اضافی جی ایس ٹی عوام پر بوجھ اور غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ

آن لائن  جمعـء 28 جون 2013
اضافی ٹیکس کی مد میں وصول کردہ رقم رجسٹرار کو جمع کرانے کا حکم، تفصیلی فیصلہ جاری۔ فوٹو: فائل

اضافی ٹیکس کی مد میں وصول کردہ رقم رجسٹرار کو جمع کرانے کا حکم، تفصیلی فیصلہ جاری۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اضافی جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے سے اور پٹرولیم مصنوعات کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیا ہے۔ 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ جی ایس ٹی میں ایک فیصد جبکہ سی این جی پر 9فیصد اضافی ٹیکس کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام اضافی ٹیکس کی مد میں حاصل کردہ رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کروائے۔ تفصیلی فیصلے میں پاکستان کینیا یوگنڈا، بھارت اور برطانیہ کے قوانین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

عدالت نے ایکٹ آف 1931کی دفعہ 54کو آئین کے ارٹیکل  77259کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا۔ یہ بھی واضح کیا کہ اضافی ٹیکس کا نفاذ فنانس بل کی منظوری سے کیا جا سکتا ہے۔ اضافی ٹیکس عوام پر بوجھ تھا اور غیر قانونی تھا، ماضی میں بھی اس طرح کے اقدامات سے عوام کو لوٹا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔