لیاقت علی نے کہا ’’کس کی مجال ہے کہ ہم سے دلّی لے سکے؟ جب دلّی ملے گا تو علی گڑھ خودبخود ہمارے پاس آجائے گا‘‘

رضوان طاہر مبین  اتوار 11 نومبر 2018
اگر بٹوارا 1948ء میں ہوتا، تو شاید اتنی قتل وغارت گری نہ ہوتی، قائداعظم 11 اگست والی تقریر نہ کرتے تو اچھا تھا!۔ فوٹو: محمد عظیم

اگر بٹوارا 1948ء میں ہوتا، تو شاید اتنی قتل وغارت گری نہ ہوتی، قائداعظم 11 اگست والی تقریر نہ کرتے تو اچھا تھا!۔ فوٹو: محمد عظیم

بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن سے ’انٹرویو‘ کے دوران ہر وقت یہ دھڑکا رہتا ہے کہ ان کی زندگی کا فلاں گوشہ یا فلاں موضوع تشنہ نہ رہ جائے۔۔۔ جیسا کہ بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی۔ پہلے انہوں نے کوچۂ صحافت میں اپنی کام یابی کا عَلم بلند کیا، پھر گھر کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے فوج سے وابستہ ہوئے، اور پھر مارچ 1967ء سے نومبر 1973ء تک پاکستانی فوج کی ترجمانی کا اہم فریضہ بھی انجام دیا۔

ان کی فوج سے وابستگی کا زمانہ بھی ہماری تاریخ کا اہم ترین حصہ رہا، وہ بہت سے رازوں اور المیوں کے امین ہوئے۔۔۔ فوج سے سبک دوشی کے بعد انہوں نے دوبارہ ’صحافت‘ کی سمت نگاہ کی، اب کے اُن کے سیاسی ودفاعی تجزیے میں وہ گیرائی اور گہرائی سما چکی تھی، جو ہمارے ہاں ذرا کم ہی پائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ادب سے لگاؤ، ہجرت اور یہاں مہاجروں کی صورت حال پر گہری نظر انہیں سب سے زیادہ ممتاز بنا دیتی ہے۔

اس کے باوجود وہ بالکل ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ وہ فوجی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔! ہم اُن سے طے کیے گئے مقررہ وقت پر ان کے دولت کدے پر پہنچے اور دستک دی تو ہمارے لیے کواڑ کھولنے والے اُن کے خادم نے بھی پابندی وقت پر اظہار مسرت کیا۔۔۔ ہم ان کے کمرے میں پہنچے، جہاں ایک کونے میں وہ میز کرسی پر مصروف تھے ، میز پر ایک ’برقی مشعل‘ ان کے سامنے کے حصے کی تاریکی پر فاتح تھی۔۔۔ ہمیں دیکھ کر وہ اپنی مسند سے اٹھے اور قریب ہی رکھے صوفے پر براجمان ہوئے اور یوں ہماری تفصیلی بیٹھک کا آغاز ہوا۔

اپنی گفتگو کا آغاز میں ہی انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ ڈیڑھ، دو سال سے دنیا میں ہوں بھی اور نہیں بھی، میں نے بالکل قطع تعلق تو نہیں کیا، لیکن اب میری مصروفیت صرف گھر اور ’سندھ کلب‘ تک محدود ہیں، میرا تعلق صرف کتابوں اور مضامین سے ہے۔ ان دنوں میں اپنی ایک کتاب ’آرمی اینڈ جہاد‘ لکھ رہا ہوں، جو غالباً میری آخری تصنیف ہے، جس میں میرا کہنا یہ ہے کہ ایک تنخواہ دار پیشہ ور سپاہی کی حیثیت قطعی وہ نہیں ہوتی، جو ایک مجاہد کی ہوتی ہے، اسے آپ مجاہد کہہ تو سکتے ہیں، لیکن مجاہد کی کوئی وردی اور نظم وضبط نہیں ہوتا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہر جماعت کا سربراہ جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا، یہ استحقاق اسلام کی رو سے صرف سربراہ مملکت کا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی جنگ میں قبائلی شامل ہوئے۔ مولانا مودودی نے کہا کہ یہ جہاد نہیں! انہوں نے اپنے اس موقف پر کبھی کوئی سمجھوتا بھی نہ کیا۔

بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی کہتے ہیں کہ ’1948ء کی جنگ میں قبائلیوں نے بیٖڑس غرق کیا، وہ بارہ مولا تک پہنچ گئے، وہاں سے سری نگر ایئرپورٹ تین چار میل دور تھا۔ وہاں جا کر انہوں نے لوٹ مار شروع کر دی، اگر وہ ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیتے، تو ہندوستان کشمیر پر قبضہ نہیں کر سکتا تھا، ہندوستان نے جہازوں پر ہی اپنی فوج بھیجی۔

بریگیڈیر عبدالرحمٰن صدیقی اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ پاک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے فوج بھیجنے سے منع کر دیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ جنرل گریسی نے یہ کہا تھا کہ ’میں یہ نہیں کر سکتا‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان اور پاکستان کی فوج کا مشترکہ ہیڈ کوارٹر نئی دلی میں ہوتا تھا، جہاں ہماری فوج کی نقل وحرکت دونوں افواج کے سپریم کمانڈر کو بتائی جاتی تھی اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔

بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی نے ہجرت اور قیام پاکستان کو بہت قریب سے دیکھا، اس لیے یہ موضوع ہمارے سوال نامے میں سرفہرست تھا، ہم نے پوچھا کہ ’بٹوارے کے ہنگام میں دلّی میں کیا گزری؟‘ وہ بولے کہ پانچ ستمبر 1947ء کو فتح پوری مسجد میں بم پھٹا، تو دلی میں کرفیو لگ گیا اور لوگ قلعہ بند ہو گئے! ہمارے محلے میں امن تھا، اس لیے ہم اپنے گھروں میں رہے۔ ’ڈان‘ کے مدیر اور لیاقت علی خان اس خوش فہمی میں تھے کہ بٹوارے کے بعد ’ڈان‘ اخبار بہ یک وقت دلی اور کراچی سے شایع ہو گا، لیکن چھے ستمبر 1947ء کو ’ڈان‘ کے دفتر کو آگ لگا دی گئی اور وہاں اخبار بند ہو گیا۔ میں نے اس پر ایک پوری کتاب ’اسموک ود آؤٹ فائر‘ (Smoke without fire) لکھی، کیوں کہ آگ بھڑکتی ہے، تو دھواں نہیں ہوتا، لیکن جب سلگتی ہے، تو پھر دھواں ہوتا ہے اور اس وقت بھی دھواں اور اندھیرا تھا!

تقسیم انتخابات کا نتیجہ تھی، ہم نے اس چناؤ کے ماحول کو کھوجا، اور پوچھا کہ کیا یہ پتا تھا کہ دلی پاکستان میں شامل ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ’’تین جون 1947ء کو جب اعلان ہو گیا، تو سب کو پتا چل گیا تھا کہ دلی پاکستان میں شامل نہیں ہوگا! یہ تقسیم 1948ء میں ہونا تھی، لیکن اسے 1947ء کر دیا گیا۔ ہمیں وہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جناح صاحب بیمار تھے، اس لیے وہ جلدی میں تھے۔ اگر بٹوارا 1948ء میں ہوتا، تو شاید اتنی قتل وغارت گری نہ ہوتی۔‘‘

بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی نے بتایا کہ یہ لگ بھگ 1944ء کی بات ہے، جب لیاقت علی ’اینگلو عربک کالج‘ آئے، تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے جو پاکستان مانگا ہے، اس میں علی گڑھ تو ہے نہیں، تو وہ کہنے لگے ’میاں تم سمجھے نہیں، دراصل دلی تو ہم لیں گے، کسی کی کیا مجال ہے کہ کوئی دلی ہم سے لے سکے، ہم نے علی گڑھ کا نام نہیں دیا، وہ اس لیے کہ جب دلی ہمارے پاس ہوگا، تو ’علی گڑھ‘ تو خود بخود ہمارے پاس آجائے گا۔ ان کے کم وبیش یہی الفاظ تھے۔ یہ بات ان کے ذہن میں تھی کہ دلّی تو شامل ہوگا، کیوں کہ ہماری ساری چیزیں تو یہیں ہیں۔

بریگیڈیر عبدالرحمن نے ’اینگلو عربک کالج‘ سے بی اے کیا، کہتے ہیں کہ لیاقت علی خان وہاں کی گورننگ باڈی کے چیئرمین تھے اور میں یونین کا سیکریٹری تھا، اس حیثیت سے ہماری ملاقاتیں رہیں، وہ کہتے کہ ’ان شا اللہ پاکستان بننے والا ہے، اور وہاں تم لوگوں کا بہت بڑا مستقبل ہے، وہاں زیادہ دلی والے ہی کام کریں گے۔‘ یہ ان کی معصومیت تھی، کسی کو خبر نہ تھی کہ سندھی، پنجابی اور پٹھان کیا ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں لیاقت علی خان جیسا شریف النفس اور جاں نثار آدمی نہیں دیکھا۔ دلّی میں پاکستان کا ’ہائی کمیشن‘ ان کے گھر میں ہی قائم ہے۔ ہندوستانی روپوں میں شاید اس کی قیمت 20، 30 کروڑ تو ہوگی، وہ انہوں نے یوں ہی پاکستان کے سفارت خانے کے لیے دے دیا۔

بریگیڈیر صاحب قائد اعظم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’جناح صاحب کسی کی بات سنتے تھے اور نہ اپنی بات سمجھا سکتے تھے۔ سمجھانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلے آپ کو سمجھنا پڑتا تھا، بھئی اگر پاکستان اچھا ہے، تو کیوں اچھا ہے؟ اس کا جواب نہیں دیں گے وہ، شٹ اپ کر دیں گے، مگر اللہ تعالی نے انہیں اتنی وجاہت اور رعب دیا تھا کہ آپ ان سے نگاہ ملا کر بات نہیں کر سکتے تھے۔ تقسیم سے قبل حسین شہید سہروردی اور ابوالہاشم خان، (سیکریٹری جنرل مسلم لیگ) سمیت تین شخصیات نے جناح صاحب سے کہا کہ متحدہ بنگال کی باتیں ہو رہی ہیں، جس پر جناح نے کہا کہ ’مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن ایک شرط ہے کہ وہ ہندوستان کا حصہ نہیں بنے گا۔‘ اب یہ کیسے ہو سکتا تھا!

11 اگست 1947ء کی دستور ساز اسمبلی میں قائداعظم کی تقریر کہ ’مذہب کا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ہوگا‘ اس حوالے سے بریگیڈیر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ’خدا کرے کہ وہ یہ تقریر نہ کرتے! آپ اس سے تو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں کہ آپ آزاد ہیں اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے۔ تو کیا ہندوستان میں ہمیں یہ آزادی نہیں تھی؟ وہاں تو ہماری مساجد تھیں۔۔۔! انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، انہوں نے پاکستان کو محدود کر دیا، اگر یہی مقصد تھا، تو اس کے لیے اتنی بڑی قربانی دینے کی ضرورت تو نہ تھی۔

ہم نے بریگیڈیر صاحب سے پوچھا ’تو کیا انہیں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہیے تھا؟‘ تو وہ بولے کہ ’اُن کے ذہن میں تو اسلامی نظام کا کوئی تصور تھا ہی نہیں، بلکہ لکھنؤ کے ایک راہ نما نے جب یہ کہا کہ پاکستان میں اسلامی حکومت ہوگی، تو انہوں نے ڈانٹ دیا تھا۔‘ ہم نے کہا پھر انہیں کیا کہنا چاہیے تھا، تو وہ کہنے لگے ’مجھ میں نہ اتنی ہمت ہے اور نہ اتنی اہلیت کہ یہ کہوں کہ کیا کہنا چاہیے تھا، بس وہ یہ تقریر نہ کرتے تو اچھا تھا۔‘ ہم نے یہ خیال ان کے سامنے رکھا کہ اس تقریر سے اقلیتوں میں احساس تحفظ پیدا ہوا!‘ جس پر وہ بولے کہ ’’کہاں پیدا ہوا، وہ تو سب یہاں سے جا رہے تھے! جنوری 1948ء میں گرومندر کراچی میں مہاجرین کا مقامی افراد سے تنازع ہوا تھا، تو جناح نے مہاجروں کو بہت ڈانٹا کہ آپ مہاجر ہیں اور یہاں سندھ حکومت کے مہمان ہیں۔ شروع سے ہی مہاجروں اور سندھیوں کے تعلقات کی نوعیت اچھی نہیں تھی۔ سندھ اسمبلی میں 1943ء میں جی ایم سید نے پاکستان کی قرارداد منظور کرائی، مگر پھر وہ پکے سندھی ہو گئے تھے اور آخر وقت تک رہے۔‘‘

بریگیڈیر صدیقی کا خیال ہے کہ کہ گاندھی اور جناح دونوں ہی متنازع تھے، گاندھی کام یاب ہو گئے جناح نہیں ہوئے، ہم نے اُن کے اس خیال کی وجہ جاننا چاہی تو وہ بولے کہ ’وہ اس طرح کہ ہمیں جتنا حصہ ملنا چاہیے تھا، وہ نہیں ملا۔ جانی و مالی نقصان بھی مسلمانوں کا زیادہ ہوا۔ پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چوہدری رحمت علی تو خود جناح صاحب کے بہت سخت مخالف ہو گئے۔ وہ یہاں آکر واپس چلے گئے کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے!‘‘

بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی 1965ء کی جنگ میں سیال کوٹ کے محاذ پر آبزرور کے طور پر رہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے وہاں ’فخرہند‘ (رجمنٹ) کا قیمہ بنتے دیکھا۔ یہ رجمنٹ ہندوستان کی بکتر بند فوج کا فخر تھی، اس حوالے سے وہ گویا ہوتے ہیں کہ 1965ء میں ہمارے کشمیر میں آپریشن جبرا الٹر کے کمانڈر جنرل اختر ملک تھے، انہوں نے جولائی 1965ء میں مری میں ایک میٹنگ میں اپنا پلان پیش کیا۔ یہ مری سے لے کر مظفرآباد تک تھا۔ اس میں سپریم کمانڈر ایوب خان، جنرل موسیٰ اور دیگر جرنیل بھی تھے۔ ایوب خان نے ساری توجہ شمال کی طرف دینے اور جنوبی حصے کو نظرانداز پر جنرل اختر سے سوال کیا تھا۔ میں وہاں نہ تھا، لیکن میرے ایک لیفٹننٹ کرنل دوست وہاں تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ایوب خان کا مشاہدہ بہت اچھا تھا، جنرل ایوب کے سوال پر اختر ملک پریشان ہو گئے تھے، کیوں کہ اُن کا خیال تھا کہ لڑائی وہیں تک رہے گی۔ وہ گوریلا طرز کے آپریشن کی توقع کر رہے تھے، لیکن اس کے لیے کے تو تربیت یافتہ گروپ تیار کرنے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ تصور کر لیا کہ کشمیر کے عوام ان کا ساتھ دیں گے، مگر ہوا اس کے برعکس۔

بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی کا ماننا ہے کہ ’’1965ء کی جنگ جیتی جا سکتی تھی، لیکن جیتی نہ جا سکی، 1971ء کی جنگ سے گریز کیا جانا چاہیے تھا، جو ہم نے ہار دی۔‘‘ ہم نے کہا 1971ء کی جنگ تو ہم پر مسلط ہو گئی تھی، تو وہ بولے کہ وہ تو آپ نے مسلط کی۔ ہم نے پوچھا کہ ’1965ء کی جنگ ہم کیسے ہارے؟‘ تو وہ بولے کہ اس کے جو مقاصد تھے وہ حاصل نہ کر سکے۔ تاشقند میں ہندوستان کی ہر بات قبول کرلی گئی، بھارتی وزیراعظم شاستری سے ایوب خان نے کہا کہ کچھ ہمارے لیے بھی کر دیں۔ اس نے انکار کر دیا کہا کہ میں تو پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہوں۔

بریگیڈیر صاحب کہتے ہیں کہ 1971ء میں جب سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوا، تو میں ’پرنسپل اسپوکس مین‘ تھا، مجھے بہت دکھ ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ کسی قسم کی کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں! جنرل یحییٰ خان بہت اچھے آدمی تھے، لیکن ضروری نہیں کہ اچھا آدمی اچھی بات بھی کرے۔ میں جنرل یحییٰ کی بہت عزت واحترام کرتا ہوں، مگر جو کام ان کی موجودگی میں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس دوران وہ اپنے ہوش میں نہ تھے، صورت حال یہ تھی کہ 16 دسمبر 1971ء کسی کو بھی نہ پتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے، خدا کرے اب ایسا دن کبھی نہ آئے۔ اس دن مشرقی پاکستان کے وقت کے مطابق چار بجے ہم نے ہتھیار ڈال دیے اور اس کی پوری داستان بھارتی جنرل جیکب (Jacob) نے اپنی کتاب میں لکھی ہے، جنرل جیکب نے لکھا ہے کہ شکست خورہ نیازی کس طرح بھارتی کمانڈر سے پنجابی میں مذاق کر رہے تھے، اس کی عادت تھی ایسی۔

ڈھاکا سے واپسی کے حوالے سے بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی کہتے کہ ’’ستمبر 1971ء میں واپسی سے پہلے جب میں جنرل نیازی اور دیگر کو خدا حافظ کہنے گیا، تو صورت حال یہ تھی کہ ہمارے جوان خندقیں کھود کر احکامات کے منتظر تھے، مگر احکامات آتے نہیں تھے۔ جنرل نیازی مجھ سے اور جنرل یعقوب سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو بچو! یہ جنگ تمہارا کام نہیں ہے، تم پڑھے لکھے لوگ ہو، اپنا کام کرتے رہو اور تم دیکھنا میں جاؤں گا ہندوستان۔ وہ ہندوستان ضرور گیا، مگر قیدی کی حیثیت سے!‘‘ ہم نے پوچھا کہ 1971ء میں کیا ہیڈ کوارٹر بھی لاعلم تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ وہ بولے کہ ’’خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری!‘‘

بریگیڈیر عبدالرحمن بتاتے ہیں کہ ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ سے منسلک تھا، اس دوران مجھے کمیشنڈ آفر ہوئی، تو انکار کردیا کیوں کہ ’غدر‘ کے دوران انگریز فوج کے مظالم کی وجہ سے میرے گھر میں فوج کا بہت برا تاثر قائم تھا۔‘ تاہم اپنے مدیر کے مشورے سے جولائی 1950ء میں وہ فوج کا حصہ بن گئے۔

11 سال لاہور میں رہے، پھر 1959ء میں وہ ’انٹر سروسز‘ پنڈی چلے گئے۔ اُن کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا، 11 سال کپتان رہے، پھر ’فضائیہ‘ میں جگہ خالی ہوئی، تو وہاں ’اسکوارڈن لیڈر‘ کے طور پر چلے گئے، 1961ء تا 1963ء وہاں رہے، پھر واپس آرمی میں بطور میجر آگئے۔ ایئرمارشل اصغر خان کے تحت کام کرنے کے حوالے سے بریگیڈیر عبدالرحمن بتاتے ہیں کہ وہ بہت ایمان دار تھے اور غلطی پر سخت بازپرس کرتے۔ جب وہ سیاست میں آئے، تو میں بھی ریٹائر ہو چکا تھا، ان کی سیاسی جماعت ’تحریک استقلال‘ کا ناقد ہونے کے باوجود ان سے آخر تک بہت اچھا تعلق رہا۔ بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی کہتے ہیں کہ ذوالفقار بھٹو کا فوجیوں سے انداز تخاطب بہت استہزائیہ ہوتا تھا، جیسے ہم کوئی ہندوستانی ہوں۔ میری ساری زندگی میں سب کچھ فوج کا ہے، میں فوج کے علاوہ کچھ ہوں ہی نہیں! 1973ء میں، میں قبل ازوقت ریٹائر ہو گیا، عموماً ایسے موقع پر پنشن نہیں ملتی، لیکن مجھے ملی، ریٹائر ہونے کے بعد کراچی آگیا، اسی مکان میں رہا جہاں آج ہوں۔

انہوں نے فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد 1975ء میں ایک عالم گیر ’ڈیفنس جرنل‘ نکالا، جو 22 برس جاری رہا۔ اس کا نصب العین (Motto)’مائنڈ از دی الٹرنیٹ ویپن‘ (Mind is the alternate weapon) اور ’ویلفیئر نو وار افیئر‘ (Welfare no war affair) تھے۔ اس جریدے کے اجرا کے موقع پر اعلیٰ جرنیلوں نے اپنی نیک تمناؤں کے پیغامات بھی دیے۔ کہتے ہیں کہ اس جرنل میں انہوں نے پوری آزادی سے کام کیا، اچھا ردعمل ملا۔

’’1947‘‘ء میں میری پہلی خبر ہی صفحۂ اول پر شایع ہوئی‘‘
بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی1947 ء تا 1950ء پشاور میں انگریزی اخبار ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ (The Civil & Military Gazette) کے خصوصی کو رسپانڈنٹ رہے۔ ابتدائی دنوں میں ہی صحافتی ذمے داریوں کی ادائی کرتے ہوئے وہ کشمیر جانے والی ٹیم میں شامل ہوئے، کہتے ہیں کہ ’یہاں ہماری فوج کی لڑائی ہو رہی تھی۔ میں 16 نومبر 1947ء کی رات بریگیڈیر اکبر سے ان کے ہیڈ کوارٹر پر ملا، ان کا انٹرویو کیا۔ میری انگریزی اچھی تھی، لیکن پیرا گرافنگ کے حوالے سے اے کے قریشی نے میری راہ نمائی کی اور دوسرے دن ہی میری پہلی خبر ہی صفحہ اول پر چھپی، یوں بہت بڑا بریک تھرو ملا۔ بہ حیثیت ایک نوآمیز جنگی نامہ نگار کے میری ایک بڑی کام یابی تھی۔ ساتھ ہی جنگی امور سے پیشہ وارانہ زندگی کا کام یاب آغاز تھا۔‘

وہ اس اخبار کے حوالے سے اپنے تجربات یوں دریافت کرتے ہیں کہ میں تین سال اس اخبار میں رہا اور اس دوران میں نے بہت خرافات کیں، کوئی اور ہوتا تو شاید مجھے نکال دیتا، کہتے ہیں کہ ’سول ملٹری گزٹ‘ کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی اور اسے ایک خبر چھاپنے پر تین ماہ کے لیے بند کردیا گیا۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ 16 اخبارات نے کسی اخبار کے خلاف مشترکہ اداریہ چھاپا، کیوں کہ یہ ان اخبارات کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتا تھا اور وہ گویا تاک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریز تھے اور صحیح رپورٹنگ کرتے تھے۔ اس کے مدیر کی شرافت دیکھیں کہ اس نے مجھ سے کہا کہ ہمارا لاہور ایڈیشن بند ہوا ہے، ہم کراچی ایڈیشن تو چھاپتے رہیں گے اور تمہیں تنخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے دیتے رہیں گے۔

اب تک سات تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں
بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی کی اب تک سات تصانیف منصۂ شہود پہ آچکی ہیں۔ انہوں نے ’جنگ‘ میں 10سال بہ عنوان ’عسکری تجزیہ‘ کالم لکھے، جو ’فوج اور سیاست‘ کے عنوان سے شایع ہوئے، دیگر تصانیف میں ’’تقسیم ہند اور بہادر شاہ ظفر کی واپسی‘‘، ’’پاک وہند تعلق یا تصادم ‘‘ اور ’’مہاجر، پچاس سالہ سفر کی داستان‘‘ شامل ہیں۔ تین انگریزی کتب میں ایسٹ پاکستان، دی اینڈ گیم (East Pakistan, The end game)، اسموک ود آئوٹ فائر (Smoke Without Fire) اور ’پارٹیشن اینڈ دی میکنگ آف دی مہاجر مائنڈ سیٹ‘ (Partition and the making of the Mohajir mindset) شامل ہیں۔ بریگیڈیر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ اسموک ود آئوٹ فائر (Smoke Without Fire) میں اپنے بچپن کی ساری باتیں ایمان داری سے لکھ دی ہیں۔

اس سے زیادہ کی میری حیثیت نہیں، اس کتاب کی اشاعت اول دلّی میں ہوئی، بعد میں یہ کراچی سے بھی شایع ہوئی۔ میری پروفیسر احمد علی سے بہت اچھی دوستی تھی، دلّی پر ان کی کتاب ’ٹوئیلائٹ اِن دلّی‘ (Twilight in Delhi) سے اچھی کتاب نہ لکھی گئی اور نہ شاید لکھی جا سکے۔ ان کی کتاب دلّی کے ایک محلے اور ایک خاندان کا احاطہ کرتی ہے، جب کہ میری کتاب میں پوری دلّی آتی ہے، کہ ہمارا محلہ بَلّی ماران کے نکڑ سے دیکھیں، تو ایک طرف فتح پوری مسجد تھی اور دوسری طرف قلعہ معلیٰ تھا۔‘ بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ خدمت (1969ء)، تمغہ دفاع پاکستان (1965ء)، ریپبلک میڈل (1956ء) اور وار میڈل (1971ء) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

مئی 1965ء میں ’رن کَچھ‘ میں جنگ کا آغاز ہوگیا
بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی کہتے ہیں کہ میں نے ’دی سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ (The Civil & Military Gazette) کے نمائندے کی حیثیت سے کشمیر کی جنگ کور کی۔ اپریل 1949ء کے پہلے ہفتے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کائونسل کے تحت کشمیر میں رسمی طور پر جنگ بندی ہوئی، یوں ’سیز فائر لائن‘ کی حد بندی بھی ہو گئی، اقوام متحدہ کی تمام تر کوششیں فریقین یعنی ہندوستان پاکستان دونوں کی رضا مندی کے مطابق کشمیری جنگ کا حتمی فیصلہ ایک استصواب کے ذریعے ہوا، مگر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی اور جنگ بندی کے باوجود کنٹرول لائن پر چھوٹی اور بڑی جنگیں ہوتی رہیں اور سلامتی کائونسل کی کوششوں کے باجود ہندوستان رائے شماری سے روگردانی کرتا رہا اور دونوں ممالک کے مابین فاصلے اور کشیدگی بڑھتی رہی۔ 1950ء کی نصف دہائی میں ’رن کَچھ‘ کے صحرائے عظیم میں چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہیں اور اس طرح حالات ایسے بگڑے کہ مئی 1965ء میں ’رن کَچھ‘ میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔

گو کہ جنگ بہت محدود تھی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرلی، 1965ء کی جنگ عملاً صرف 17 روز رہی، مگر اسے ہندوستان پاکستان کے مابین ایک دائمی کشیدگی اور جنگی صورت حال کی شکل اختیار کرلی۔ یہ جنگ باقاعدہ طور پر 23، 22 ستمبر 1965ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شمولیت کے بعد ختم ہوگئی، 10جنوری 1966ء کو تاشقند میں روس کی پیش قدمی اور تجویز پر ہندوستان اور پاکستان کے مابین ’امن کانفرنس‘ ہوئی۔ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل ایوب خان جب کہ ہندوستان کی قیادت لال بہادر شاستری کر رہے تھے۔ یہ کانفرنس دو تین روز بعد ’معاہدہ تاشقند‘ پر منتج ہوئی، مگر کشمیر کا مسئلہ جہاں کا تہاں رہا۔ عملی جنگ میں میرا ذاتی تجربہ مئی 1965ء میں ہوا۔ اس وقت پاکستان کی افواج انتہائی کام یابی سے ہندوستان کی فوج سے نبرد آزما تھیں اور انہوں نے تیکنیکی اہمیت کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ’رن آف کچھ‘ کا محاذ پاکستان کی فوجی کام یابی کا گواہ تھا، مگر اس کی حربی اہمیت انتہائی محدود تھی، جسے ہرگز فیصلہ کُن نہیں کہا جا سکتا، بہر حال ’کَچھ‘ کا محاذ پھیلتے پھیلتے کشمیر تک پہنچ گیا اور 31 جولائی کو پاکستان کی آرمی حرکت میں آگئی اور پیدل فوج کے ساتھ ساتھ توپ خانے اور بکتر بند دستوں کے ساتھ پیش قدمی کرنا شروع کردی۔

یکم ستمبر 1965ء کو عین جنگ کے دوران مجھے ’چَھم‘ جانے کا حکم ملا، میں بہ ذریعہ ہوائی جہاز L-19 سے پہلے کھاریاں پہنچا اور وہاں سے بہ ذریعہ جیپ جلال پور جٹان پہنچ گیا، جہاں بارہویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل اختر ملک 7 ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل یحییٰ کان کو ’چھَم‘ کی جنگ اور کمال حوالے کر رہے تھے میں دونوں کمانڈروں کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر جنرل یحییٰ کے احکامات کے مطابق بہ ذریعہ جیپ آگے والی 9 انفینٹری بٹالین کے ہیڈ کوارٹر کی طرف روانہ ہوا۔ ایک رات اور دو دن گزارنے کے بعد میں راول پنڈی آگیا، عین ہنگامی جنگ میں جو کچھ میں نے دیکھا اور سیکھا میری اصلی فوجی زنگی کا اہم ترین تجربہ ہے۔

ہر چند1965کی جنگ ہماری کارکردگی ہم سے کہیں زیادہ مسلح اور طاقت وَر ہندوستانی فوج کے مقابلے میں بے مثال تھی مگر ہم جنگ کے اختتام پر تقریباً وہیں کھڑے رہے جہاں جنگ سے پہلے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ہم 1965ء کی جنگ سے وہ کچھ حاصل نہ کرسکے ، جس کی ہمیں پوری توقع تھی اور ہم حاصل بھی کرسکتے تھے۔ لہٰذا لیفٹننٹ جنرل محمود احمد نے اپنی کتاب Victory of Ilusion (فریبِ فتح) کا عنوان استعمال کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی وہ واحد کتاب ہے، جس میں کمپنی اور اور بٹالین سے لے کر بریگیڈ ڈویژن تک کے آپریشن کا مکمل احوال موجود ہے۔

بڑے بھائی عثمان صدیقی بھی صحافی رہے!
بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی اپنے بچپن کے حوالے سے کہتے ہیں کہ میں تین چار برس کا تھا، دادی میرا بہت خیال کیا کرتی تھیں، اُن کے باورچی خانے میں ہنڈیا پکاتے ہوئے میں کبھی وہاں آجاتا تو وہ کہتیں ’’پھر آگیا تو شیطان! اچھا میں دیکھتی ہوں۔‘‘ پھر ہنڈیا ٹٹولتیں کہ کوئی بوٹی گَلی ہوئی ہوتی، تو وہ نکال کر دیتیں کہ جائو کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈی کرکے کھالو! ہماری برادری (پنجابی سوداگرانِ دہلی) میں روایت تھی کہ گھر میں چاہے کتنے ہی ملازمین ہوں، مگر کھانا ’خاتون خانہ‘ ہی پکاتی تھیں۔ ہم نے پوچھا آپ کے دادا اور دادی نے آخری مغلیہ دور دیکھا ہوگا، ان سے اس زمانے کی دلی کا کوئی تذکرہ سننے کا اتفاق ہوا؟ تو وہ کہتے ہیں کہ دیکھا ہوگا،تب میں بہت چھوٹا تھا، پھر اس زمانے میں اس طرح بزرگوں سے بات بھی نہیں کی جاتی تھی، جب میں بڑا ہوا، تو ان کی یادداشت ایسی نہ تھی کہ کچھ بتاتے۔

بریگیڈیر عبدالرحمن بتاتے ہیں کہ وہ اپنی والدہ کی پسند سے 1959ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہو گئے، ایک بیٹا ڈاکٹر مسعود الرحمن ریاض میں ہے۔ دوسرے ڈاکٹر ضیا الرحمن پی ایچ ڈی ’ناسا‘ میں تھے، وہاں ایک سڑک کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔ چھوٹا بیٹا انیس الرحمن کراچی میں ساتھ رہتا ہے۔ بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی دو بہنیں اور دو بھائی تھے۔ بڑے بھائی عثمان صدیقی 1968ء میں اہل خانہ کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئے، جہاں فروری 2018ء میں اُن کا انتقال ہوا، اگر وہ کچھ دن حیات رہتے تو عمر کے 100 برس مکمل کر لیتے۔ وہ پاکستان میں صحافت کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سینٹ اسٹیفن کالج (St. Stephen college) سے ایم اے کیا، اس کے فوراً بعد وہ ’اورینٹ پریس‘ چلے گئے، یہ مسلمانوں کی واحد ایجنسی تھی، جو حیدرآباد دکن کے ایک صاحب کی تھی۔ اس کے بعد وہ مختلف ایجنسیوں میں کام کرتے رہے، میر خلیل الرحمن، فخر ماتری اور الطاف حسین وغیرہ کے ساتھ رہے، پھر یہاں لکھنے لکھانے کا کام کرتے رہے لندن کے ہفت روزہ ’رائونڈ ٹیبل‘ کے لیے بھی لکھا۔

بے نظیر نے ’کارگل‘ کی مہم جوئی مسترد کر دی تھی!
1998ء کے کارگل کے محاذ کے حوالے سے بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے ’کارگل‘ کے ذریعے بہت غلط کھیل کھیلا، ہندوستان سے ہمارے اتنے اچھے تعلقات ہو رہے تھے۔ جب فروری 1998ء میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس میں بیٹھ کر وہاں آئے اور مینار پاکستان پر تقریر کی، میں بھی وہاں تھا۔

جنرل پرویز مشرف نے یہ منصوبہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ان کے سامنے بھی پیش کیا، جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ پرویزمشرف کو جوں ہی موقع ملا، انہوں نے کارگل کی پہاڑی چوٹیاں پکڑ لیں، مگر آگے جانے کے بعد پیچھے ’لائن آف کمیونکیشن‘ نہ تھی، جس کی وجہ سے بہت مشکلات ہوئیں، ہمارے سپاہی آگے تو جا رہے ہیں مگر ان کے لیے کچھ کھانے پینے کو نہ تھا۔ نیچے سے اوپر جانے کے لیے کم از کم ایک رات کے لیے آرام کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ آکسیجن کم ہونے کے سبب سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اوپر والوں کو تو برتری ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے دھڑا دھڑ سات، آٹھ سو ہندوستانی فوجی مار دیے۔ نیچے والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے گھر میں سرکاری نوکری اور تجارت گالی تھا!
بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی نے اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ چھے ستمبر 1924ء کو دلّی میں پیدا ہوئے، اُن کا تعلق ’پنجابی سوداگران دلّی‘ کے ایک بڑے خاندان سے ہے، اُن کے پردادا قطب الدین کو مرزا غالب نے اپنا دوست لکھا ہے۔ میرے والد شیخ محمد صدیق ایڈووکیٹ ایک کام یاب ’سول لائر‘ تھے اور لاہور ہائی کورٹ میں ہوتے تھے۔ دلی ہر چند کہ دارالحکومت تھا، لیکن وہاں صرف ’اسمال کورٹ‘ تھی، ہائی کورٹ لاہور میں ہی تھی، وہاں پولیس بھی پنجاب کی تھی۔ 1934ء میں والد 42 سال کی عمر میں دق کے سبب انتقال کرگئے، دو سال علیل رہے، اس دوران بہت پریشانی رہی۔ ہمارے گھر میں تو سرکاری نوکری اور تجارت گالی تھی۔ ہم کرایہ خوری کرتے تھے، یہ جائیداد چوں کہ وقف الاولاد تھی اس لیے تقسیم در تقسیم کے بعد اس کی محدود آمدن میں ہمارا گزارا مشکل تھا۔

والد کے انتقال کے وقت میں 10 سال سے بھی کم عمر تھا۔ ہم اردو کے قاعدے سے پہلے بغدادی قاعدہ پڑھ لیتے تھے۔ ایک استانی جی کے ہاں پڑھنے جاتے تھے، سبق کے دوران اگر کوئی شاگرد اتنی سی بھی غلطی کرتا تو فوراً ان کی چھڑی حرکت میں آتی تھی۔ میں 11 برس کی عمر تک اسکول نہیں گیا، ہمیں گھر میں ٹیوشن پڑھانے ماسٹر آتے تھے، جس سے میری انگریزی اچھی ہوگئی تھی۔ دادا کے چھوٹے بھائی حاجی عبدالغنی کو تعلیم کا بہت شوق تھا، وہ مجھے 1935ء میں ’اینگلو عربک اسکول‘ لے گئے، جہاں ٹیسٹ کے بعد پانچویں جماعت میں داخلہ ملا، 1941ء میں میٹرک کے بعد ’اینگلو عربک کالج‘ کے طالب علم ہوگیا، بی اے کیا، یہاں ایم اے کے لیے ’تاریخ‘ کا شعبہ نہ تھا، اس لیے ’سینٹ اسٹیفن کالج‘ (St. Stephen college) سے 1947ء میں ’تاریخ‘ میں ماسٹرز کیا۔

صحافت کا آغاز، ماسٹرز اور بٹوارے کا ہنگام ایک ہی برس ہوا
بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی بتاتے ہیں کہ اپریل 1947ء میں ’ایم اے‘ کا نتیجہ آیا، جس کے بعد ایک دن بنا فون کیے ’ڈان‘ کے مدیر الطاف حسین کے گھر چلا گیا، وہ لودھی روڈ پر ایک فلیٹ میں رہتے تھے، جہاں ان سے ملاقات ہوئی، میں اُن کی آنکھوں کی مخصوص چمک اور ان کی پراعتماد چال کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور پھر میں جون 1947ء میں ’ڈان‘ دلّی کا حصہ بن گیا۔ 9 اکتوبر 1947ء کو بہ ذریعہ ہوائی جہاز دلّی سے لاہور آگیا، یہاں میں بہت مشکلات کا سامنا تھا، مگر جب آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ کچھ نہ کچھ اسباب پیدا کردیتا ہے۔

میں ملازمت کی توقع لیے ’پاکستان ٹائمز‘ گیا، جہاں سے انکار ہو گیا۔ پھر ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ میں قسمت آزمائی، تو کام یاب ہوا۔ یہ اس وقت ہندوستان کے قدیم ترین انگریزی اخباروں میں سے تھا، اور نوزائیدہ ’پاکستان ٹائمز سے زیادہ طاقت وَر تھا، میں اس کے نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے پشاور چلا گیا۔ مجھے رپورٹنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا، لیکن انہوں نے میری بنیادی تنخواہ 200 روپے مقرر کی، اور الائونسز ملا کر یہ تنخواہ 340 روپے بن جاتی، جو پہلی تاریخ کو اکائونٹ میں آجایا کرتی تھی۔ اس وقت پاکستان میں 150 روپے ماہانہ تنخواہ والا خوش قسمت سمجھا جاتا تھا۔

’’یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ نئے ملک کی زبان اردو ہوگی!‘‘
قائداعظم کے بارے میں بریگیڈیر صاحب نے بتایا کہ ’مجھے انہیں ایک بار قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ پشاور میں اپریل 1948ء میں وہ ڈھاکا سے واپسی پر 10دن وہاں رہے تھے۔ وہاں پشاور کلب میں ان کے اعزاز میں پارٹی ہوئی تھی، میں ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ کی طرف سے وہاں نمائندہ تھا۔ میں نے بھی دیگر اخباری نمائندوں کے ساتھ ان سے مصافحہ کیا۔ وہ بہت ضعیف ہوچکے تھے، اُن کے چہرے پر وہ تاثرات نہیں تھے، جو ایک ملک بنانے والے یا کام یاب آدمی کے ہوتے ہیں۔

اس وقت وہ بہت ٹوٹ چکے تھے۔‘ ہم نے اس کی وجہ پوچھی، تو بریگیڈیر صاحب نے کہا ’ایک تو اتنا بڑا فساد ہوا، لاکھوں افراد مارے گئے، پھر یہاں آکر لسانی رنگ دیکھے! بنگالیوں نے ہمیں تنگ نہیں کیا، مگر جناح نے سب سے بڑی اور ایک بنیادی غلطی کی کہ گورنر جنرل کے طور پر ڈھاکا جا کر کہا کہ ’ریاستی زبان اردو ہوگی، جب کہ بنگالی بہت رئیس زبان ہے۔‘ ہم نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی ’قومی زبان‘ کے لیے یہ کہا تھا اور اہل بنگال کو اختیار دیا تھا کہ وہ چاہیں تو اس کے ساتھ اپنی کوئی ایک صوبائی زبان بھی رکھ سکتے ہیں، جس پر بریگیڈیر عبدالرحمن نے کہا کہ انہوں نے لفظ قومی نہیں بلکہ ’ریاستی‘ کہا، اور صوبائی سطح کی زبان کے لیے یہ کہا ہوگا، مگر اُن کی جو بات پکڑی گئی، وہ یہی تھی کہ ’اردو، اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی سرکاری زبان ہوگی!‘

ہم نے کہا کہ اردو کے حوالے سے تحریک پاکستان کے دوران ہی تذکرہ ہوا تھا کہ ’اردو ہی ہماری زبان ہے‘ اس پر انہوں نے کہا کہ ’’تحریک پاکستان کے دوران کوئی اتنی تفصیل میں نہیں گیا، بس یہ تھا کہ ہمیں پاکستان چاہیے، اتنے بھولے تھے ہم لوگ۔۔۔!‘‘ ہم نے پوچھا کہ بٹوارے سے پہلے کیا اردو سے متعلق ذہن واضح نہیں تھا؟ وہ کہتے ہیں کہ ’بالکل واضح تھا، مگر یہ تھا کہ کون ہے جو ہم سے اردو کو الگ کر سکتا ہے، لیکن نئے ملک کی زبان اردو ہوگی، یہ بات فرض کر لی گئی تھی۔‘

’ایم کیو ایم پر تنقید کردی، تو سوچا اب تو میں مارا جائوں گا!‘
بریگیڈیر (ر) عبدالرحمن صدیقی نے پاکستان میں ’مہاجر‘ شناخت کے حوالے سے ایک کتاب بھی لکھی ہے، اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ’میں مہاجر تھا اور مہاجر ہوں! میں وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آیا۔‘ ہم نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اب تو ہجرت کرنے والے پاکستانی ہو گئے؟ تو بولے پاکستانی تو ہیں، اب پٹھان یا پنجابی کیا پاکستانی نہیں؟ کیا انہوں نے خود کو پٹھان یا پنجابی کہنا چھوڑ دیا۔ ہم نے یہاں پیدا ہونے والوں کا شناخت کے طور پر خود کو ’مہاجر‘ کہنے کے حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والوں کو خود کو ’مہاجر‘ نہیں کہنا چاہیے۔

بریگیڈیر عبدالرحمن صدیقی کی لندن میں تین دفعہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ملاقات ہوئی، جسے وہ بہت اچھا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انہوں نے مجھے بہت عزت دی اور میری باتوں کو بہت توجہ سے سنا۔‘ اس ملاقات کے حوالے سے بریگیڈیر عبدالرحمٰن نے بتایا کہ ’میں اُن سے یہی کہتا رہا کہ دیکھو! اس طرح کام نہیں چلے گا کہ تمہارا تعلق کسی بھی لحاظ سے ملک توڑنے سے بتایا جائے۔ آخری ملاقات 1993ء سے 1995ء کے درمیان ہوئی۔ میں کبھی سیاست دانوں سے ملنے کا قائل ہی نہیں، کوئی دوست ہو تو الگ بات ہے۔

بریگیڈیر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ الطاف حسین سنتا بہت تھا، مگر کرتا وہی تھا جو اس کی مرضی ہوتی۔ میرے خیال میں الطاف حسین ملک کے خلاف نہیں تھا، ہم نے اسے ٹھیک طریقے سے ڈیل (Deal) نہیں کیا۔ 1992ء میں میرا دوست ڈی جی ’آئی ایس آئی‘ لفٹیننٹ جاوید ناصر تھا، میں نے اس سے کہا ’تمہاری اسٹرٹیجی بہت اچھی تھی کہ دبایا جائے، مگر تمہاری تیکنیک ٹھیک نہ تھی، کہ تم نے ایک ہی دن میں رینجرز کی گاڑیاں بھی دے دیں اور آفاق اور عامر سے پریس کانفرنس بھی کرادی۔‘

بریگیڈیر صدیقی کا خیال ہے کہ ’ایم کیو ایم‘ کو مثبت انداز میں برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے بہت غلطیاں کیں، جیسے بھتا خوری وغیرہ۔ میں نے ایک مرتبہ ٹی وی پروگرام میں کہہ دیا کہ ’’بھئی یہ ایم کیوایم والوں نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے کہ کسی گھر میں کوئی شادی ہو رہی ہوتی ہے تو کہہ جاتے ہیں کہ دو دیگیں پہنچا دینا!‘‘ بعد میں، میں نے سوچا کہ ’عبدالرحمن صاحب، آپ نے کیا کہہ دیا آپ تو مارے جائیں گے۔‘



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔