بھرے پیٹ کے بھوکے بچے

محمد عاطف شیخ  اتوار 18 نومبر 2018
مخفی بھوک کے اثرات بچپن سے لڑکپن اور نوجوانی سے بڑھاپے تک انسان کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ فوٹو: فائل

مخفی بھوک کے اثرات بچپن سے لڑکپن اور نوجوانی سے بڑھاپے تک انسان کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پستہ قد، دبلے پتلے،کم وزن اور سست بچے۔ یہ ہے تصویر ہمارے مستقبل کی۔ بات ذرا تلخ ہے لیکن ہے حقیقت ۔ کیونکہ ہم جو کچھ اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں اس سے ان کے پیٹ تو شاید بھر رہے ہوں لیکن ان کے جسم اچھی غذائیت کے بھوکے ہیں۔

اس بھوک کو ماہرین مخفی بھوک (Hidden Hunger) کا نام دیتے ہیں ۔ یعنی خوراک میں غذائی اجزاء کا عدم توازن جو ناصرف بچوں کی جسمانی و دماغی صحت اور نشوونما کو متاثر کرتا ہے بلکہ خواتین خصوصاً حاملہ اور دودھ پلانے والی مائوں کی غذائی (Nutritional) ضروریات کو بھی پورا نہیں کرتا۔ نتیجتاً ہماری بنیاد (بچے ) اور اُن کی معمار (مائیں) دونوں کی اکثریت کمزور صحت کا شکار ہے۔

مخفی بھوک (Hidden Hunger) دراصل قلیل مغزی کمی (Micronutrient deficiency) کا دوسرا نام ہے۔ ہمارے جسم کو اگرچہ ان مائیکرو نیوٹرینٹس کی تواتر کے ساتھ بہت تھوڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ غذائی اجزا دراصل ایک جادو کی چھڑی کا کام کرتے ہیں۔ یہ جسم کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ مختلف خامرے(enzymes) ، ہارمونز اور دیگر ایسے اجزاء بنائے جو مناسب صحت اور نشوونما کے لئے ضروری ہیں۔ حمل کے پہلے دن سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک کے تقریباً 1000 دن غذائیت اور جسمانی و دماغی نشوونما کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں میں حاملہ اور بچے کو متوازن اور غذائیت بخش خوراک ملے تو بچوں کی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما بھی بھرپور ہوتی ہے اور بچے بیماری کا بھی کم شکار ہوتے ہیں ۔

ان ہزار دنوں میںمائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی یا غیر موجودگی کے مضر اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ان ہزار دنوں میں صحیح متوازن غذا سے ہم ہر سال دس لاکھ جانیں بچا سکتے ہیں اور بڑی حد تک بیماریوں سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق ہے کہ جب وہ پیدا ہو تو وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہو ۔ اْسے پیدائش کے فوراً بعد سے دوسال تک ماں کا دودھ میسر ہو ۔ حفاظتی ٹیکے بروقت لگوائے جائیں۔ کھیلنے اور سیکھنے کے مواقع مہیا کئے جائیں ۔ معیاری اور مکمل تعلیم فراہم کی جائے ۔ اْسے تحفظ دیا جائے۔ ان تمام حقوق کی ادائیگی مشروط ہے زچہ اور بچہ کو متوازن خوراک کی فراہمی سے۔ کیونکہ غذائی قلت، قلیل مغزی یا مخفی بھوک بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر مبنی معیارِ زندگی کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان قلیل مغزی (Micronutrients) میںآیوڈین، حیاتین الف (Vitamin A)، فولاد (Iron) جست (Zinc) اور حیاتین د (Vitamin D) دنیا بھر میں عوامی صحت کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ ماہرین کے مطابق آیوڈین کی کمی نئے پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کو کم کر دیتی ہے اور گھینگا یعنی گلے کی غدود ( Thyroid)کے بڑھنے کا باعث بنتی ہے ۔ اسی طرح فولاد کی کمی سے خون، سیکھنے اور جاننے کی صلاحیتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ حمل اور زچگی کے دوران زچہ کی اموات کے خطرے میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

اس کے علاوہ قبل از وقت پیدائش یعنی پری میچور ڈلیوری کی وجہ بنتی ہے۔ انسانی جسم میں توانائی اور طاقت کی کمی کا باعث بنتی ہے جس کا نتیجہ سستی اور تھکاوٹ کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ جبکہ وٹامن اے کی کمی بینائی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کمی اندھے پن کا باعث بنتی ہے۔ کئی طرح کی شدید بیماریوں کا شکار ہونے کی وجہ بنتی ہے۔ اور اسکول جانے کی عمر سے قبل کے بچوں میں عام طور پر دست، اسہال اور خسرہ جیسی بیماریوں کا باعث ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین میں رات کا اندھا پن اور اموات کے خطرے میں اضافہ کر دیتی ہے۔

علاوہ ازیں زنک کی کمی کی وجہ سے انسانی جسم میں موجود مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس تشنگی کی وجہ سے عمر کے حساب سے قد نہیں بڑھتا۔ اور تواتر کے ساتھ مختلف انفیکشنز کا شکار ہونا اس کا ایک نمایاں خراج ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی کی کمی کا تعلق بچوں اور بالغوں میں کئی طرح کی بیماریوں کے لاحق ہونے سے پایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا وٹامن ہے جو ہمارے جسم کے درست طور پر کام کرنے کے لئے جسم کے ہر خلیے کو درکار ہوتا ہے۔

غذا سے حاصل ہونے والے کیلشیم کو جذب کرنے کے لئے وٹامن ڈی کی سطح کا نارمل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ کیلشیم دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لئے عین لازمی ہے اور یہ نظام عصبی کے لئے بھی اہم ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام کے درست طور پر کام کرنے کے لئے وٹامن ڈی کا مناسب مقدار میں ہونا اہم ہے۔ ایک نوزائیدہ بچے کے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح ماں کے برابر ہوتی ہے۔ لہذا اگر دوران حمل ماں کے جسم میں وٹامن ڈی کم رہا ہو تو اس کا بچہ بھی وٹامن ڈی کی کمی لئے پیدا ہوگا۔ وٹامن ڈی کی شدید کمی کا شکار بچوں کو سوکھے پن کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے ۔ چونکہ ہڈیاں نارمل طریقے سے نہیں بن پاتیں بچے کا قد چھوٹا اور ٹانگیں مڑی ہو سکتی ہیں۔ بعض دفعہ خون میں کیلشیم کی سطح بہت کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بچے کو دورے پڑسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کی زیادہ کمی کی صورت میں بچوں اور بڑوں دونوں میں پٹھوں کی کمزوری اور دکھن واقع ہو سکتی ہے۔

مخفی بھوک (Hidden Hunger) یعنی مائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی کے اثرات بچپن سے لڑکپن اور نوجوانی سے بڑھاپے تک انسان کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ یہ پیدائش کے وقت بچوں کی کم وزنی کا باعث بنتی ہے۔ شیر خوار بچوں کی اموات میں اضافہ کا موجب ٹھہرتی ہے۔ یہ چھوٹے بچوں کی دماغی نشوونما کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ بڑے بچوںکا قد ان کی عمر کے اعتبار سے نہیں بڑھتا اور ان کی دماغی صلاحیتوں میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تواتر سے انفیکشن کا شکار رہتے ہیں۔ جلدی تھک جاتے ہیں۔ سیکھنے کی صلاحیتوں میںدشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ اور شرح اموات میں اضافہ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ نوبالغوں کے قد ان کی عمر کے حساب سے کم رہ جاتا ہے۔ دماغی صلاحیتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔

تھکاوٹ اور سستی کا شکار رہتے ہیں۔ کھیل کود میں زیادہ حصہ نہیں لے پاتے۔ انفیکشنز میں مبتلا ہونے کے خطرے کا شکار رہتے ہیں۔ ناقص غذائیت کی وجہ سے ہمہ وقت بیماریوں میں گھرے رہنے والے بالغوں کی معاشی پیداواری صلاحیتیں متا ثر ہوتی ہیں جو ان کی کمزور معاشی اور سماجی حیثیت کا باعث بنتی ہے۔ جبکہ حاملہ خواتین کی اموات کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یا وہ مختلف پیچیدگیوں کا شکار رہتی ہیں۔ بڑھاپے میں ہڈیوں کا بھر بھرا پن اور دماغی و جسمانی کمزوری ان مائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی کا شاخسانہ ہے۔

اس کے علاوہ بزرگی کے ایام میں قلیل مغزی کمی کی وجہ سے پہلے سے کمزور مدافعتی نظام کمزور تر ہو جاتا ہے جو شرح اموات میں اضافہ کا محرک بنتا ہے۔ غرض یہ مخفی بھوک انسانی صحت پر اپنے منفی اثرات ڈالنے کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کمی ایف اے او کے مطابق دنیا کو ہر سال 1.4سے2.1 ٹریلین ڈالر سالانہ معاشی پیداواری نقصان پہنچانے کا محرک بنتی ہے۔ کیونکہ یہ دنیا کی ایک تہائی سے زائد آبادی کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔

قلیل مغزی کمی (Micronutrient deficiency)کی وجہ سے پیدائش کے وقت بچے کم وزنی کا شکار ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اُن کی مائیں قبل از حمل خصوصاً دورانِ حمل ایسی خوراک کا استعمال نہیں کرتیں یا اُن کو ایسی خوراک نہیں دی جاتی جو اُن کی غذائی ضروریات کو پورا کرے۔ تاکہ اُن کے شکم میں پلنے والے وجود کی مکمل نشوو نما ہوسکے۔ لہذا خواتین جو پہلے ہی خون کی کمی کا شکار ہو تی ہیں۔ حمل کے دوران خون کی مزید کمی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

اس حوالے سے ورلڈ بینک کے اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی 51.3 فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی کی گرفت میں ہیں اور یہ دنیا بھر میں 22 ویں سب سے زیادہ شرح ہے جس سے زچہ و بچہ دونوں کی صحت متاثر ہوتی ہے اور پیدا ہونے والے بچے کم وزن، کمزور اور مختلف بیماریوں کے حصار میں آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی مائوںکے ہاں اکثر پری میچور پیدائش (وقت سے پہلے) کے زیادہ کیسز ہونے کا امکان ہوتا ہے جو کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

پاکستان کے تناظر میں اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ عالمی ادارہ اطفال کے ان اعداد وشمار سے لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے 32 فیصد بچوں کا وزن پیدائش کے وقت اڑھائی کلو گرام سے کم ہوتا ہے۔ یعنی وہ کم وزنی کا شکار ہوتے ہیں ۔اور یہ دنیا بھر میں دوسری سب سے زیادہ تشویشناک شرح ہے۔ جبکہ 28 دن کی عمر سے کم کے نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات (Neonatal mortality rate ) 46 فی ہزار ہے جو دنیا بھر کے ممالک میں سب سے زیادہ سنگین شرح ہے۔

ایک تو پہلے ہی خون کی کمی اور اُس پر دورانِ حمل اور بعد از حمل متوازن غذائیت کی حامل خوراک کا فقدان مائوں کی اکثریت کو اس قابل ہی نہیں چھوڑتا کہ وہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد اور بعد ازاں چھ ماہ تک اُسے صرف اور صرف اپنا دودھ ہی پلا سکیں۔ یونیسیف کی رپورٹ اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرنز 2017 اس حوالے سے ملکی صورتحال کو یوں واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ماں کے دودھ پلانے کی شرح صرف 18 فیصد ہے جو دنیا بھر میں پانچویں سب سے کم تر شرح ہے۔

اسی طرح چھ ماہ تک بچے کو صرف اور صرف ماںکے دودھ پلانے کی شرح 37.7  فیصد اور دو سال کی عمر تک بچے کو ماں کا دودھ دینے کا تناسب 56.1 فیصد ہے۔ ماں کا دودھ نوزائیدہ بچوں کی صحت مند نشوو نما کے لیے بہترین اور مکمل غذا ہے۔ اس میں وہ تمام غذائی اجزاء مناسب مقدار اور تناسب سے موجود ہوتے ہیں جو بچے کی جسمانی اور دماغی نشوونما کے لئے درکار ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کو مختلف بیماریوں اور الرجی سے محفوظ رکھتا ہے اور اس میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ یوں اس نعمت خداوندی سے محرومی بچوں کی جسمانی اور دماغی نشوونما کو متاثرکرنے کے علاوہ ان کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کو کم کر دیتی ہے جس سے اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور سونے پہ سہاگہ بچوںکو ماں کے دودھ کے علاوہ دی جانے والی زیادہ ترخوارک مائیکرو نیوٹرینٹس سے مبرا ہوتی ہے جو صورتحال کو زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات (Infant mortality rate ) 64 فی ہزار کے ساتھ پاکستان دنیا بھر میں11 ویں نمبر پر ہے۔

جبکہ ملک میں ہر سال 4 لاکھ 24 ہزار بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی اس دارِفانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور بچوں کی اموات کی یہ دنیا بھر میں تیسری بڑی تعداد ہے۔ اگر ہم ملک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات (Under-5 mortality rate ) کا جائزہ لیں تو یہ 79 فی ہزار ہے جو دنیا بھر میں 20 ویں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ خوراک یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ 77 ہزار بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف اُن میں یا اُن کی مائوں کی ناقص غذائیت ہوتی ہے۔ جبکہ ملک میں سالانہ بچوںکے دست، اسہال اور سانس کے انفیکشن کے90 ملین کیسز ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ بچوں کو ماں کو دودھ پلانے کی کم شرح اور زنک کی کمی ہے۔

قلیل مغزی کمی (Micronutrient deficiency)کا شکار بچے نہ صرف جسمانی لحاظ سے پست رہ جاتے ہیں بلکہ ان کا دماغ جاننے اور سیکھنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر پاتا۔ اس سے ان کے سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہیں خصوصاً اسکول میں سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ یوں دوسرے صحت مند بچوں کی نسبت ایسے بچے ترقی کے ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہوتے ہیں۔آسانی سے بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے ان میں مزید غذائی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

اور جب یہ صورتحال شدید ہو تو موت کے امکان کے زیادہ شکار رہتے ہیں ۔ یا جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو کم کماتے ہیں اور سماجی میل ملاپ میں رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 کے تازہ ترین اعدادوشمار ملکی بچوں کی غذائی صحت کا جو منظر نامہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ بہت تو جہ طلب ہے۔ کیونکہ اس وقت ہمارے 38 فیصد بچے جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے اپنی عمر کے اعتبار سے پستہ قد (Stunting) ہیں ۔ یعنی ایک تہائی یا یوں کہیں کہ ہر تین میں سے ایک بچہ۔ اسی طرح 7 فیصد بچے جن کی عمر 5 سال سے کم ہے ان کا وزن اپنے قد کے حوالے سے کم (Wasting) ہے۔ جبکہ اسی ایج گروپ کے حامل 23 فیصد یعنی ایک چوتھائی بچے اپنی عمر کے حساب سے کم وزنی (Underweight) کا شکار ہیں۔

بچوں کی اس غذائی صحت (Nutritional Health) کی صورتحال کے پس منظرمیں موجود بہت سے محرکات میں سے ایک بنیادی محرک مائوں اور بچوں کے استعمال میں آنے والی خوراک میں ما ئیکرو نیوٹرینٹس کا عدم توازن ہے جس کی عکاسی 2011 میں ہونے والے قومی غذائیت سروے کے اعدادوشمار یوںکر رہے ہیں کہ ملک کی 37 فیصد حاملہ اور26.8 فیصد غیر حاملہ خواتین فولاد کی کمی کا شکار ہیں۔ جبکہ46 فیصد حاملہ اور42.1 فیصد غیر حاملہ خواتین وٹامن اے کی کمی میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح47.6 فیصد اور41.3 فیصد حاملہ اور غیر حاملہ خواتین زنک اور68.9 فیصد اور 66.8 فیصد بالترتیب وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں 51 فیصد حاملہ اور 50.4 فیصد غیر حاملہ خواتین خون کی کمی میں گرفتار ہیں۔

اس کے علاوہ بچوں میں ما ئیکرو نیوٹرینٹس کی کمی کے حوالے سے اعدادوشمار بھی کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ سروے کے مطابق پاکستان کے پانچ سال سے کم عمر کے 61.9 فیصد بچے خون کی کمی کے شکنجہ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ خون کی کمی کا شکار بچوں کا تعلق سندھ سے ہے جہاں72.5 فیصد خون کی کمی میں مبتلا ہیں۔ 60.3 فیصد کے ساتھ پنجاب دوسرے، 56.8 فیصد کے ساتھ بلوچستان تیسرے، 47.3 فیصد کے ساتھ خیبر پختونخوا چوتھے اور 46 فیصد کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر پانچویں نمبر پر ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان میں یہ شرح 41 فیصد ہے۔ فولاد (آئرن) کی کمی کے حوالے سے سروے جو حقائق بتاتا ہے اُس کے مطابق ملک کے43.8 فیصد بچوں میں اس کی کمی ہے۔ پنجاب 48.6 فیصد کی شرح کے ساتھ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے43.5 ، سندھ کے 40.6 ، گلگت بلتستان کے36.2 ، بلوچستان کے32.5 فیصد اور خیبر پختونخوا کے26.4 فیصد بچے فولاد کی کمی کا شکار ہیں ۔ وٹامن اے کی زیادہ اور درمیانے درجہ کی کمی کے حامل بچوں کا تناسب ملکی سطح پر 54 فیصد ہے۔ بلوچستان کے73.5 فیصد، گلگت بلتستان کے71.8 فیصد، خیبر پختونخوا کے68.5 فیصد، سندھ کے53.3، پنجاب کے51 فیصد اور آزاد جموں و کشمیر کے 43.8 فیصد بچوں میں وٹامن اے کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کا 39.2 فیصد زنک کی کمی کے حصار میں ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے47.2 فیصد، خیبر پختونخوا کے 45.4، بلوچستان کے39.5 ، سندھ کے 38.6 ، پنجاب کے38.4 اورگلگت بلتستان کے32.6 فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔ وٹامن ڈی کی زیادہ اور درمیانے درجہ کی کمی بھی پریشان کن صورتحال لئے ہوئے ہے۔ قومی غذائیت سروے کے مطابق ملک کے 58.1 فیصد بچے اس کمی کے زیر اثر ہیں۔ گلگت بلتستان میں صورتحال پورے ملک میں سب سے زیادہ سنگین ہے جہاں 68.9 فیصد بچے اس حیاتین کی کمی رکھتے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کے65.8 فیصد، پنجاب کے58.2 ، سندھ کے 58 فیصد ، بلوچستان کے57.9 فیصد اور خیبر پختونخوا کے54.4 فیصد بچے وٹامن ڈی کی کمی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

کم غذائیت والی خوراک، غربت،خوراک کی تیاری اوراس کو محفوظ کرنے کے غیر موزوں طریقے، کھانے کے اطوار،انسانی بیماریاں، جسم کی وٹامنز (حیاتین) اور منرلز (نمکیات)کو جذب کرنے کی کم صلاحیت ، زند گی کے مخصوص مراحل جیسا کے خواتین کو دورانِ حمل اور دودھ پلانے کے ایام میں اور شیر خوار بچوں کو قلیل مغزی کی زیادہ ضرورت ۔ یہ وہ محرکات ہیںجومخفی بھوک کا باعث بنتے ہیں۔ ہماری روزمرہ کی بنیادی خوراک جو کہ مکئی، گندم یا چاول پر مبنی ہے۔ لوگوں کو توانائی تو فراہم کرتی ہیں۔ لیکن ضروری وٹامنز اور منرلز کی انسانی جسم کو درکار مقدار کے مقابلے میں کم مقداردے پاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ مخفی بھوک کا شکار ہوتے ہیں۔ لوگ کیا کھاتے ہیں اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً غربت ، قیمتیں، والدین کا دبائو، کلچر کی ترجیحات، زمینی، ماحولیاتی اور موسمی عوامل وغیرہ ۔ یہ سب وجوہات یا ان میں سے چند ایک۔ لوگوں کے کھانے کی ترجیحات کا تعین کرتی ہیں۔

مخفی بھوک کا شکار یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ متوازن اور غذائیت سے بھر پور خوراک کی کیا اہمیت ہے۔ کیونکہ ان میںاکثر معاشی طور پر اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ غذائیت کی حامل خوارک ان کی دسترس میں ہو ۔ خاص کر جانوروں سے حاصل خوراک( گوشت، انڈے ، مچھلی اور ڈیری) پھل اور سبزیاں وغیرہ ۔ اس کے علاوہ جب خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے تو صارفین کی اکثریت بنیادی خوراک کا استعمال شروع کر دیتی ہے۔ اور وہ ایسی خوراک کا استعمال کم کر دیتے ہیں جو غذائیت کی حامل ہو۔ پاکستان کے تناظر میں اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ ملک کے68 فیصد گھرانے اتنی معاشی سکت ہی نہیں رکھتے کہ وہ غذائیت کے اعتبار سے موزوں خوراک کھا سکیں۔

اور پانچ فیصد گھرانے تو انسانی جسم کو درکار توانائی کی کم سے کم مقدار کے حامل کھانے کی بھی دسترس نہیں رکھتے۔ نومبر2017 میں عالمی ادارہ خوراک کی جاری شدہ رپورٹ ’’ فِل دی نیوٹرینٹ گیپ پاکستان‘‘ کے یہ اعداد وشمار یقیناً تشویشناک حالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ لیکن صوبائی سطح پر تو یہ صورتحال مزید دوچند ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے تو 80 فیصد گھرانے ہی متوزن غذائیت کی حامل خوراک کی خریداری کی طاقت نہیں رکھتے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا کے 67 فیصد فی کس، پنجاب کے 60 اور اسلام آباد کے32 فیصد گھرانوں کی پہنچ سے غذائیت بھری خوراک باہر ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمارے صرف 3 فیصد ایک سال تک کی عمر کے بچے (Infants) اور بڑے بچے (Young Children) موزوں اور غذائی تنوع (Diverse Diet ) کی حامل خوراک لیتے ہیں ۔

جن معاشروں میں مخفی بھوک اپنے قدم جما لیتی ہے۔ وہاں یہ لوگوں کو معاشرے کا کار آمد شہری بننے نہیںدیتی۔ یہ ممالک کو ناقص غذائیت (Malnutrition) کمزور صحت اور پیداوار کی کمی میں جکڑ لیتی ہے جس سے غربت میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اور افراد اپنی معاشی صلاحیتوں کا ادراک ہی نہیں کر پاتے۔ پاکستان کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ سکیلنگ اَپ نیوٹریشن (سن)، وزارتِ منصوبہ بندی و اصلاحات حکومتِ پاکستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملک کو ناقص غذائیت کے باعث ہر سال 7.6 ارب ڈالر یعنی ملک کی 3 فیصد جی ڈی پی کے برابر نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ نقصان پیداوار میں کمی، صحت پر آنے والے اخراجات اور کام کرنے والوں کی کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ یوں اس تمام تر صورتحال کے ساتھ پاکستان گلوبل ہیڈن ہنگر انڈیکس میں 63 ویں نمبر پر ہے( یہ انڈکس امریکہ کی پبلک لائبریری آف سائنس کے سائنٹیفک ریسرچ جرنل میں چھپنے والے تحقیقی مقالہ ’’ دی گلوبل ہیڈن ہنگر انڈیسیز اینڈ میپس: این ایڈوکیسی ٹول فار ایکشن‘‘ میں دنیا کے 149ممالک کے اعدادوشمار کی مدد سے تیار کیا گیا ہے) ۔

ناقص غذائیت کثیر الجہت پہلوئوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اسے کثیر الجہت پہلوئوں کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔ مثلاً حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو موزوں غذاء کی فراہمی، زندگی کے پہلے دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا خصوصی اہتمام، بچپن میں متوازن اور متنوع خوراک کی فراہمی، حفاظتی ٹیکے، صحت مندانہ ماحول (جس میں بنیادی صحت، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور موزوں سینی ٹیشن کی سہولیات کی د ستیابی شامل ہے ) اس کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے مواقعوں کی فراہمی اور ان سب کے ہمرا ہ غذائیت کے بحران میں کمی کے لئے اہداف کا تعین وغیرہ۔ یہ وہ مختلف جہتیں ہیں جس پر کام کر کے ناقص غذائیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ذکر ہوا غذائیت کے بحران پر قابو پانے کے اہداف کا تو عالمی ادارہ صحت نے 2025 تک ماں اور بچہ کی غذائیت کے حوالے سے جن گلوبل ٹارگٹس کا تعین کیا ہے اُس کے مطابق عمر کے حساب سے پستہ قد بچوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی کرنا ۔ تولیدی عمر کی حامل خواتین میں خون کی کمی میں50 فیصد کمی۔ پیدائش کے وقت کم وزن بچوں میں30 فیصد کمی، زائد وزن بچوں کی شرح میں اضافہ نہ ہونے دینا، بچے کو شروع کے چھ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح کو50 فیصد تک لانا اور قد کے حوالے سے وزن میں کمی کا شکار بچوں کی شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے برقرار رکھنا شامل ہیں۔ جبکہ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے گولز کا ٹارگٹ نمبر2 جو بھوک کے خاتمہ سے متعلق ہے۔اور اس کا ٹارگٹ 2.2 ہر طرح کی ناقص غذائیت کے خاتمے اور2025 تک غذائیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ٹارگٹ کے حصول کے بارے میں ہے۔ پاکستان نے اس ٹارگٹ یعنی 2.2 کے لئے اپنے جو اہداف مقرر کئے ہیں۔

ان کیمطابق عمر کے حساب سے قد کی کمی کا شکار بچوں کی شرح کا 21.9 فیصد تک لاناجبکہ بچوں میں قد کے اعتبار سے وزن میں کمی کی شرح کو7.5 فیصد اور کم وزن بچوں کے تناسب کو کم کر کے10 فیصد تک لانا شامل ہے۔ غذائیت کا شعبہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں اہمیت کاحامل ہے اور یہ ایس ڈی جیز کے تما م 17 اہداف سے بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے ۔ کیونکہ کہیں غذائیت میں بہتری پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کا باعث بنتی ہے تو کہیں پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول غذائیت میں بہتری کا پیش خیمہ بن رہے ہیں یعنی یہ دونوں باہم منحصر ہیں۔

دنیا بھر خصوصاً ترقی پذیر ممالک روایتی خوراک سے پراسس فوڈ کی جانب بڑھ رہے ہیں جو توانائی سے بھرپور اور قلیل مغزی(مائیکرو نیوٹرینٹس) سے عاری خوراک اور ڈرنکس ہیں۔ یہ غذائی ارتقاء (Nutrition Transition) بہت سے ممالک پر ناقص غذائیت کے تہرے بوجھ کا باعث بن رہا ہے یعنی غذائی کمی، قلیل مغزی کی کمی اور موٹاپا۔ اس صورتحال کی شدت کو کم کرنے کے لئے ماہرین اُیسے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ جن سے مخفی بھوک کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

اس حوالے سے چار بنیادی طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اول متنوع خوراک(Diversifying Diets) ۔ متنوع خوراک کی اہمیت کو موثر طریقوں سے اجاگر کرنے کے لئے خوراک کی بنیاد بننے والی حکمت عملیوں (جیسا کہ گھریلو کاشت کاری، شیر خوار اور بڑے بچوں کو بہتر طریقے سے خوراک کھلانے اور خوراک کی تیاری اور اسے محفوظ کرنا تا کہ غذائیت کو قائم رکھا جاسکے) کے بارے میں لوگوں کو شعور دینا۔ دوم، تجارتی خوراک میں غذائی اجزاء کی شمولیت (Fortifing Commercial Foods) ۔ بنیادی خوراک کی پروسیسنگ کے دوران اس میں قلیل مغزی اجزاء کو شامل کرنا جس سے صارف کو تجویز شدہ مائیکرو نیوٹرینٹس کی مقدار حاصل ہوتی ہے۔

فورٹیفیکیشن کی کئی مثالیں ہیں جن میں آیوڈین ملا نمک ۔ فولاد اور زنک ملا آٹا، خوردنی تیل اور چینی میں وٹامن اے کی شمولیت وغیرہ ہے۔ سوم، بائیو فورٹیفیکیشن ۔ یہ ایک نئی اختراع ہے جس میں روایتی فصلوں میں روایتی یا جینیاتی طور پر مائیکرو نیوٹرینٹس کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ چہارم ، سپلیمنٹ ، اس کی واضح مثال ہمارے ہاں وٹامن اے کے قطرے ہیں جو بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کے علاوہ اضافی طور پر بطور سپلیمنٹ دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کی بینائی متاثر نہ ہو ۔

غذائی کمی کی اگرچہ ایک بڑی وجہ غربت ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ عام آدمی کی غذا اور غذائیت کے بارے میں لاعلمی بھی ہے۔ اکثر افراد کو یہ علم نہیں کہ صحیح اور متوازن غذا کیا ہوتی ہے، کون کون سی غذا ہمیں کیا غذائی اجزاء مہیا کرتی ہے۔ غذائی کمی کو دور کرنے کے لیے کونسی اور کتنی خوراک لینی چاہیے اور کس طرح کی چیزوں سے ہمیں پرہیز کرنے چاہیے۔

اس لاعلمی کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی روایات رواج پا گئی ہیں جو اس غذائی کمی کی وبا ء کو پھیلنے میں مدد دے رہی ہیں۔ بچوںکو ماں کا دودھ نہ دینا اور ڈبے کے دودھ کے استعمال کا بڑھتا ہوا فیشن، 6 ماہ کی عمر سے بچوں کو اضافی خوراک نہ دینا یا مناسب مقدار یا اجزاء کے مطابق نہ دینا، چپس، سلانٹی، کولڈ ڈرنک، انرجی ڈرنکس، بیکری کی چیزیں برگر، شوارمہ اور پیزہ کا بڑھتا ہوا استعمال ، حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی ، سرد اور گرم خوراک کا تصور ، بچوں کو بر وقت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا ۔ غرض ایک طویل فہرست ہے ہم انفرادیوں کی لاپرواہیوں کی ۔ ڈاکٹر رمیزہ کلیم جو کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے شعبہ پریونٹیو پیڈزکی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں اُن کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کو غذا اور غذائیت کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں اور ان میں اپنی صحت کا خود خیال رکھنے کا شعور بیدار کیا جائے۔

اس تناظر میں سب سے پہلا کام جو کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ ماں بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلائے۔ دو سال کی عمر تک ماں کا دودھ پلانے سے بچے کی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور وہ صحت مند اور مضبوط ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ غذا، تحفظ اور صحت کی ابتدا ہے۔ اس میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جو بچوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ ماں کے دودھ کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ اشرف المخلوقات کے لیے خد اکاخاص تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا ہیلتھ پلان ہے جو انسان کو نہ صرف بچپن بلکہ لڑکپن، جوانی اوربڑھاپے کی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ دودھ پلانے والی مائوں میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہمیں یہ شعور اور رہنمائی عام کرنے کی ضرورت ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد سے ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کو ماں کا دودھ شروع کروا دیا جائے۔

پیدائش کے ابتدائی گھنٹے میں بچہ زیادہ چست اور ہوشیار ہوتا ہے اور آسانی سے ماں کا دودھ لے سکتا ہے۔ بچے کے چوسنے کے عمل سے دودھ زیادہ بنتا ہے۔ ماں کا پہلا دودھ (کلوسٹرم) لحمیات، حیاتین اور مدافعتی اجزاء سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ بچے کا پہلا حفاظتی ٹیکہ ہے جو بچے کو مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اسے لازماً بچے کو دینا چاہئے۔ ماں کا دودھ شروع کروانے سے پہلے کسی قسم کی خوراک، گھٹی نہ دی جائے۔ اور چھ ماہ کی عمر تک بچوں کو صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی مائع یا ٹھوس چیز قطعاً نہ دی جائے حتی کہ پانی بھی نہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پانی بچے کے لیے ضروری ہے خاص کر گرمیوں میں، مگر یہ بالکل ضروری نہیں کیونکہ ماں کے دودھ میں 87% پانی ہوتا ہے جو اسکی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔اکثر مائیں صرف اس تصورسے کہ ان کا دودھ بچے کے لیے کافی نہیں ہے اوپری دودھ دینا شروع کر دیتی ہیں اوپری دودھ (جانور یا ڈبے کا) بالکل نہ دیا جائے کیونکہ ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ اگر دوسرا دودھ شروع کروا دیا جائے تو بچہ الجھائو کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اوپری دودھ کے بعد بچہ ماں کا دودھ کم پیئے گا جس سے ماں کا دودھ اور کم ہو جائے گا۔ اوپری دودھ میں پانی کی ملاوٹ سے انفیکشن ہو سکتا ہے۔

جس سے بچے کو دست اور غذائی کمی ہو جاتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماں کی خوراک کے حوالے سے ڈاکٹر رمیزہ کلیم کا کہنا ہے کہ ایسی مائوں کو زیادہ خوراک لینی چاہیے۔خوراک بڑھانا دودھ پلانے کے لیے ضروری ہے اس کے علاوہ اضافی خوراک سے روز مرہ کے کام کاج میں آسانی رہتی ہے۔ اور ماں کی غذائی صورتحال درست رہتی ہے۔ چھ ماہ کی عمر کے بعد بچوں کی خوراک کے بارے میں ڈاکٹرصاحبہ نے بتایاکہ جب بچہ چھ ماہ کی عمر کا ہو جائے تو اُسے ماں کے دودھ کے علاوہ اضافی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھ ماہ کی عمر سے اضافی خوراک شروع کروانے سے بچہ غذائی کمی سے محفوظ رہتا ہے۔ بچے کو ایسی اضافی خوراک دی جائے جو بچے کو اُس کی ضرورت کے مطابق توانائی، غذائی اجزاء مثلاً لمحیات، نشاستہ،چکنائی، معدنیات اور حیاتین وغیرہ فراہم کرے۔ اور خوراک بچے کو بھوک اور طلب کے مطابق دی جائے اور کھانا دینے کے اوقات اور کھلانے کا طریقہ بچے کی عمر کے مطابق ہو۔

اکثر مائیں اضافی خوراک شروع کرنے میں یا تو دیر کرتی ہیں یا کم خوراک دیتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں بچہ غذائی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بچوں کو کونسی اضافی غذائیں دی جا سکتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ڈاکٹر رمیزہ کلیم نے کافی تفصیل سے دیا۔ انھوں نے کہا کہ بچے کو روزانہ خوراک کے چار گروپ میں سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلائیں۔ یہ گروپ نشاستہ والی خوراک(چاول ، گندم ، مکئی، آلو)، حیاتین اور معدنیات والی خوراک(گہرے سبز پتے والی سبزیاں، ٹماٹر ، گاجر ، مالٹے، آم ، پپیتااور دیگر پھل)، لمحیات والی خوراک (مچھلی، دال ، مٹر، دودھ ، دہی، پنیر ، گوشت، مرغی ، انڈہ) اور چکنائی والی خوراک (تیل، گھی، مکھن، چربی ) پر مشتمل ہیں۔صرف ایک گروپ سے اضافی خوراک نہ دی جائے۔ چھوٹے بچوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ملی جلی اضافی خوراک کھائیں تاکہ خوراک کے عام اجزاء ایک کھانے میں مہیا ہو جائیں۔ جانوروں سے ملنے والی غذائیں مثلاً گوشت، اعضاء جیسے جگر، دودھ، دہی پنیر انڈے لمحیات، معدنیات ، چکنائی سے بھری غذائیں ہیں۔

جانوروں سے ملنے والی غذائیں بچوں کے لیے اچھی ہوتی ہیں جو انہیں مضبوط اور چست بناتی ہیں۔ جانوروں سے ملنے والی غذا بچوں کو روزانہ دینی چاہیے اور جب بچہ اضافی خوراک کھانا شروع کرتا ہے تو اُسے نئی خوراک کے ذائقے اور ساخت کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لئے شروع میں دن میں 2 سے 3 چھوٹے چمچ کھانے کے دیں اور باربار وہی ذائقہ متعارف کروائیں آہستہ آہستہ بچہ اس ذائقہ سے آشنا ہوجائے گا۔ اس دوران تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بچہ کی حوصلہ افزائی کریں زبردستی نہ کریں۔ کھانے کے دوران بچے کے ساتھ بات کریں اور اس کی طرف متوجہ رہیں۔ اس طرح بچے آہستہ آہستہ کھانے کی مہارت حاصل کر لیں گے اور زیادہ تنگ بھی نہیں کریں گے۔اکثر مائیں بچوں کی آسانی کے لیے بہت پتلی خوراک دیتی ہے یا بوتل کے ذریعے سے پتلی خوراک دیتی ہیں۔

ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ چھوٹے بچے کا معدہ بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ آٹھ ماہ کے بچے کے معدے میں ایک وقت میں تقریباً ایک کپ (200 ملی لیٹر ) خوراک سما سکتی ہے۔ پتلی خوراک اور مشروبات اسے جلدی بھر دیتے ہیں لیکن غذائیت پوری نہیں دیتے۔ ایسی غذائیں جو بہت پتلی نہ ہوں جو اتنی گاڑھی ہوں کہ چمچ کے اندر ٹھہرسکیں بچے کو زیادہ توانائی دیتی ہیں۔ آٹھ ماہ کی عمر تک خوراک کو مسل کر کھلائیں۔ کُتری ہوئی خوراک 9 سے11 ماہ کی عمر میں دی جا سکتی ہے۔

ایک سال کے بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دے سکتے ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ خوراک تیار کرنے اور کھلانے سے پہلے اپنے اور بچے کے ہاتھ صابن سے دھو لے ۔ ڈاکٹر رمیزہ کلیم ہیڈ آف پریونٹیو پیڈز ڈیپارٹمنٹ ، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے مطابق 6 سے 8 ماہ کی عمر کے بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ روزانہ 2  سے 3 کھانے دینے چاہئے۔ اور مقدار دو سے تین چمچ سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے تقریباً آدھا بھرا ہوا پیالہ دیں۔ اسی طرح 9 سے 11ماہ کے بچوں کو3 سے 4 کھانے روزانہ دیں اور ماں کا دودھ دینا بھی جاری رکھیں۔ خوراک کی مقدار آدھا بھرا ہوا پیالہ ہو جبکہ 2 1 سے 23 ماہ تک کی عمر کے اطفال کو یومیہ ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ 3 سے4 بارکھانے کو دیں جس کی مقدار ہر بار تین چوتھائی بھرا ہوا پیالہ ہونی چاہئے۔ اور دو سال تک ماں اپنا دودھ بھی بچے کو پلاتی رہے۔ انھوں نے بتا یا کہ بچوں کو بیماری (بخار اور اسہال )کے دوران زیادہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بیماری کا مقابلہ کر سکیں۔

بیمار بچے کو بھوکا مت رکھیں۔ بلکہ صبر و تحمل سے متواتر تھوڑی تھوڑی مقدار میں خوراک دینے کی کوشش کرتے رہیں۔ ماں کا دودھ پلاتے رہیں بیمار بچے ماں کا دودھ زیادہ مانگتے ہیں ۔ بیماری کے بعد بچے کو معمول سے ایک خوراک زائد دیں تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی توانائی اور وزن دوبارہ حاصل کر سکے۔ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرا یا جائے۔ یہ حفاظتی ٹیکے بچوں میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں اور انہیں غذائی کمی سے بچاتے ہیں کیونکہ بار بار بیمار ہونے سے بچے غذائی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غذائی کمی کا شکار بچوں کا علاج ممکن ہے ؟ اس بارے میں ڈاکٹر رمیزہ کلیم کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کا علاج بالکل ممکن ہے اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کا شعبہ پریونٹیو پیڈز دودھ پلانے والی مائوںکی مشاورت کے ساتھ ساتھ تربیت لیکر غذائی کمی کا شکار بچوںکے علاج معالجے تک کی خدمات مہیا کر رہا ہے۔

انفرادی حماقتیںاپنی جگہ لیکن غذائی دہشت گردی پر قابو پانے میں عدم دلچسپی ( یعنی غیر معیاری خوراک کی پیداوار/ تیاری کی روک تھام میں ناکامی اور خوراک میں ملاوٹ کی جانچ پڑتال کی کمی) خوراک کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کمزوری، لوگوں میں متوازن غذاء کے استعمال کے بارے میں شعور پیدا کرنے والی قومی مہموں کا فقدان، غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کے علاج معالجہ کی سہولیات کی تشنگی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت متعلقہ اداروں کی کوتاہیوںکی فہرست کو بھی طویل بنا دیتی ہے۔

لہذا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔آئیے اس بار 20 نومبر کو منائے جانے والے بچوں کے عالمی دن پر ہم سب اپنے حصہ کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کا ازسرِ نوعہد کریں تاکہ ہمارے بچے صحت مند و توانا رہیںاور اپنی پوری جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی ترقی کا پہیہ بنیں اورمضبوط ہاتھوں سے اس کی باگ ڈور سنبھالیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔