اٹارنی جنرل سے خفیہ فنڈز کی تفصیلات طلب، آئی بی ٹھیک ہوجائے تو امن قائم ہوسکتا ہے، چیف جسٹس

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 28 جون 2013
رقم کااستعمال صرف قومی مفادمیںہوناچاہیے،آئی بی عدالت کومطمئن کرے کہ 40کروڑ کہاںگئے اورکس قانون کے تحت استعمال کیے گئے ،جسٹس افتخارچوہدری۔ فوٹو: فائل

رقم کااستعمال صرف قومی مفادمیںہوناچاہیے،آئی بی عدالت کومطمئن کرے کہ 40کروڑ کہاںگئے اورکس قانون کے تحت استعمال کیے گئے ،جسٹس افتخارچوہدری۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آئی بی کے خفیہ فنڈزکے بارے میں تفصیلات پیش کرنے کیلئے اٹارنی جنرل کو طلب کردیا۔

جمعرات کو آئی بی خفیہ فنڈزکیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیںکہ اگر آئی بی ٹھیک ہو جائے توملک میں امن قائم ہوجائے ،دوسال سے کیس سن رہے ہیں مگرکوئی خفیہ فنڈز سے متعلق صحیح صورتحال سے عدالت کوآگاہ نہیںکرتا ، اٹارنی جنرل آج پیش ہوں اور ان فنڈزکے استعمال کے حوالے سے صحیح صورتحال سے آگاہ کریں، خفیہ فنڈزکی تفصیلات دی جائیں ورنہ یہ سمجھا جائیگا کہ آئی بی کام نہیں کر رہی،سیکرٹ فنڈزکااستعمال صرف قومی مفاد میں ہی ہونا چاہیے،آئی بی عدالت کو مطمئن کرے کہ خفیہ فنڈز سے نکالے گئے40کروڑ روپے کہاںگئے اور یہ بھی بتایا جائے کہ ان فنڈزکا استعمال کس قانون کے تحت کیا جاتا ہے ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی توڈپٹی اٹارنی جنرل اور آئی بی کے وکیل پیش ہوئے۔

وکیل نے بتایا کہ آئی بی کے دو طرح کے فنڈز ہوتے ہیں ایک ریگولر اور دوسرے خفیہ، ریگولر فنڈزکا باقاعدہ آڈٹ ہوتا ہے تاہم خفیہ فنڈزکا نہیں ہوتا ۔چیف جسٹس نے کہا یہ کہاں لکھا ہے کہ آئی بی سیاہ و سفیدکی مالک ہے جو چاہے کرتی پھرے ،بیشک آپ قومی مفادکا تحفظ کر رہے ہونگے مگرٹیکس دہندگان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ملنے والی رقم کہاں خرچ کی گئی،یہ40کروڑ کی رقم کا معاملہ ہے جو قوم کی ہے۔چیف جسٹس نے کہامیڈیامیںپڑھاہے کہ موجودہ حکومت نے صوابدیدی اور خفیہ فنڈز ختم کر دیے ہیں ۔ایک طرف اتنے فنڈز لیتے ہیں تو دوسری جانب ایجنسیوںکا آپس میںکوئی تعاون ہی نہیں پھر ملک میں امن کیسے قائم ہوگا امن تب قائم ہوگا جب آئی بی ٹھیک ہوگی ۔آئی ایس آئی اور ایم آئی تو چلو بیرون ملک کام کرتی ہیں مگر آئی بی کا کام ملک کے اندر ہے،اتنا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے مگر امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کراچی میں روزانہ کئی افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔