ہم چائے یا کافی کیوں پسند کرتے ہیں؟

ڈاکٹر توصیف احمد لغاری  جمعرات 29 نومبر 2018
انسان نے جیسے جیسے ارتقائی مراحل طے کیے اس کے اندر تلخ ذائقوں کو پہچاننے کی صلاحیت بھی بڑھتی چلی گئی۔ فوٹو: فائل

انسان نے جیسے جیسے ارتقائی مراحل طے کیے اس کے اندر تلخ ذائقوں کو پہچاننے کی صلاحیت بھی بڑھتی چلی گئی۔ فوٹو: فائل

سائنسی جریدے ’نیچر سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق وہ افراد، جن کی جینیات میں کھٹے اور تلخ ذائقوں کا ادراک پہلے سے موجود ہوتا ہے وہ کافی میں ’ٹارٹ کیفین‘ کی موجودگی کے سبب اسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

انسان نے جیسے جیسے ارتقائی مراحل طے کیے اس کے اندر تلخ ذائقوں کو پہچاننے کی صلاحیت بھی بڑھتی چلی گئی۔ یہ ایک طرح سے اس کے جسم میں ضرر رساں مادوں سے بچنے کے لیے ایک الارمنگ سسٹم تھا۔ اگر ہم ’امیریکانو‘ نامی کافی کی بات کریں تو ارتقائی تناظر میں ہمیں اسے چکھتے ساتھ ہی واش بیسن میں تھوک دینا چاہیے لیکن ایک مظاہرے میں ایسے افراد نے، جو کیفین کے زیادہ تلخ ذائقے کے بارے میں حساس تھے، کافی کو چائے پر ترجیح دی اور اسے زیادہ مرتبہ نوش کیا۔

نارتھ ویسٹرن فائن برگ اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر میری لین کورنیلیز کے مطابق،’’ آپ کو توقع ہو گی کہ وہ لوگ جو کیفین کے ذائقے کے لیے حساس ہیں، کم کافی پیتے ہوں گے۔ ہماری تحقیق کے نتائج اس کے برعکس ہیں۔‘‘

برطانیہ میں چار لاکھ سے زائد مرد و خواتین پر کی گئی اس تحقیق میں محققین نے یہ بھی پتہ لگایا کہ وہ افراد جو کونین اور سبزیوں کے مرکبات کے تلخ ذائقوں کے لیے حساس تھے، انہوں نے کافی کے مقابلے میں چائے کو ترجیح دی۔

کوئینز لینڈ ڈائمنٹینا انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس مطالعے کے شریک مصنف لیانگ دار وانگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حقیقت کہ بعض لوگ کافی کو چائے پر ترجیح دیتے ہیں، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جب بات ذائقے کی ہو تو کس طرح روز مرہ تجربات جینیاتی رحجانات کو مسترد کر دیتے ہیں۔اْن کا کہنا تھا،’’ تلخ ذائقوں کو محسوس کرنا نہ صرف جینیاتی بلکہ ماحولیاتی عوامل پر بھی منحصر ہوتا ہے‘‘۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔