی گدی پر بٹھانے کے لیے ولی عہدوں کی جو بٹالینز تیار کی ہیں وہ آخری مغل بادشاہوں کے ولی عہدوں کی طرح خوار ہوجائیں گے۔

اگر احتساب کا عمل پوری مضبوطی سے اور بلاتفریق اور بلاامتیاز جاری رہے گا تو اشرافیہ ویسے ہی سیاسی منظر سے غائب ہوجائے گی اس انجام سے بچنے کے لیے اشرافیہ پورا زور لگا کر سازشوں میں مصروف ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔