کسٹمز انٹیلی جنس بلوچستان کی 2012-13 میں بہتر کارکردگی

بزنس رپورٹر  اتوار 30 جون 2013
اچھے کام پر ڈائریکٹر اقبال بھوانہ انعام کیلیے نامزد، ایف بی آر نے نام ریوارڈ لسٹ سے ہی نکال دیا۔     فوٹو: فائل

اچھے کام پر ڈائریکٹر اقبال بھوانہ انعام کیلیے نامزد، ایف بی آر نے نام ریوارڈ لسٹ سے ہی نکال دیا۔ فوٹو: فائل

کراچی: ڈائریکٹریٹ جنرل آف کسٹمزانٹیلی جنس اینڈانوسٹی گیشن ایف بی آربلوچستان کی جانب سے مالی سال 2012-13 کے دوران افسران واسٹاف کی کمی کے باوجود چمن، گڈانی،حب، جیوانی، کوئٹہ اور بلوچستان کی حدود میں شامل دیگرمقامات پر کامیاب کارروائیوں کے دوران 32 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی نان ڈیوٹی پیڈواسمگل شدہ گاڑیاں،ایرانی ڈیزل، چائے، ٹائرز،کپڑا،وائراینڈکیبل، 36 فیلکن (باز) ضبط کیے گئے۔

جبکہ جون 2013 کے دوران 3 کروڑ روپے مالیت کا اضافی ریونیو قومی خزانہ میں جمع کرانے پر ڈائریکٹرجنرل کی جانب سے ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس بلوچستان محمد اقبال بھوانہ کو انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ایف بی آرکے اعلیٰ افسران نے غیرذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے مذکورہ آفیسر کا نام ریوارڈکی فہرست سے خارج کرکے مطلوبہ انعام دیگر من پسند افسران کو نواز دیا ہے، ایف بی آر حکام کے اس طرز عمل پر ڈائریکٹریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن میں مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈائریکٹریٹ انٹیلی جنس کی اگررواں مالی سال کی نسبت سال 2011-12 کے دوران کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو گزشتہ مالی سال کے دوران بلوچستان میں تعینات کسٹمزانٹیلی جنس افسران کی جانب سے مختلف کارروائیوں کے دوران صرف 6 کروڑ روپے مالیت کی اشیا ضبط کیے جانے کا ریکارڈ سامنے آئے گا اور تقابلی جائزہ لینے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کلکٹریٹ نے رواں مالی سال میں انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت گزشتہ سال کی نسبت کئی گنا زیادہ ریونیو وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔