ایف بی آر نے پاور کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے ڈیڑھ ارب نکال لیے

ارشاد انصاری  اتوار 2 دسمبر 2018
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیکریٹری خزانہ کوایف بی آر،پیپکو،ڈیسکوزودیگراسٹیک ہولڈرزکااجلاس بلاکرمعاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ فوٹو: فائل

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیکریٹری خزانہ کوایف بی آر،پیپکو،ڈیسکوزودیگراسٹیک ہولڈرزکااجلاس بلاکرمعاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ریونیو شارٹ فال میں کمی کو پورا کرنے کے لیے وفاقی کابینہ اور ای سی سی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاور کمپنیوں کے اکاؤنٹس منجمد کرکے ڈیڑھ ارب روپے کے لگ بھگ رقم نکلوانے کا انکشاف ہوا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب کے مطابق وزارت توانائی کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو لیٹر لکھا ہے۔ سیکریٹری توانائی ڈویژن عرفان علی کی جانب سے لکھے جانے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 ستمبر کو ہونے والے اپنے اجلاس میں پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں و سی پی پی اے جی کے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے فیصلہ دیا تھا جس میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی تھی کہ ٹیکس واجبات کا مسئلہ حل کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پیپکو اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں کا اجلاس بلا کر یہ معاملہ حل کیا جائے اور حکومت کی طرف سے ٹرائبل ایریا الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) صارفین کو بجلی پر دی جانے والی ٹیکس سے چھوٹ کی رقم اور پاور سیکٹر کے ذمے واجب الادا ٹیکس کے کل واجبات کا تعین کرکے اپنی سفارشات پیش کی جائیں۔

اسی حوالے سے وفاقی کابینہ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں وفاقی کابینہ نے بھی ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کی اور پاور سیکٹر کے ٹیکس واجبات کا تنازعہ باہمی مشاورت سے حل کرنے کی ہدایت کی لیٹر میں سیکریٹری توانائی ڈویژن کی جانب سے شکایت کی گئی ہے کہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے باوجود بدقسمتی سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 14 ستمبر 2018 کو کارروائی کرتے ہوئے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے جی) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے ایک ارب47 کروڑ 30 لاکھ روپے نکلوالیے جو کہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی سریحاً خلاف ورزی ہے۔

لیٹر میں دی جانیوالی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے جی) کے اکاؤنٹس منجمد کرکے 80 کروڑ روپے نکلوائے گئے جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے 67 کروڑ 30 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔

وزارت خزانہ اور ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے اجتناب کیا جائے اور پاور سیکٹر کے ذمے ٹیکس واجبات و ٹیکس چھوٹ کی رقم کے تعین کا معاملہ ای سی سی کے فیصلے کی روشنی میں سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کے ذریعے حل کیا جائے اور پاور کمپنیوں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے سے اجتناب کیا جائے تاکہ پاور سیکٹر کے مالی بحران کو مزید بدتر ہونے سے بچایا جاسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔