رئیل اسٹیٹ ہی کیوں، زراعت پر ٹیکس کیوں نہیں؟

ایس نئیر  جمعـء 28 جون 2013
s_nayyar55@yahoo.com

[email protected]

ایک صاحب نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، جیتا اور ایوان میں موجود ایک ایسی سیاسی جماعت، جسے سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے چند ارکان کی شدید ضرورت تھی، اس سے سودے بازی کرکے نہ صرف اس جماعت میں شمولیت اختیار کرلی بلکہ ایک وزارت ہتھیانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران ان کے جن کارکنوں نے ان کی جیت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادی تھی اور جو ان کی کامیابی کے بعد اب چھوٹی موٹی سرکاری نوکریوں اور کاروبار کے لیے ملنے والے بینک لونز کے وعدوں پر جی رہے تھے، ان کے وزیر بنتے ہی خوش ہوگئے۔

لیکن چند دنوں کے بعد ہی کارکنوں کو محسوس ہونے لگا کہ اب منسٹر صاحب ان سے ملاقات کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ آخر ایک دن تمام کارکن زبردستی ان کے آفس میں گھس آئے اور منسٹر صاحب سے شکوہ کیا۔ ’’سر! جس دن سے آپ وزیر بنے ہیں، نہ جانے کیوں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ ہمیں بھولنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ منسٹر صاحب نے کارکنوں کو بغور دیکھتے ہوئے بڑی نرمی سے جواب دیا ’’یہ قطعی غلط ہے کہ میں تم لوگوں کو بھولنے کی کوشش کر رہا ہوں، جب کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ میں تو تم لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کررہا ہوں۔‘‘

غالباً اسی طرح عمران خان کے ووٹرز، عمران خان کو اس وقت پہچاننے کی کوشش کررہے تھے، جب وہ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکمراں جماعت پر گرج برس رہے تھے۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے زرعی ٹیکس کا ذکر تو برائے نام اور رسمی طور پر کیا، لیکن ریئل اسٹیٹ بزنس پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی بھرپور وکالت کی اور مذکورہ ٹیکس عائد نہ کیے جانے پر حکومتی جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ میں نے خود اس کاروبار سے وابستہ ایک نہایت بارسوخ بلکہ سب سے زیادہ بارسوخ شخصیت کو عمران کی اس تقریر کے بعد اخباری اصطلاح کے مطابق ’’غم و غصے‘‘ کی تصویر بنے دیکھا۔

اس سے پہلے میں اکثر سوچتا تھا کہ کسی بھی انسان پر بیک وقت غم و غصے کی دونوں کیفیات کیسے طاری ہوسکتی ہیں؟ کیونکہ جب کسی پر غصے کی کیفیت طاری ہوجائے تو دوسری ہر قسم کی کیفیت ایسے غائب ہوجاتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ غم و غصے کا شکار اس ’’باکمال‘‘ شخصیت کے ایک ٹیلی فون پر ریئل اسٹیٹ کے نرِخ اوپر نیچے ہوجاتے ہیں، لیکن ان کی ساکھ، دیانتداری اور زبان کی پاسداری مسلم ہے۔ ان کی فیملی کے کچھ ممبران امریکا سے خصوصی طور پر پی ٹی آئی کو ووٹ کاسٹ کرنے کراچی آئے۔

ان کی گاڑیاں پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں رضاکارانہ طور پر دوڑتی رہیں، انھوں نے نہ صرف خود پی ٹی آئی کو عطیات سے نوازا بلکہ ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ کاروباری شخصیات نے بھی دل کھول کر پی ٹی آئی کی مالی معاونت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ پر کیا پہلے ہی کم ٹیکس عائد ہے؟ عمران کو زرعی ٹیکس کیوں نظر نہیں آتا؟ ان کا کہنا بالکل درست ہے۔

میں تو یہ کہوں گا کہ زرعی ٹیکس کی اصطلاح ہی سرے سے غلط ہے۔ دیگر کاروبار اور ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی اور زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں آخر فرق کیوں؟ زراعت کا شعبہ کیا زیادہ مقدس ہے؟ ہر قسم کی جائز آمدنی پر یکساں شرح سے انکم ٹیکس نافذ اور وصول کیا جانا چاہیے۔ ریئل اسٹیٹ بزنس پر ٹیکس میں اضافے کا عمران خان کے ووٹ بینک سے کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے 2013 کے انتخابات کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔

حالیہ انتخابات میں کپتان کو نچلے متوسط طبقے کے علاوہ متوسط طبقے نے بھی بھاری تعداد میں اپنے ووٹوں کا ’’نذرانہ‘‘ پیش کیا تھا۔ یہ الگ بات کہ تحریک انصاف خاطر خواہ تعداد میں اسمبلی کی نشستیں نہ جیت سکی، لیکن مجموعی ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے وہ دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی۔ ملک بھر کے تمام بڑے شہروں بالخصوص لاہور اور کراچی کے پوش علاقوں سے اسے بھاری تعداد میں ووٹ کاسٹ ہوئے۔

کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن کے ووٹرز نے اس الیکشن سے قبل کبھی انتخابی عمل میں اتنی سنجیدگی سے حصہ لیا اور نہ ہی ایسی سرگرمی دکھائی لیکن اس مرتبہ ڈیفنس اور کلفٹن میں رہائش پذیر متوسط طبقے نے کپتان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کردیے۔ اسی وجہ سے عارف علوی صاحب یہاں سے سیٹ نکالنے میں کامیاب رہے۔ عمران خان کے ووٹ بینک کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان ووٹرز کی تعداد 25 سے 30 لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔

2013 کے الیکشن میں تکنیکی وجوہات اور وقت کی کمی کے باعث الیکشن کمیشن ان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ووٹ کاسٹ کرنے کے انتظامات نہ کرسکا۔ اس کا براہ راست نقصان پی ٹی آئی کو اٹھانا پڑا، اس کے باوجود امریکا، یورپ، مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ سے بھاری تعداد میں یہاں پر مقیم پاکستانی پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر پاکستان آئے اور کپتان کو اپنے ووٹ سے نوازا۔ بیرونِ ملک سے آنے والے ان پاکستانیوں کی بھاری تعداد لاہور اور کراچی کے انھی پوش علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن میں آباد ان فیملیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تقریباً ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد یا خاندان امریکا اور یورپ میں مقیم ہے۔ ان پاکستانیوں کو امریکا اور یورپ میں رہتے ہوئے کئی عشرے بیت چکے ہیں۔ جب یہ یہاں سے گئے تھے تو امن و امان کی صورتحال پاکستان میں مثالی تھی، اور آج کی صورتحال کیا ہے؟ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، سرکاری اداروں کی کرپشن اور بم دھماکے روز کا معمول ہیں۔ ادھر عمران خان، شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے لیے عطیات جمع کرنے اکثر امریکا اور یورپ جاتے رہتے ہیں، یہ پاکستانی ان کو عطیات سے نوازتے ہیں اور ان پر بھروسہ بھی کرتے ہیں کیونکہ کپتان کی دیانت اور اس کی دلیری پر بہرحال کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم یہ پاکستانی خاندان جو برسوں سے مغرب میں رہائش پذیر ہیں، اب وطن واپس آنا چاہتے ہیں، وطن کی مٹی کی کشش اور اپنے پیاروں کے درمیان رہنے کا جو لطف ہے، اس کا متبادل کچھ اور ہے ہی نہیں۔

پیسہ بھی بہت کما چکے اور ان پاکستانیوں نے مغرب میں رہ کر جو دولت کمائی ہے، موجودہ بدامنی اور کرپشن کے اس ماحول میں اس کی سرمایہ کاری کا اس وقت جو محفوظ ترین راستہ یا کاروبار ہے وہ یہی ریئل اسٹیٹ کا کاروبار ہے اور پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے بزنس کا سب سے بڑا گڑھ ڈیفنس اور کلفٹن ہے۔ اب تو ان بے چارے پاکستانیوں کی زمینوں اور پلاٹوں پر قبضے بھی ایک عام سی بات ہوچکی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اس طبقے کو کپتان کی شکل میں اپنے خوابوں کی تعبیر نظرآتی ہے۔

کپتان وہ واحد سیاست دان ہے جو دوسرے سیاستدانوں کی طرح اپنی اولاد، سرمایہ، کاروبار اور جائیداد مغرب میں منتقل کرنے کے بجائے وطن میں ہی رکھنے کا حامی ہے اور مغرب میں مقیم یہ پاکستانی بھی یہی چاہتے ہیں، کپتان کرپشن سے پاک حکمرانی اور قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے اور یہ پاکستانی ایسے ہی معاشروں میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں، یہاں سرکاری اداروں کی کرپشن اور بدامنی کے باعث یہ طبقہ اپنا سرمایہ ریئل اسٹیٹ میں لگانے پر مجبور ہے، اسی لیے ان علاقوں سے کپتان کو بے پناہ سپورٹ ملی، لیکن کپتان نے جب اپنے ہی ووٹرز اور سپورٹرز پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی بات کی تو اس کے سپورٹرز میں بے پناہ مایوسی پھیل گئی۔

خان صاحب! اسمبلی میں چاروں طرف آپ کے ارد گرد زراعت کے کاروبار سے وابستہ جاگیرداروں کا ایک جم غفیر موجود ہے، پہلے ان سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنائیں اور ریئل اسٹیٹ پر مزید ٹیکس لگانے کی بات کرکے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ ماریں۔ نادانستگی میں آپ کسی سازش کا شکار تو ہونے نہیں جارہے ہیں؟ ذرا احتیاط سے ایک مرتبہ اور اپنے اردگرد ضرور دیکھ لیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔