کراچی حصص مارکیٹ میں پھر مندی، 108 پوائنٹس گرگئے

بزنس رپورٹر  جمعرات 27 جون 2013
20 کروڑ 32 لاکھ حصص کے سودے، بجٹ اقدامات سے خائف مقامی سرمایہ کار فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین۔  فوٹو: اے ایف پی/فائل

20 کروڑ 32 لاکھ حصص کے سودے، بجٹ اقدامات سے خائف مقامی سرمایہ کار فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

کراچی: شہر میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعے، بعض حصص میں پرافٹ ٹیکنگ اور بجٹ اقدامات کے ردعمل میں فروخت کے دباؤ کے سبب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو اتارچڑھاؤ کے بعد ایک بار پھر مندی کے اثرات غالب رہے تاہم غیرملکیوں اور بینکوں کی خریداری سرگرمیوں کی وجہ سے انڈیکس کی21000 کی نفسیاتی حد مستحکم رہی۔

مندی کے باعث 46 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 9 ارب 43 کروڑ 85 لاکھ 23 ہزار 514 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اگرچہ تیزی رہی لیکن اس تیزی کے اثرات کو مقامی کیپٹل مارکیٹ نے قبول نہیں کیا کیونکہ بجٹ اقدامات سے مقامی سرمایہ کار خائف ہیں اور وہ مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے بجائے پرافٹ ٹیکنگ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، بدھ کی مندی میں ایم سی بینک کے حصص پرفروخت کے دباؤ اور قیمت میں کمی کے علاوہ پی ایس او اور پی پی ایل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بدھ کو بھی حصص مارکیٹ کی سمت غیرواضح تھی جسکے سبب وقفے وقفے سے اتارچڑھاؤ کا رحجان غالب رہا، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں اور بینکوں کی جانب سے مجموعی طور پر 63 لاکھ54 ہزار504 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر219.30 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے15 لاکھ 69 ہزار 515 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے28 لاکھ 31 ہزار630 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ 75 ہزار421 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے9 لاکھ93 ہزار 967 ڈالر اوردیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ83 ہزار971 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس107.77 پوائنٹس کی کمی سے 21002.57 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس113.98 پوائنٹس کی کمی سے 16232.98 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 85.78 پوائنٹس کی کمی سے 36573.15 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت4.05 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ32 لاکھ47 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 346 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 159 کے بھاؤ میں اضافہ، 160 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ85 روپے بڑھ کر1835 روپے اور اٹک پٹرولیم کے بھاؤ 17.92 روپے بڑھ کر557.72 روپے ہوگئے جبکہ وائتھ پاکستان کے بھاؤ 19.50 روپے کم ہوکر1600.50 روپے اور ایم سی بی بینک کے بھاؤ11.64 روپے کم ہوکر244.43 روپے ہوگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔