برق رفتاری سے انفیکشن معلوم کرنے والا کم خرچ بایو سینسر

ویب ڈیسک  ہفتہ 1 دسمبر 2018
ماہرین نے ایسا بایو سینسر بنایا ہے جو منٹوں میں خطرناک انفیکشن کی تشخیص کرسکتا ہے (فوٹو: فائل)

ماہرین نے ایسا بایو سینسر بنایا ہے جو منٹوں میں خطرناک انفیکشن کی تشخیص کرسکتا ہے (فوٹو: فائل)

کیلگری: امریکی ماہرین نے مختلف امراض اور انفیکشن کا ہاتھوں ہاتھ پتا لگانے والا کم خرچ اور تیز رفتار سینسر تیار کیا ہے جس سے امراض کی تشخیص میں غیر معمولی مدد ملے گی۔

یہ سینسر، کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلگری نے مل کر بنایا ہے۔ بایو سینسر ایسے انفیکشن منٹوں میں شناخت کرسکتا ہے جنہیں عام حالات میں تصدیق کرنے میں تین سے پانچ دن لگ جاتے ہیں۔

بایو سینسر خاص انداز سے کام کرتا ہے اور ڈھائی گیگا ہرٹز کی مائیکرو ویو (خرد امواج) خارج کرتا ہے جو نمونے سے گزرتی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین امواج کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کی ریزونینس اور ارتعاش میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کونسے بیکٹیریا کس تعداد میں موجود ہیں۔

آزمائش کے لیے اسے ای کولائی بیکٹیریا والے نمونے میں آزمایا گیا جس کے محلول کے پی ایچ لیول مختلف سطح کے تھے اور اس موقع پر سینسر نے فوری طور پر نتائج دکھائے جو بالکل درست تھے۔ اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر محمد ظریفی ہیں اور تحقیق کی روداد نیچر سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔

محمد ظریفی نے بتایا کہ ’ جدید رجحانات کی وجہ سے ہم (بیماریوں کے حامل) مائع نمونے شناخت کرنے والی پوری تجربہ گاہ ایک چپ پر بناسکتے ہیں۔ اس بایو سینسر چپ کے نتائج قابلِ بھروسا ہیں اور اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فوری نتیجہ دیتی ہے‘ ۔

ماہرین کے مطابق بعض انفیکشن اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ اگر شناخت میں ایک گھنٹہ تاخیر ہوجائے تو مریض کے مرنے کا خدشہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ بایوسینسر اس کمی کو بطریقِ احسن پورا کرسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔