کراچی لائف لائن ہے

کشور زہرا  جمعـء 23 نومبر 2018

ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ دیہی علاقے شہری علاقوں کی نسبت بہت زیادہ غربت و ناداری کا شکار ہیں۔ میں ذاتی طور پر اس رپورٹ سے اصولی طور پر اتفاق کرتی ہوں جب کہ ارباب اختیار غربت اور امیری کے درمیان فرق کو کم کرنے کی کوششوں کے دعوے ضرور کرتے ہیں، لیکن دعوے تو دعوے ہی ہیں جب کہ حالیہ زمینی حقائق ناقابل یقین اور مختلف ہیں۔

ورلڈ بینک نے اس کے ساتھ ملک میں حفظان صحت، غربت اور پانی کی فراہمی کے متعلق بھی نشاندہی کی ہے، مثلاً اس میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت 62 فیصد زیادہ بتائی گئی ہے اور وہاں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، یہ بھی صحیح ہے اور اس کی مبہم وجوہات بھی ہیں۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق واضح ہے، اس کی بھی وجہ تسمیہ تقریباً وہی ہے کہ علاقے کا وڈیرہ اور ان کے خاندان امیر سے امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور غریب جو ہاری اور کسان ہیں ان کی گاڑی ریورس میں ہے۔ پنجاب میں یہ فرق شہروں اور اندرون پنجاب 30 فیصد سے زائد ہے، جب کہ خیبرپختونخوا میں یہ تناسب 15 سے 85 فیصد تک ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہی شہری علاقوں میں آباد ہے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 70 فیصد سے زائد آبادی غریب اور دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔

جہاں پر بنیادی سہولتوں کا بے حد فقدان ہے، وہاں اعلیٰ تعلیم تو چھوڑیے، پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبا و طالبات کی تعداد شہروں کی نسبت بہت کم ہے، دیہی علاقوں کے بچوں کو حفظان صحت کے وہ ٹیکے بھی مناسب تعداد میں نہیں لگائے جاتے جو شہروں میں رہنے والے اپنے بچوں کو لازمی لگواتے ہیں، کیونکہ آگاہی کے مواقع شہری علاقوں میں زیادہ ہوتے ہیں، جب کہ شہروں میں بچوں کی اموات دیہی علاقوں سے کم ہیں، اس کی وجہ دیہات میں صحت کے مراکز ناکافی اور غیر معیاری ہیں اور ان میں موجود عملہ بھی بنیادی تربیت سے ناآشنا ہوتا ہے۔

اس رپورٹ کے خدوخال کو چھوڑ کر اگر ایک طائرانہ نظر ملک کی موجودہ معاشی، سماجی اور سیاسی صورتحال پر ڈالی جائے تو ان تمام باتوں سے انکار ممکن نہیں اور ابھی تک بہتری کے کوئی ایسے مضبوط آثار بھی نظر نہیں آرہے جس سے عوام مطمئن ہوسکیں۔

اس رپورٹ میں کراچی کا ذکر کچھ خوش کن انداز میں کیا گیا ہے، کیونکہ پورے ملک کی نسبت کراچی معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے آج بھی اپنا ایک انفرادی مقام بنائے ہوئے ہے۔ ملک بھر سے لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں کا رخ کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس شہر میں کاروبار کے مواقع زیادہ ہیں۔ جب کہ ایک شہر اسلام آباد جس کو دارالحکومت بھی کہتے ہیں، کم و بیش ساڑھے پانچ عشرے گزر جانے کے باوجود یہ شہر ملک کی مجموعی معیشت میں تمام تر سہولتوں کے باوجود بھی اپنا ایک چوتھائی حصہ نہ کرسکا۔

وطن عزیز کا ڈھانچہ شہری اور دیہی علاقہ جات پر مشتمل ہے، جن میں پہاڑ، میدان، سطح مرتفع، سمندر، دریا، جھیلیں، جنگلات اور بہت ساری دیگر نعمتیں بھی شامل ہیں، لیکن شہری علاقوں کی اہمیت اور حیثیت وہی ہے جو کسی عمارت کے ستونوں کی ہوتی ہے، جن پر کسی بھی ملک کی معیشت کا پہیہ چل رہا ہوتا ہے۔ ان توانائیوں سے حاصل ہونے والی پیداوار پورے ملک کی معیشت کو گھسیٹ رہی ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں بھی ہوتا چلا آیا ہے۔

70 سال سے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، اول درجے کے مرکزی شہر تو تسلیم کیے گئے جب کہ صوبوں کے اندر سندھ میں حیدرآباد اور سکھر، پنجاب میں ملتان، فیصل آباد، خیبرپختونخوا میں صرف پشاور اور بلوچستان میں کوئٹہ کے بعد نیا بنایا جانے والا شہر گوادر، جو ابھی حالیہ چند سال میں متعارف کرایا گیا ہے، شومئی تقدیر ان گزشتہ سات عشروں میں یہ تمام شہر ماسوائے کراچی ملک کی GDP میں اپنا حصہ خاطر خواہ بھی نہ ڈال سکے۔

کراچی ٹیکس ادا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، وہ کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر آنے والے اور جانے والے کنٹینر دن اور رات رواں دواں رہتے ہیں۔ کراچی کے صنعتی زونوں میں سرگرمیاں کامیابی سے کم یا زیادہ اپنی رفتار سے جاری ہیں۔ تاہم بجلی کی کمی، پانی کی نایابی اور نکاسی آب کے بے ترتیب نظام کے باوجود اور یہاں تک کہ صنعتی علاقوں میں ناہموار سڑکیں اور ٹریفک کی بے ہنگم روانی بھی کراچی کو روک نہیں پارہی۔ رہا سوال اسٹریٹ کرائم و دیگر جرائم کا، تو اس کا مقابلہ بھی ملک کے سیکیورٹی کے ادارے بھرپور انداز میں کررہے ہیں۔ پورے ملک میں استعمال ہونے والا فیول تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ جس کی فروخت بھی اسی شہر میں ہے۔

فوڈ اسٹریٹ ہوں یا ریستوران کا پررونق ہجوم، یہ کراچی کا اہم حصہ تصور کیے جاتے ہیں، جہاں لاکھوں گاہک روزانہ کی بنیاد پر اس معیشت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اسپتال، تعلیمی ادارے، بینک اور کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والوں کا جم غفیر کراچی میں موجود ہے۔ کراچی کا دل بھی شہر کی وسعت کی طرح اتنا ہی بڑا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے وہ لوگ خواہ وہ پہاڑی علاقوں سے ہوں، میدانی علاقوں سے ہوں یا وہ جو کبھی گاؤں گوٹھ سے یونین کونسل تک کا ممبر بھی نہ بن سکتے تھے، کراچی نے ان کو ملک کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچادیا۔ ظاہر ہے یہ ’’اسی شہر میں ممکن ہوسکتا تھا‘‘۔

رپورٹ کے مندرجات پر غور کیا جائے تو ایک پہلو خاص توجہ طلب ہے اور اس پر ہی میری نظر اور فکر جاکر رک جاتی ہے، جس میں کراچی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے کراچی کو کیوں حوصلہ افزا قرار دیا، اس پر غور کی ضرورت ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ قرض لینے کی ضرورت ہو یا اس کی واپسی کی ضمانت، ریاست کے پاس کراچی ایک مضبوط ’’اثاثہ‘‘ ہمیشہ رہا ہے، لہٰذا ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود چاہے خاک و خون ہو، دہشت گردی ہو، انتہاپسندی ہو، پھر بھی ملک بھر کے جم غفیر کو اپنے کاندھے پر لادے یہ روشنیوں کا شہر جل بھی رہا ہوتا ہے اور چل بھی رہا ہوتا ہے۔ اس کا صرف یہی کام نہیں رہا بلکہ یہ تو ماضی کی حکومتوں کے زوال کا سبب بھی بن چکا ہے۔

ان تمام باتوں اور حقائق کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ پائیدار امن کو قائم کرنے کے لیے ریاستی رٹ کی حکمرانی، قانون کی بالادستی عملی طور پر ہر فرد سے اداروں تک تسلیم کی جائے اور جمہوریت کا فروغ بذریعہ سماجی ترقی کیا جائے۔ سرحدوں کا دفاع خودمختاری کے ساتھ ہو، تاکہ ملک کی سالمیت پر کوئی آنچ نہ آئے، تب ہی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ امن اور استحکام ہی ہماری ملت کی اولین ضرورت ہے اور اس حقیقت پسندانہ ضرورت میں اگر یہ کہا جائے تو انتہائی مناسب ہوگا کہ ’’کراچی پاکستان کی لائف لائن‘‘ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔