تھری جی لائسنسزکی نیلامی دسمبرتک مکمل کرلی جائیگی

اے پی پی  اتوار 19 اگست 2012
 نئے سرمایہ کاروںکے علاوہ موجودہ موبائل آپریٹرزکوبھی حصہ لینے کی اجازت ہوگی (فوٹو : فائل)

نئے سرمایہ کاروںکے علاوہ موجودہ موبائل آپریٹرزکوبھی حصہ لینے کی اجازت ہوگی (فوٹو : فائل)

اسلام آ باد: تھری جی موبائل ٹیلی کام لائسنسزکی نیلامی کاعمل دسمبر تک مکمل کرلیاجائے گاجس کے بعدانفرااسٹرکچرڈیولپمنٹ اوربراہ راست سرمایہ کاری سے قومی خزانے کو300 ارب روپے کافائدہ ہوگاجبکہ وسیع پیمانے پرروزگارکے مواقع پیدا ہوںگے اوربیروزگاری میںکمی آئے گی، جدید ٹیکنالوجی کی حامل موبائل فون کمپنیوںکے کام کے آغازسے صارفین کو تعلیم اورزراعت سمیت دیگر شعبوں میں مختلف سروسز میسر آئیںگی۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین فاروق اعوان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈٹیلی کام رپورٹرزایسوسی ایشن کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ تھری جی لائسنسزکے اجرامیں2 سال سے زائد عرصہ تاخیرکے باعث 30 ارب سے زائد کا نقصان ہواہے جس کی تحقیقات کی جائے گی۔

انھوںنے بتایاکہ آکشن میں نئے سرمایہ کاروںکے علاوہ موجودہ 5 موبائل آپریٹرزکوبھی حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ انھوںنے کہا کہ اگرلائسنسزکی نیلامی کاعمل 2010 میں مکمل کرلیا جاتا تو حکومت کو35 ارب روپے کے نقصانات کاسامنانہ کرناپڑتایہ مجرمانہ غفلت ہے اورمناسب فورم پراس کی تحقیقات کی جائے گی۔انھوںنے یقین دلایاکہ تھری جی ٹیلی کام کمپنیوںکولائسنسزکی نیلامی شفاف انداز میں ہو گی اورتمام عمل عوام کے سامنے لایاجائے گااورپی ٹی اے کی ویب سائٹ پر نیلامی کے عمل کے بارے میںمعلومات فراہم کی جائیںگی۔

انھوںنے کہاکہ تھری جی لائسنسزکی نیلامی کی شفاف مانیٹرنگ کیلیے میڈیااورسول سوسائٹی کے لوگوںپرمشتمل مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو نیلامی کا عمل شفاف بنانے میںمددکرے گی اوریہ پہلاسرکاری پراجیکٹ ہوگاجس میں شفافیت کیلیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ تھری جی لائسنسزکی نیلامی رواںسال مارچ میںہونی تھی جسے ملتوی کردیاگیاہے، اب پی ٹی اے نیلامی کی شرائط کومزید بہتر بنائے گی تاکہ مستقبل میںحکومت کی آمدنی میںاضافہ ہو، موبائل فون مینوفیکچررکمپنیوںکوبھی پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کیلیے بھی کہاجائیگا، پاکستان میںسالانہ ایک ارب ڈالرسے زائد موبائل فون کی خریداری پرخرچ کیے جاتے ہیں۔

انھوںنے کہاکہ پاکستان میں 30 فیصد غیر قانونی ٹریفکنگ سے قومی خزانے کوسالانہ اربوں کا نقصان ہوتاہے جس پر جدید آلات کی مددسے کنٹرول کیلیے اقدامات کیے جائیں گے اور جلدہی سینئرافسران کا اجلاس بلاکراس حوالے سے حکمت عملی ترتب دی جائیگی،کمپلینٹ سینٹرجلدقائم کیا جائیگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔