تعلیمی بورڈز کی امتحانی پالیسی

پروفیسر رشید احمد انگوی  پير 1 جولائ 2013
 جون کی تپتی دوپہرو سہ پہر میں پرچے حل کرنا طلبہ کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ فوٹو: فائل

جون کی تپتی دوپہرو سہ پہر میں پرچے حل کرنا طلبہ کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ فوٹو: فائل

سال کے موسموں کی طرح کالجوں میں بھی امتحانات کا موسم جاری ہے، اسی لیے فطری طور پر اس کے بعض اہم پہلوئوں پر غوروفکر مطلوب ہے۔

جون کے ماحول کو جھلساتی گرمی اور تپتی دوپہر، سہہ پہر گیارھویں، بارھویں کے طلباء و طالبات کو پرچے حل کرتے وقت دیکھنا بھی ایک عذاب سے کم منظر نہیں۔ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ ان بیچارے نوجوانوں نے کونسا ایسا جرم کر دیا ہے کہ انھیں انگاروں پر پکی بوٹیوں کی طرح کڑاکے دار گرمی نے گھروں سے نکال کر ایسے امتحانی سنٹروں میں بھر دیا گیا جہاں نہ تو بجلی ہے اور نہ ٹھنڈے پانی کی فراوانی… حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ماہرین کیا اپنے ملک کے موسموں اور دوپہرو سہہ پہر کی کیفیات سے بالکل بے خبر ہیں اور عذاب پرعذاب اس ساری جاں گسل طویل امتحانی سرگرمی کے نتیجے میں جو رزلٹ آتا ہے اس کی ایک دوسرے امتحانی پیوند (جسے انٹری ٹیسٹ کہتے ہیں) کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔

راقم میٹرک، انٹر اور ڈگری امتحانات کے مراحل سے گزرا (یہ 1962ء تا 1968ء کی کہانی ہے) مگر کسی بھی امتحان کے لیے آگ برساتی گرمی کے موسم کا انتخاب نہیں کیا جاتا تھا اور انٹری ٹیسٹوں کا مخصوص مفاداتی اور ٹھیکیدارانہ نظام اس ملک نے نہیں دیکھا تھا، مگر بورڈ کے اپنے امتحانات اور موسم بہار میں لیے گئے پرچوں کے نتائج پر پیشہ وارانہ اداروں میں تیار ہونے والے ڈاکٹرز اور انجینئرز پوری دنیا میں سر آنکھوں پر بٹھائے جاتے تھے۔

اب کیا کہیں کہ مغربی سامراج کے تیار کردہ کارندوں کی کارستانیاں جوں جوں بڑھتی گئیں اور مغرب پرستوں کے خاندانوں نے مغرب میں اپنا ٹھکانا بنایا تو ان کے ہاتھوں بننے والی پالیسیوں نے وطن پاک کی اپنی ہر چیز (بشمول تہذیب، لباس، زبان، تعلیمی بورڈوں کے امتحانی نظام وغیرہ) سے دوری، لاتعلقی اور بے زاری کے کلچر کو فروغ دیا۔ انگریز جسمانی طور پر تو چلا گیا مگر اس کی ذہنی و فکری اور روحانی غلامی روز بروز بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ آج ملک میں ہر جانب پھیلے ہوئے غالب تعلیمی نظام از قسم کیمبرج، آکسفورڈ،امریکی مسلمانوں سے وابستہ سکولوں، کالجوں اور ان کے نصابوں، کتابوں کو جو مقام و مرتبہ آج حاصل ہے، انگریز کے اپنے دور میں اس کا تصور بھی نہ تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کو مغرب پرستی خصوصاً انگریزی کے اندھے عشق نے کینسر زدہ بنا کے رکھ دیا ہے۔ ان خطوط پر فکر و عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم اپنے وطن کے قومی احساسات اور جغرافیائی حقائق تک سے بے خبر اور لا تعلق ہوتے ہوئے مدہوشی کی اس کیفیت سے دوچار ہیں کہ آزاد قوم کے شایان شان کچھ بھی تو دکھائی نہیں دے رہا۔ کیا انگریزوں نے اپنے تعلیمی نظام کو کسی دوسری قوم کی آدرشوں کے لئے استعمال کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہے، ہرگز نہیں۔ انھیںتو اپنی روایت پسندی پر ناز ہے اور وہ دنیا کی کسی طاقت کو اجازت دینے کے لئے تیار نہیں کہ کوئی ان کی تہذیب کو بدلنے کے بارے میں سوچ سکے۔

امتحانی سنٹروں کا بغور جائزہ لے کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ شدید گرمی کے ماحول میں طلباء و طالبات کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں کام کر ہی نہیں سکتیں۔ امتحانی عملے سے لے کر پرچے حل کرتے امیدواروں تک سب اس ماحول میں بے بسی اور اپنے پالیسی سازوں کی سوچ پر ماتم کرنے کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر کوئی ان کی مشکلات کو سمجھنے والا نہیں۔ ضروری ہے کہ ’’حقیقی، ماہرین تعلیم کا کوئی بااختیار کمیشن‘‘ بورڈ کے امتحانات کے موسموں کا تعین کرنے کا فریضہ سرانجام دے تاکہ اس امتحانی جبر کی چکی میں پسنے والے نوجوان کسی مناسب موسم میں اپنی حقیقی قابلیت کا مظاہرہ کر سکیں اور انٹری ٹیسٹوں کے نام پر ’’استحصالی طبقات‘‘ کی نشوونما اور پرورش کا جو نام نہاد ’’انجینئرڈ میکنزم‘‘ بنایا گیا ہے اس کو سرے سے ختم کیا جائے کیوں کہ اس کے اندر چھپی ہوئی اصل چالاکی اور مکاری یہ ہے کہ سائنس کے پرچوں کے ساتھ انگریزی کا پرچہ صرف اور صرف اس لیے جوڑا گیا ہے کہ انگلش میڈیم اداروں کے اصلاً نالائق طالب علموں کو مصنوعی طریقوں سے مدد دے کر قومی تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کو میرٹ میں پیچھے دھکیلا جائے۔

راقم پینتالیس سال سے علوم حیاتیات (لائف سائنسز) کے سرگرم معلم و متعلم کے طور پر انٹری ٹیسٹ کی افادیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے ’’محض استحصالی طبقوں کا ایک ڈھکوسلا‘‘ قرار دیتا ہے اگر حریت فکر و نظر کی دنیا کی معمولی شُد بُد بھی ہو تو انٹری ٹیسٹوں کے نام پر ظلم و بے انصانی کے نظام کے پرخچے اڑائے جا سکتے ہیں، مگر دوہری شہریتوں اور بیرون ملک اولادوں، جائیدادوں والوں کی لیڈریوں کے اس مسموم زدہ فضا میں قومی و ملی نقطہ نظر سے ہمارے پالیسی سازوں نے سوچا ہی کب ہے؟ وگرنہ بغیر لیبارٹری میں پریکٹیکل کے محض پرچے کے ساتھ سائنس کے پرچے حل کرنے جیسے مجرمانہ قوانین نہ بنائے جاتے۔ کیا تھیوری کے پچاسی نمبر کے پرچے کے ساتھ پندرہ نمبر کا پرچے لکھنے والے طالب علم کوئی ایک بھی اچھا سرجن یا حیاتیاتی سائنس دان پیدا کر سکتے ہیں، ہرگز، ہرگز نہیں۔ مگر اس وقت گیارھویں جماعت کے طلبہ و طالبات بورڈ کی پالیسی، جس کے نفاذ کے لئے کسی محتسب کے کندھے استعمال کیے گئے، کا شکار ہو کر مستقبل میں سائنسی لیبارٹریوں سے پاک امتحان کا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ لیبارٹریوں کے بغیر پریکٹیکل کا امتحان، کی ہدایات دینے والے لوگ ’’قومی مجرم‘‘ کے طور پر سلاخوں کے پیچھے جاتے، مگر اس نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔