گیارہ سالہ چینی لڑکی کا قد 6 فٹ 7 انچ تک پہنچ گیا

ویب ڈیسک  ہفتہ 24 نومبر 2018
چین کی 11 سالہ زینگ زایو کا قد چھ فٹ 7 انچ تک پہنچ چکا ہے اور مزید بڑھنے کا امکان ہے (فوٹو: بشکریہ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ)

چین کی 11 سالہ زینگ زایو کا قد چھ فٹ 7 انچ تک پہنچ چکا ہے اور مزید بڑھنے کا امکان ہے (فوٹو: بشکریہ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ)

بیجنگ: چین میں 11 سالہ بچی کا قد 6 فٹ 7 انچ سے تجاوز کرچکا ہے جب کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کا قد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

زینگ زایو چین کے صوبے جینان میں کلچرل ایسٹ روڈ پرائمری اسکول کی چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اوربعض افراد کا خیال ہے کہ شاید وہ دنیا کی سب سے طویل قامت لڑکی ہے۔ لڑکی کے دونوں والدین باسکٹ بال کے کھلاڑی رہ چکے ہیں اور دونوں کا قد لگ بھگ چھ فٹ یا دو میٹر کے قریب ہے۔

ڈاکٹروں نے لڑکی کے قد کی وجہ کو جینیٹک قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ قد اسے وراثت میں ملا ہے اور اسی بنا پر گیارہ برس میں اس کا قد 210 سینٹی میٹر تک پہنچ چکا ہے۔ پہلی جماعت میں ہی اس کا قد پانچ فٹ تک پہنچ چکا تھا اورچین میں چھٹی جماعت کی طالبہ کا اوسط قد چار فٹ چھ انچ تک ہوتا ہے اسی بنا پر زینگ کا قد معمول سے زیادہ تھا۔

اب یہ حال ہے کہ امریکی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (این بی اے) کے اوسط کھلاڑی کے قد سے بھی اس لڑکی کا قد تین سے چار انچ زائد ہوچکا ہے۔ زینگ باسکٹ بال کی شیدائی ہیں اورامریکی کھلاڑی لی برون جیمز ان کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اب یہ لڑکی اس سے بھی دو انچ بلند ہوچکی ہیں۔ اگر قد بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ چینی باسکٹ بال کھلاڑی یاؤمنگ سے بھی آگے نکل جائیں گی جن کا قد 2.29 میٹر ہے۔

زینگ زایو روزانہ باسکٹ بال کی پریکٹس کرتی ہیں اور ان کے والد ان کی تربیت کررہے ہیں۔ وہ مشہور پروفیشنل کھلاڑیوں کی طرح کھیلتی ہیں اور انہی کے انداز پر کھیلتی ہیں۔

اگرچہ اسکول میں بعض بچے ان کے غیرمعمولی قد کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ کچھ بچے ان کے قد پر فخر بھی کرتے ہیں کبھی وہ اپنے ہم جماعتوں کو ہاتھوں میں اٹھا کرفضا میں بلند کرتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔