دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ اور لاکھوں افراد کی ہلاکت

ایڈیٹوریل  اتوار 11 نومبر 2018
عالمی قیادت کو اس انسانی المیہ کو روکنے کے لیے اس کا کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

عالمی قیادت کو اس انسانی المیہ کو روکنے کے لیے اس کا کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں گزشتہ 17 سال کے دوران پاکستان میں 65 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں 23 ہزار سویلین، 9 ہزار سیکیورٹی افسران اور اہلکار اور 90 امریکی کنٹریکٹر بھی شامل ہیں۔ اس کا انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی طرف سے جنگ کی قیمت کے نام سے مرتب کی جانے والی رپورٹ جس میں 2001ء سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں، یہ وہ وقت ہے جب امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کی تھی، اس رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان، افغانستان اور عراق میں پانچ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے عرصے میں متذکرہ ہلاکتوں میں 22 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں کرنے والے اداروں کے اراکین بھی موت سے ہمکنار ہوئے۔ صرف افغانستان میں اکتوبر 2018ء تک مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سینتالیس ہزار تھی جن میں افغان سیکیورٹی فورسز، سویلین اور طالبان فورسز کے جنگجو بھی شامل تھے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ افریقہ سے لے کر ایشیا تک اگر درست اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو بہت زیادہ ہلاکتیں سامنے آئیں گی۔ امریکا اور یورپ میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں بھی شہری ہلاک ہوئے، سوڈان، مصر، صومالیہ، لیبیا، شام، یمن اور افغانستان میں لاکھوں افراد مارے گئے۔

مارے جانے والوں میں سیکیورٹی اداروں کے اہلکار، القاعدہ، داعش، الشباب اور طالبان کے جنگجو اور عام شہری شامل ہیں۔ اتنی زیادہ ہلاکتیں شاید پہلی اور دوسری جنگیں عظیم ہی ہوئی ہوں گی۔ دونوں جنگوں کے بعد جو جنگیں ہوئیں، ان میں اتنی ہلاکتیں شاید نہ ہوں جتنی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔اس جنگ سے ساری دنیا خوف میں مبتلا ہوئی ۔ماضی کے مقابلے میں آج کی دنیا زیادہ غیر محفوظ ہے۔

عالمی قیادت کو اس انسانی المیہ کو روکنے کے لیے اس کا کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو جنگ زدہ ملکوں کو تو اپنی لپیٹ میں تو لیے ہوئے ہے لیکن ترقی یافتہ اور پرامن ممالک بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ وہاں بھی لوگ خوف کا شکار ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔