برطانوی علمائے کرام کی کمسن لڑکیوں اوربچوں سے جنسی زیادتی کی مذمت

 جمعـء 28 جون 2013
 قرآن مجید میں جنسی تشدد اور زیادتی کی نہ صرف سختی سے ممانعت کی گئی ہے بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد کے لئے سزائیں بھی مقرر کی ہیں، علمائیے کرام فوٹو:فائل

قرآن مجید میں جنسی تشدد اور زیادتی کی نہ صرف سختی سے ممانعت کی گئی ہے بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد کے لئے سزائیں بھی مقرر کی ہیں، علمائیے کرام فوٹو:فائل

لندن: 500مساجد کے علمائے کرام نے نمازجعمہ کے خطبے میں کمسن لڑکیوں اوربچوں سے جنسی زیادتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام میں ایسے جرائم کی نہ صرف سختی سے ممانعت کی گئی ہے بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد کے لئے سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

خطبہ امام الیاس کرمانی نے تحریر کیا جسے لندن کی 500 مساجد میں جمعہ کی نماز کے بعد پڑھا گیا جس  میں کہا گیا کہ دین اسلام میں جنسی تشدد اور زیادتی کی نہ صرف سختی سے ممانعت کی گئی بلکہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لئے سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں، دین اسلام میں اس بات کا بھی درس دیا گیا ہے کہ مسلمان اپنے گھروں اور محلوں میں بچوں، مسا کین اور کمزور افراد کی حفاظت کریں، امام الیاس کرمانی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی عزت نہ کرنے کا ایک کلچر پروان چڑھتا جا رہا ہے اور مختلف میڈیا چینلز پر آسانی سے دستیاب فحش مواد بھی لوگوں کو اس برائی  کی طرف راغب کرتا ہے۔

لندن میں کمسن لڑکیوں اور بچوں پر جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن انصار علی نے اس حوالے سے دل دہلادینے والے واقعات سامنے آنے پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے جرائم کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جرم میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی ملوث ہیں لیکن اس کا الزام صرف مسلمانوں پر عائد کرنا درست نہیں۔

واضح رہے کہ  گزشتہ روز آکسفورڈ کی عدالت نے  لڑکیوں کو زبردستی فحاشی کے دھندے میں ملوث کرنے کے الزام میں 7 افراد کو قید کی سزا سنائی تھی جس  میں سے 5 کا تعلق پاکستان اور 2 کا افریقہ سے تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔