خون کی غیر محفوظ طریقے سے منتقلی موت کا سبب بن سکتی ہے، طبی ماہرین

اسٹاف رپورٹر  اتوار 18 نومبر 2018
خون زندگی بچانے کا اہم جزو ہے، ڈاکٹرانور، ڈنگی بخار میں پلیٹی لیٹس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹرآغاعمردراز۔ فوٹو: ایکسپریس

خون زندگی بچانے کا اہم جزو ہے، ڈاکٹرانور، ڈنگی بخار میں پلیٹی لیٹس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹرآغاعمردراز۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ خون کی غیر محفوظ طریقے سے منتقلی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے، خون کی منتقلی سے قبل اسکریننگ انتہائی ضروری ہے تاکہ خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کو روکا جاسکے۔

سر سید کالج آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن، انچارج بلڈ بینک جے پی ایم سی ڈاکٹر محمد انور، حسینی بلڈ بینک کے ڈاکٹر عمر دراز، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر خالد بھامبا، فاطمہ فاؤندیشن کے ڈاکٹر شبنیز حسین، کھارادر جنرل اسپتال کے ڈاکٹر اشرف میمن نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں منعقدہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے زیراہتمام سر سید کالج آف میڈیکل سائنسز کے تعاون سے ’’سیفٹی ان بلڈ کومپونینٹ تھراپی‘‘ کے موضوع پر مبنی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  اس موقع پر ڈاکٹر ارشد علی، ایکسپریس میڈیا گروپ کے اظفر نظامی اور مختلف اسپتالوں سے اسٹاف نرسز نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال میمن نے کہاکہ عوام میں خون اور اس کے استعمال کے حوالے سے آگاہی ہونا بہت ضروری ہے، غیرمحفوظ طریقے سے خون کی منتقلی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد انور نے کہاکہ خون زندگی بچانے کا اہم جزو ہے،خون کی غلط منتقلی سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے جس میں احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے،غلط ڈونر کے انتخاب سے مریض میں بہت سی بیماریاں منتقل ہوسکتی ہیں، ایک خون سے 4 اجزا بنائے جاسکتے ہیں،کسی ڈونر کا خون نکالنے کے بعد وہ خون فوری کسی دوسرے کو منتقل کرنے سے بیماریاں منتقل ہوتی ہیں، ہول بلڈ کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ یہ علیحدہ خون ہوتا ہے جسے کرونک اینیمیا اور دل کے امراض میں مبتلا مریض کو نہیں دیا جاسکتا،خون کی منتقلی کے دوران مریض کو کوئی چیز کھانے یا پینے کے لیے نہیں دے سکتے، اس کے باعث مریض کو ہونے والی تکلیف کے بارے میں جانچنا مشکل ہوجاتا ہے، خون منتقل کرنے سے قبل مریض کی شناخت لازمی چیک کریں، خون کی منتقلی کے علاوہ اگر کوئی علاج ہو تو پہلے اس پر عمل کریں اور اگر خون منتقل کرنا ضروری ہو تو مناسب اجزا کا استعمال کریں، بلڈ اسکریننگ انتہائی ضروری ہے تاکہ خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کو روکا جاسکے اور ضرورت مند کو معیاری اور صاف خون فراہم ہوسکے۔

ڈاکٹر آغا عمر دراز نے پلیٹی لٹس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ کسی مریض کو پلیٹی لٹس منتقل کرنے سے قبل اس کا انتخاب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خون کا ہوتا ہے، اسے منتقل کرنے سے پہلے اس کا معیار چیک کرنا چاہیے، ڈنگی وائرس کے سیزن میں پلیٹی لیٹس کی مریضوں کو بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جونیئر ڈاکٹرز جو مختلف ٹراما سینٹرز، ایمرجنسی وارڈوں میں کام کرتے ہیں ان کو خون کے مختلف پروڈکٹس کہاں اور کب استعمال کرنے ہیں، خون کو کس درجہ حرارت میں اسٹور کرنا ہے، ایک انسان سے دوسرے انسان میں خون کی محفوظمنتقلی کے حوالے سے آگاہی ہونا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر خالد بھامبا نے کہا کہ ہمارا مقصد تھیلیسیمیا میجر فری پاکستان بنانا ہے، تھیلیسیمیا2 قسم کے ہوتے ہیں تھیلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر ہمارے ملک میں 5 ہزار سے زائد بچے میجر تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں،17 فیصد مائنر تھیلیسیمیا میں،8 ملین عوام اس مرض سے متاثر ہیں،تھیلیسیمیا کے مریضوں کو روزانہ خون چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے، میاں بیوی دونوں کے تھیلیسیمیا مائنر ہونے سے ان کے بچوں کے 25 فیصد میجر تھیلیسیمیا،50 فیصد مائنر تھیلیسیمیا، اور 25 فیصد نارمل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں،سی بی سی اور ایچ بی الیکٹروفروس ٹیسٹ کے ذریعے تھیلیسیمیا کی تشخیص ہوسکتی ہے،کراچی میں 18 سینٹرز تھیلیسیمیا کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شبنیز حسین نے فریش فروزن پلازما کے حوالے سے کہا کہ ہیموفیلیاکے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ رہی ہے،مریضوں میں ہیموفیلیا اے اور بی کثرت سے پایا جاتا ہے،خون کا عطیہ کرنے والے میں اگر ہیموفیلیا اے اور بی جیسا کوئی وائرس نکل جائے تو اس سے مریض متاثر ہوگا،ایکسپریس کی کاوش کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح کے سیمینار ڈاکٹرز،عوام اور اسٹاف نرسز کے لئیے بہت موثر کردار ادا کرتے ہیں،خون کے تمام اجزا اہم ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر اشرف میمن نے کہاکہ ہماری غفلت کی وجہ سے بچے ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں، خون کی منتقلی سے قبل مریض کی اسکریننگ بہت اہم ہے، بلڈ بینکوں میں وربل اسکریننگ کی جاتی ہے جس کے بعد لیبارٹری اسکریننگ کا مرحلہ آتا ہے، اسکریننگ کے مختلف طریقہ کار ہوتے ہیں، ملیریا کے مرض میں مبتلامریض کی اسکریننگ کی جاتی ہے جبکہ ڈنگی کے مریض کی اسکریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، ہمارے ملک میں آج بھی ڈونرکی کمی ہے جس میں اضافے کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے،انھوں نے ہیپاٹائٹس بی کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن کے بعد امیونائزیشن بھی کرانی چاہیے۔

تقریب کے اختتام پر ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اظفر نظامی نے تمام ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا اور انھیں اعزازی شیلڈز پیش کیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔