خفیہ خط سے بدنامی ہوئی ، اب عدالت جانے اور پیپلزپارٹی، مشاہداللہ

مانیٹرنگ ڈیسک  ہفتہ 29 جون 2013
کرپشن پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، شہریار آفریدی، پروگرام لائیو ود طلعت میں گفتگو فوٹو : فائل

کرپشن پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، شہریار آفریدی، پروگرام لائیو ود طلعت میں گفتگو فوٹو : فائل

لاہور: مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ سوئس کیسز پر پیپلزپارٹی کی حکومت اور عدالت کے درمیان معاملات طے پاگئے تھے ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

حکومت نے خفیہ خط لکھا جس کا پتہ چل گیا جس پر ملک کی بدنامی ہوئی ہے اب عدالت جانے اور پیپلزپارٹی۔ ایکسپریس نیو زکے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ میں اس کیس کے فریق نہیں تھے اب یہ معاملات ازخود پھر سے دوبارہ کھل رہے ہیں، ہم حکومت میں ہیں عدالت نے ہم سے پوزیشن پوچھی ہے ہم نے بتائی ہے۔ بطورصدر آصف زرداری کااحترام اپنی جگہ پر لیکن ان کے عمل سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔پہلے انھوں نے سرے محل کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارا نہیں لیکن جب بکنے لگا تو لکھ کر دیا کہ ہمارا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کسی کو سزا ہو ،خفیہ خط ہم نے نہیں پیپلزپارٹی نے لکھا تھا۔ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہم کوئی احتساب نہیں کریں گے اگر ہم نے کچھ کیا بھی تو یہ کہیں گے کہ ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہم اس حق میں ہیں کہ سارے ایوان کی مشاورت سے ایک کمیشن بنے اور وہ بے رحمانہ احتساب کرے ۔پرویزمشرف کا معاملہ بہت ہی سادہ ہے، انھوں نے ملک کا آئین توڑا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہاکہ کہ کون سا حکمران ہے جس سے غلطی نہیں ہوئی، لیکن ملک میں جمہوریت کا تسلسل آصف علی زرداری کی وجہ سے ہی ہے۔ سوئس مقدمات پہلے دن سے عدالت میں ہیں عدالت ہی فیصلہ کریگی۔ سب آمروں نے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے لیکن پرویزمشرف نرالے آمر تھے انہوں نے آئین توڑکر ہیرو بننے کی کوشش کی ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے کہاکہ کرپشن پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج انتہائی خراب ہوچکا ہے جب تک کسی کو سزا نہ ملی تو کسی کو عبرت نہیں آئیگی۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے ماضی سے سیکھنا ہے ماضی میں نہیں جاناخفیہ خط کے معاملے کو عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔مشرف کے معاملے پر ہم قانون اورآئین کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں ۔قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے ہم ایم کیو ایم کو پاکستان کے مفاد میں سپورٹ کرتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ جانے اور وہاں کا تحقیقاتی عمل، لیکن عدالت کے فیصلے سب کیلیے قابل احترام ہونے چاہئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔