ووٹ فکسنگ: آئی سی سی کے سربراہان فیکا پر برس پڑے

اسپورٹس ڈیسک  ہفتہ 29 جون 2013
مارش کے بیان سے دونوں اداروں میں اعتماد کی فضا بُری طرح مجروح ہوئی، آفیشل۔  فوٹو: رائٹرز/فائل

مارش کے بیان سے دونوں اداروں میں اعتماد کی فضا بُری طرح مجروح ہوئی، آفیشل۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

لندن: ووٹ فکسنگ اسکینڈل پر بیان بازی عروج پر پہنچ گئی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہان جوابی حملہ کرتے ہوئے فیکا کے ایگزیکٹیو چیئرمین پال مارش پر برس پڑے، کرکٹ کمیٹی میں پلیئرز کے نمائندہ ووٹ پر اعتراضات نظر انداز کرنے کا الزام مسترد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق 10 فل ممبرز کے کپتانوں کے ووٹ نے پلیئرز یونین کے سابق چیف ایگزیکٹیو ٹم مے کی آئی سی سی کرکٹ کمیٹی سے چھٹی کرا دی، ان کی جگہ سابق بھارتی اسپنر لکشمن سیواراما کرشنن کو شامل کیا گیا۔

فیکا کے ایگزیکٹیو چیئرمین پال مارش کا کہنا تھا کہ بورڈز نے اپنی ٹیموں کے کپتانوں کو دباؤ میں لاکر مرضی کا فیصلہ کرایا، اس ضمن میں شکایت کرنے کے بعد ہم مزید پیش رفت کے منتظر اور معاملہ ایتھکس کمیٹی کے سامنے لے جانے کے خواہاں تھے مگر ایسا نہ ہوا، اس پر مارش نے بیان جاری کر دیا کہ 6 ہفتوں میں کوئی مثبت کارروائی نہیں کی گئی لہذا براہ راست ایتھکس کمیٹی سے شکایت کردی۔

آئی سی سی نے اس الزام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ حکام کا اس حوالے سے مکمل رابطہ ہے اور وہ بات چیت کرتے رہتے ہیں، حال ہی میں اس معاملے میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو 48 گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ پال مارش نے مایوس کن بیان داغ دیا، اس اقدام سے دونوں اداروں کے درمیان اعتماد کی فضا بُری طرح مجروح ہوئی، مارش نے صورتحال کو پیچیدہ ظاہر کرنے کیلیے بیان جاری کرنے کا وقت بھی ایسا منتخب کیا جب بورڈز کے تمام ممبران اور چیف ایگزیکٹیوز سو رہے تھے۔

کونسل نے حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے پر سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کی، حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت میں آئی سی سی کمیٹی الیکشن کے طریقہ کار پر تحفظات دور کرنے کیلیے خاصا کام کر چکی تھی لیکن پال مارش نے تمام کوششوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی، اسے کسی طور بھی درست اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔