محتاط خریداری، روئی کے بھاؤ 300 روپے تک گر گئے

این این آئی  اتوار 2 دسمبر 2018
ڈالرکی قدر اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے کاروبار مخمصے میں پڑگیا،پیداوار10لاکھ گانٹھیں گھٹنے کا امکان ہے،نسیم عثمان۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

ڈالرکی قدر اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے کاروبار مخمصے میں پڑگیا،پیداوار10لاکھ گانٹھیں گھٹنے کا امکان ہے،نسیم عثمان۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی محتاط خریداری اور جنرز کی جانب سے روئی کی فروخت میں دلچسپی کے باعث روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر مندی کا عنصر رہا۔ روئی کے بھاؤ میں فی من 200تا 300روپے کی کمی واقع ہوئی۔

صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤمعیار کے حساب سے فی من8000تا8900 روپے جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی40کلو3000تا4100روپے رہا۔ بلوچستان کی روئی کا بھاؤ فی من8300تا8400 روپے جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی40کلو3600تا4200 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من100روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من8700روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر مندی کا غلبہ رہا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ ٹیکسٹائل اسپنرز کے پاس یارن کا غیر معمولی ذخیرہ ہونے کے باعث وہ روئی کی مزید خریداری سے اجتناب برت رہے ہیں لیکن ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ ہونے کی صورت میں یارن کی مانگ اور دام میں اضافہ ہونے کی توقع ہے اگر ملز کا یارن مناسب بھاؤ پر فروخت ہونے لگے گا تو ملز دوبارہ مارکیٹ میں ان ہوںگے، جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ڈالر بڑھنے کی وجہ سے روئی کی درآمد مہنگی ہونے کی صورت میں ملز مقامی منڈی سے روئی کی خریداری کریں گے، جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن ڈالر بھی ایک جگہ پر نہیں رکتا کیوں کہ جمعہ کی صبح ڈالر بڑھ کر 142 روپے ہوگیا تھا لیکن بعد ازاں شام کو کم ہوکر 138 تا 139 روپے ہوگیا تھا ڈالر کی اس قدر اچھل کھود کی وجہ سے کاروباری طبقہ مخمصہ میں آگیا ہے ابھی دیکھنا ہے کہ ڈالر کہاں جا کے رکتا ہے۔

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک نے شرع سود میں یکمشت1.50 روپے کا اضافہ کردیا اب شرع سود10روپے کے ڈبل فگر کا ہوگیا۔ شرع سود میں اضافہ کی وجہ سے کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ اس سال ملک میں روئی کی پیداوار تقریباً ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھوں کی ہونے کی توقع ہے جو گزشتہ سال کے نسبت 10لاکھ گانٹھیں کم ہیں۔ پیر3دسمبر کو30نومبر تک کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار پاکستان کاٹن جنرزایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیے جائیں گے،92تا 93 لاکھ گانٹھوں تک ہونے کی توقع ہے۔

دریں اثنا آئندہ سیزن کیلیے کاٹن ایکشن پلان شروع کرنے کیلیے اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔

نسیم عثمان نے کہا کہ اس طرح کے اجلاس منعقد کیے جائیں اور کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ابھی سے تیاری کی جائے گی تو آئندہ سیزن میں کپاس کی پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہونگے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔