الزبتھ بلیکویل

افشاں شاہد  منگل 20 نومبر 2018
شعبۂ طب کی قابلِ احترام اور مثالی شخصیت کا تذکرہ۔ فوٹو: فائل

شعبۂ طب کی قابلِ احترام اور مثالی شخصیت کا تذکرہ۔ فوٹو: فائل

الزبتھ بلیکویل دنیا کی ان عورتوں میں شمار کی جاتی ہیں جنھوں نے اپنے حصولِ تعلیم کے حق لیے آواز اٹھائی، جدوجہد کی اور اس راستے میں آنے والی ہر قسم کی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی اپنے حق کے لیے کوششیں اور جدوجہد رنگ لائی اور آج وہ دنیائے طب کا ایک معتبر حوالہ اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پہچانی جاتی ہیں۔

الزبتھ کا وطن برطانیہ تھا۔ 3 فروری 1821 کو پیدا ہونے والی الزبیتھ بلیکویل وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے طب کے شعبہ میں قدم رکھا اور باقاعدہ تعلیم اور ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس پیشے کو عملی طور پر اپنایا۔ یہی نہیں بلکہ اس میدان میں کام کرتے ہوئے انھوں نے دنیا بھر کی عورتوں کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کی طرف راغب کیا اور معاشرے کو باور کروایا کہ عورت کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا تو یہ جہاں اجتماعی ترقی اور خوش حالی کا سبب بنے گا، وہیں انسانیت کے لیے سود مند بھی ثابت ہو گا۔

الزبتھ بلیکویل نے ابھی ابتدائی تعلیم مکمل ہی کی تھی کہ ان کے والد نے کاروباری پریشانیوں کی وجہ سے برطانیہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ خاندان بہتر مستقبل کی خاطر امریکا ہجرت کر گیا جہاں ایک روز الزبتھ اپنے والد کے دستِ شفقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئیں۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے معاشی حالات مزید خراب ہو گئے۔

ان کی والدہ نے خاندان کی کفالت کے لیے کوشش کر کے ایک اسکول کھول لیا۔ اسی عرصے میں الزبتھ نے علم الادویہ اور علاج معالجہ میں دل چسپی لینا شروع کی جس نے انھیں ایک نئی راہ دکھائی۔ انھوں نے سرجن بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ان کا یہ خواب ایک حادثے کی نذر ہو گیا۔ البتہ وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے میڈیکل کے شعبے میں باقاعدہ ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد تا عمر میدانِ عمل میں متحرک رہیں۔ الزبتھ کا خیال تھا کہ وہ ڈاکٹر بن کر ان عورتوں کی مشکل آسان کرسکتی ہیں جو مرد معالجین سے اپنی صحت اور علاج معالجے سے متعلق بات نہیں کرنا چاہتی تھیں اور اس حوالے سے شرم اور ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھیں۔

الزبتھ بلیکویل نے اپنے خاندان کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا اور تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ 1847میں انھوں نے طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ٹھانی، لیکن اس دور میں مذہبی اور سماجی اقدار آڑے آگئیں۔ آج برطانیہ اور امریکا جیسے ملکوں میں صنفی مساوات اور فرد کی آزادی کا پرچار کیا جاتا ہے، لیکن اس دور میں انہی ممالک میں عورت کو معاشرتی جبر کا سامنا تھا۔

وہ مذہب اور روایات کی آڑ میں طرح طرح کی پابندیوں کا سامنا کررہی تھی۔ ایسے معاشرے میں الزبتھ بلیکویل کا میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست دینا بغاوت ہی تو تھا۔ تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ اس وقت کے مغربی معاشروں میں عورت پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی مردوں میں برتری کا احساس، صنفِ نازک کے ساتھ امتیازی سلوک اور عورت کے بنیادی حقوق کی پامالی جیسے کئی مسائل موجود تھے۔ عورت کے لیے تعلیم کے دروازے بند تھے، عورتوں کے لیے حصولِ علم کی ضرورت اور اس کی اہمیت کو نظر انداز اور اسے مذہبی اور سماجی اقدار کے خلاف عمل سمجھا جاتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ جب الزبتھ نے میڈیکل کی تعلیم کے حصول کی خاطر داخلے کی درخواست دی تو تمام بڑے تعلیمی اداروں نے اسے مسترد کر دیا، لیکن انھوں نے ہمّت نہ ہاری اور کسی طرح نیویارک کے جینیوا میڈیکل کالج میں انھیں داخلہ مل بھی گیا۔ تاہم دورانِ تعلیم انھیں کئی دوسرے مسائل کا سامنا تھا۔ صنفی امتیاز اور ناروا سلوک برداشت کرتے ہوئے الزبتھ نے اپنے عزم اور ارادے کی پختگی سے ہر محاذ پر کام یابی سمیٹی۔ قدامت پسند اساتذہ اور ساتھی طالبِ علموں کی کوشش ہوتی کہ کسی طرح الزبتھ بلیکویل کلاس روم اور تجربہ گاہ سے دور رہیں، مگر وہ وقت گزر ہی گیا۔ اب ساتھی طالبِ علم ان کے دوست بن گئے اور ان کی مدد سے تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔

جنوری 1849 کو بالآخر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ الزبتھ وہ پہلی خاتون بن گئیں جنھوں نے امریکا کے ایک میڈیکل اسکول سے ڈگری حاصل کی تھی۔ اس شان دار کام یابی کے بعد انھوں نے مزید تعلیمی سفر جاری رکھا اور پیرس کا رخ کیا۔ تاہم بدقسمتی سے یہاں ان کی زندگی نے ایک الم ناک موڑ لیا اور انفیکشن کے باعث ان کی ایک آنکھ کی بینائی ضایع ہو گئی۔ وہ سرجن بننا چاہتی تھیں، مگر اس حادثے کے بعد ان کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔

بعدازاں الزبتھ پیرس سے برطانیہ آگئیں اور ایک بڑے اسپتال کے مستند اور ماہر ڈاکٹر کے ساتھ پریکٹس شروع کر دی۔ 1851 میں انھوں نے نیویارک کے متعدد اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ملازمت کی درخواست دی، لیکن انھیں کہیں سے مثبت جواب نہ ملا۔ تاہم الزبتھ نے پھر ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے ایک گھر خریدا اور مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔ یہ شفا خانہ بھی تھا اور الزبتھ کا ٹھکانہ بھی۔ انھوں نے صحتِ عامّہ سے متعلق مقالے تحریر کیے، لیکچرز دیے جو 1852میں کتابی صورت میں سامنے آئے۔ یہ سب ان کے عزم اور ارادے کی پختگی سے ممکن ہوا تھا۔ الزبتھ نے اپنے راستے کی ہر رکاوٹ عبور کی اور مشکلات کو شکست دے دی تھی۔

1857میں انھوں نے اپنی بہن اور ایک ماہر ڈاکٹر کی مدد سے عورتوں اور بچوں کے لیے شفا خانہ قائم کیا۔ جنوری 1859تک برٹش میڈیکل میں الزبتھ کا نام پہلی رجسٹرڈ خاتون معالج کے طور پر درج تھا۔ اب وہ برطانیہ میں صحت کے حوالے سے لیکچر دے رہی تھیں اور ہر طرف ان کا نام عزت اور احترام سے لیا جاتا تھا۔ ان کی علمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں نے دوسری عورتوں کو بھی اس طرف راغب کیا اور ان میں شعبۂ طب کی تعلیم کے حصول اور نرسنگ کو بطور پیشہ اپنانے کا شعور بیدار ہوا۔ ان کا میڈیکل کالج برطانوی عورتوں کو طب کی تعلیم کی طرف راغب کرنے اور اس شعبے میں عملی طور پر آگے لانے کا سبب بنا۔ الزبتھ بلیکویل اپنی ہمّت اور کوششوں سے جہاں معاشرے کی دیگر عورتوں کے لیے مثال بنیں، وہیں طب کے شعبے میں انسانیت کے لیے اپنی خدمات کے باعث قابلِ احترام ٹھیریں۔

1857 سے 1907 کے عرصے میں انھوں نے لندن اسکول آف میڈسن فار چلڈرن میں پروفیسر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کے مقالہ جات اور متعدد کتابیں شایع ہوئیں جن کا بنیادی موضوع صحت اور علم الادویہ تھا۔ اس نہایت قابل اور انسان دوست شخصیت نے31 مئی 1910 کو ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔ ان کی عمر 89 سال تھی۔ آج الزبتھ بلیکویل کے نام پر متعدد شفاخانے اور درس گاہیں موجود ہیں جب کہ طب کی دنیا میں عورتوں کے لیے خدمات پر سال کا ایک دن بھی الزبتھ بلیکویل سے منسوب کیا گیا ہے۔

وہ ہمارے درمیان آج موجود نہیں، مگر ان کا یہ پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے کہ معاشرے صنفی امتیاز سے پاک ہوں اور عورتوں کو تعلیم کا حق دیا جائے تو دنیا بھر کے انسانوں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ مردوں میں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ عورتیں باصلاحیت اور قابلِ احترام ہیں اور کسی بھی شعبے میں ان کی دل چسپی اور رجحان کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے تو اجتماعی ترقی اور خوش حالی کے ساتھ انسانوں کی بہتر انداز سے خدمت اور مسیحائی کی جاسکتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔