ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے !!

شرکاء کا کوئٹہ میں منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

شرکاء کا کوئٹہ میں منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

بلوچستان شروع سے ہی مسائل سے دوچار رہا ہے جن کے حل پر کسی بھی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی یہی وجہ ہے کہ آج یہ مسائل گھمبیر ہوچکے ہیں۔ اندرون صوبہ بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے خشک سالی، زرعی وسائل کی کمی ، گلہ بانی کے شعبے کے متاثر ہونے و دیگر مسائل کی وجہ سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے روزگار کے حصول کیلئے کوئٹہ کا رخ کرلیا۔

ان کے علاوہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بھی کوئٹہ آگئی جس کی وجہ سے35 ہزار کی آبادی کیلئے بنائے گئے خوبصورت صوبائی دار الحکومت کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا۔ اس نقل مکانی کی وجہ سے کوئٹہ جہاں رہائشی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہوگیا وہیں پینے کا پانی ، گیس اور بجلی جیسے وسائل کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا۔جو وسائل پہلے شہر کے ہزاروں افراد استعمال کرتے تھے اب30 لاکھ افراد استعمال کرتے ہیں جس کے باعث مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ان میں ایک بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ شہر کی آبادی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

رینگ رینگ کر چلنے والی اس ٹریفک نے شہریوں کیلئے بے تحاشہ مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ اس وقت شہر میں اڑھائی لاکھ موٹر سائیکلیں، ہزاروںغیر قانونی رکشے چل رہے ہیں جبکہ مال برداری کیلئے بڑی گاڑیاں اور لوڈرز بھی شہر میں آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ  ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی کابلی(افغانستان سے لائی گئی سمگل شدہ)گاڑیاں چل رہی ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے اور مریضوں کیلئے بھی مشکلات ہیں۔ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں مگر کم نفری کے ساتھ ٹریفک پولیس اپنے فرائض بہتر طور پر انجام دے رہی ہے۔اس سنگین مسئلے پر روزنامہ سینچری ایکسپریس کوئٹہ میں ایکسپریس فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں حکومت و محکمہ ٹریفک پولیس کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

مبین خان خلجی
 (رکن صوبائی اسمبلی کوئٹہ و رہنما پاکستان تحریک انصاف)

کوئٹہ شہر میں ٹریفک جام کی اصل وجہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ شہر کے وسطی علاقوں میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے پلازے تعمیر کئے گئے ہیں لہٰذا تین سے چار منزلہ شاپنگ مالز میں پارکنگ کی جگہ مختص نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں سارا دن سڑکوں پر کھڑی رہتی ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ اسکولوں اور دفاتر کے اوقات کار میں شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے ہیں۔ کوئٹہ شہر میں ایک سڑک بند ہونے سے پورا شہر جام ہوجاتا ہے۔ میرے نزدیک اس اذیت کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں جن کے دور حکومت میں کوئٹہ شہر کے لیے اربوں روپے کے مختلف پیکجز اور سالانہ ترقیاتی فنڈز مختص گئے گئے مگرکرپشن کی نذر ہوگئے۔کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے تاہم پولیس اہلکاروں کو اکثر اوقات ’’وی آئی پیز‘‘ کے پرٹوکول پر مامور رکھا جاتا ہے جس کے باعث مسائل درپیش ہیں۔

وی آئی پی کلچر کا خاتمہ تحریک انصاف کا عزم ہے جس پر کام جاری ہے۔ گزشتہ دنوں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، گورنر سندھ عمران اسماعیل، شیخ رشید، فیصل واوڈا و دیگر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی والدہ کی وفات پر تعزیت کیلئے کوئٹہ آئے تھے۔ ان کے اس دورے کے موقع پر ہم نے انتظامیہ سے وی آئی پی روٹ نہ لگانے کی درخواست کی تھی۔ گورنر سندھ کی خواہش تھی کہ وہ کوئٹہ میں بغیر پروٹوکول کے ایک گاڑی میں اپنا دورہ مکمل کریں مگر پروٹوکول نہ لینے کے ہمارے اصرار کے باوجود انتظامیہ نے دہشت گردی کو جواز بناکر شاہراہیں بند رکھیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر عوامی نمائندوں کو پروٹوکول فراہم کرنا پڑتا ہے لیکن جب ملک میں امن و امان کی صورتحال مکمل ٹھیک ہوجائے گی تب پروٹوکول لینا عوامی نمائندوں کی مجبوری نہیں ہوگی۔

دہشت گردانہ واقعات میں شہادت اور سہولیات نہ ہونے کے باوجود ٹریفک پولیس اہلکار اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے گھمبیر مسائل حل کرنے اور ٹریفک اہلکاروں کی قیمتی جانوں کی حفاظت کیلئے انہیں سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ تعینات عملے کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ میں بھی اضافہ کیا جائے۔ کوئٹہ شہر میں قائم پلازوں کے مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے پلازوں کے قریب پارکنگ کیلئے جگہ مختص کریں۔ کوئٹہ شہر میں امداد چوک، ڈبل روڈ، سریاب روڈ، جوائنٹ روڈ، سرکی روڈ، ایئر پورٹ روڈ ،گولیمار چوک سمیت شہر کے دیگر مقامات پر انڈر پاس اور  اوور ہیڈ برج تعمیر کرنے کیلئے حکومت فنڈز مختص کرے۔ کوئٹہ شہر میں موجود گیراج، بس اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ اقدامات اُٹھائے۔ شہر کی تمام شاہراہوں سے ڈبل پارکنگ کا خاتمہ کیا جائے ۔

کوئٹہ شہر کے مسائل کا خاتمہ کسی ایک ایم پی اے کے بس کی بات نہیں۔ میرے نزدیک مسائل کے فوری حل کیلئے کوئٹہ شہر کو انتظامی بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ انتظامی تقسیم سے کوئٹہ شہر کے وسط میں قائم سرکاری دفاتر شہر سے باہر منتقل ہو جائیں گے جس سے کوئٹہ شہر کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوگی جبکہ تقسیم کے بعد منتخب نمائندوںکی توجہ بھی اپنے اپنے حلقوں پر مرکوز ہوگی ۔ اندرون بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے کوئٹہ میں سکونت اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں سے بے شمار طلباء و طالبات جامعہ بلوچستان میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ افغان مہاجرین ان کے علاوہ ہیں۔ افغان مہاجرین کویہاں مہمان بنا کر لایا گیا اور ان کی نسلیں یہاں جوان ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک میں دس سال گزارنے والا شخص وہاں کا مقامی شہری ہوجاتا ہے۔ بے شمار پاکستانی بھی اسی قانون کے تحت دوسرے ممالک میں آباد ہیں۔ میرے نزدیک افغان مہاجرین کے حوالے سے پالیسی بناتے وقت وفاقی حکومت کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے۔ باقاعدہ قانون سازی کے بعد افغان مہاجرین کی یہاں موجودگی سے مقامی افراد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

محمد جاوید ملک
(ایس پی ٹریفک کوئٹہ)

دیہی اور شہری علاقوں میں اب کوئی فرق نہیں رہا۔ 80ء کی دہائی میں یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی مگر اب 2018ء میں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے جسے بہتر کم کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ لائحہ عمل اور تجاویز ضروری ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے ٹریفک کا ہجوم ہے۔ سڑکوں کی کشادگی ،سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کا جائزہ لیا جائے تو صرف جناح روڈ پر80 بینک ہیں جن کے10 ہزار کھاتہ دارہیں۔ اسی طرح بے شمار شاپنگ مالز ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کا مسئلہ ہے لہٰذا ان عمارتوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے ۔ٹریفک کا مسئلہ تو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذا انہیں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہنا چاہیے اور ٹریفک کے مسئلے کے حل کیلئے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ اس وقت شہر میں اڑھائی لاکھ موٹر سائیکلیں ہیں جن کی پارکنگ و غلط پارکنگ کا مسئلہ ہے جسے حل کرنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے مسائل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ کوئٹہ کی گنجان آبادی والے علاقے زرغون آباد کی بات کریں تووہاں تین سے چار سکول ہیں اور تقریباً14 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں جن کا دباؤ بھی ٹریفک پر پڑتا ہے۔ میرے نزدیک شہر میں قائم کالج، یونیورسٹیاں شہر سے باہر منتقل ہونی چاہئیں۔ سریاب روڈ پر کچھ کٹس ہیں جہاں ایک بس ٹرمینل ہے جس پر بسیں آتی ہیں اور روزانہ ہزاروں مسافروں کا آنا جانا لگا رہتا ہے جبکہ انہیں بس سٹاپ پر چھوڑنے اور لینے والے افراد کی تعداد الگ ہے۔ اسی بس سٹاپ پر ایک شادی ہال بھی ہے لہٰذا یہ تمام عوامل ٹریفک کے مسائل کا باعث ہیں۔ یہاں پر ٹریفک کی دو شفٹیں چلتی ہیں۔

جن میں425 ٹریفک اہلکار کام کرتے ہیں۔ ہمارے پاس 18 ہیوی اور3 چھوٹی گاڑیاں ہیں جن میں سے بڑی گاڑیاں افسران کے زیر استعمال ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جس میں ہمارے 40 افسران شہید ہوئے لیکن اس کے باوجود کام میں لغزش نہ آئی بلکہ ہمارے جذبے اور حوصلے مزید بڑھ گئے۔ ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے لانگ ٹرم منصوبہ بندی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت شہر میں18 روٹس کیلئے88 لوکل بسیں ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کی بسیں اس کے علاوہ ہیں ۔ افسوس ہے کہ کم عمر بچے موٹر سائیکل چلا رہے ہیں جس کے باعث حادثات پیش آتے ہیں۔ ان بچوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کا چالان بھی کیا جاتا ہے اور ایک گاڑی کے سالانہ چالان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس نے شہر کے بعض علاقوں میں ہونے والی موٹر سائیکل ریس پر بھی پابندی لگائی ہیں جس سے حادثات میں کمی آئی ہے۔ ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کیلئے کوئٹہ میں ٹریفک سگنلز پر کام ہورہا ہے۔ سنئے سگنلز کا پی سی ون تیار ہے جس کے مطابق  شہر کے 7سے 10 مقامات پر ٹریفک سگنلز لگائے جائیں گے۔ کوئٹہ اور سریاب میں فرق ہے جہاں اسکریپ کا کاروبار ہوتا ہے اور بڑے بڑے لوڈر آتے ہیں جبکہ ستی ایریا میں یہ صورتحال نہیں ہے۔ یہاں صبح 7 بجے سے 9 بجے تک کوئی گاڑی نظر نہیں آتی۔ جہاں تک بھتہ لینے کی بات ہے تو یہ تاثر درست نہیں۔ آج کے اس جدید دور میں ہر شخص کے پاس موبائل فون موجود ہے جس سے وڈیو بنائی جاسکتی ہے۔

اگر کہیں ایسا ہے تو ثبوت پیش کیا جائے، ہم ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے۔ کوئٹہ کے سکولوں میں چھٹی کا تقریباََ ایک ہی وقت ہے جس میں رش ہوتا ہے اور شہر کے کئی مقامات پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے ۔ اس حوالے سے ہمارے پاس پی سی ون تیار ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع کردیں گے۔

چودھری شبیر
(سیکرٹری اطلاعات بلوچستان عوامی پارٹی)

کوئٹہ شہر کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں صفائی اور ٹریفک کا مسئلہ بہت اہم ہے جس کے حل کیلئے منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ میرے نزدیک اصلاحات کئے بغیر معاملات میں بہتری نہیں آسکتی۔ ٹریفک کے مسئلے کے حل کیلئے میٹرو پولیٹن میں ٹریفک انجینئرنگ بیورو کا قیام ناگزیر ہے۔ جب میں رکن اسمبلی تھامیں نے اس وقت بھی یہ بات کی تھی کہ ٹریفک کو کنٹرول کرنا اب ایک اہلکار کے بس کی بات نہیں رہی بلکہ ٹریفک پر قابو پانے کیلئے انجینئرنگ بیورو ایک پلان ترتیب دے، آج بھی اس کی شدید ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہم دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہیں۔ بلوچستان حکومت اور وزیراعلیٰ کا یہ ویژن ہے کہ صفائی ، ٹریفک و شہر کے دیگر مسائل سے بروقت نمٹا جائے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو کنٹرول کرنے کیلئے جلد انجینئرنگ بیورو کا قیام عمل میں لائیں گے اور اس حوالے سے تجاویز دے دی گئی ہیں۔ ہمیں انتظامی طور پر کوئٹہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس شہر کی آبادی اور مسائل بہت زیادہ ہیں ۔ جب کوئٹہ انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگا تو اس کے اطراف میں موجود آبادی کو بھی سہولیات میسر ہوں گی جس سے شہر کے وسط میں دباؤ کم ہوگا ۔

کوئٹہ ہمارے لئے قدرت کا تحفہ ہے۔ 1935ء کے زلزلے کی تباہی کے بعد اس شہر کو بہتر منصوبہ بندی سے دوبارہ آباد کیا گیا۔ اُس وقت دو رویہ سڑکیں تعمیر کی گئیںمگر ہم نے آزادی کے بعد پلاننگ نہیں کی جس کی وجہ سے آج کوئٹہ مسائل سے دوچار ہے۔یہ بات درست ہے کہ ٹریفک پولیس کا عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن جب تک ہم روڈ پلان میپ نہیں دیں گے تب تک ٹریفک کی روانی میں بہتری نہیں آئے گی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کا تھنک ٹینک بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچ رہا ہے کہ بلوچستان میں دو تین نئے شہر آباد کئے جائیں جس سے کوئٹہ کی آبادی میں کمی اور شہر پر ٹریفک کا دباؤکم ہوگا۔ آج افغانستان سے مریض علاج کیلئے کوئٹہ آتے ہیں جبکہ شہر کے سول ہسپتال میں دیگر اضلاع کے عوام کا بھی رش ہوتا ہے۔ ہمارا ایک مسئلہ آبادی کا ہے جس پر کنٹرول کرنے کیلئے اسلامی طور پرلوگوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ مسائل سے شہر کو نکالیںتاہم ابھی ہماری حکومت کو3 چار مہینے ہوئے ہیں۔ہمیں معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے مگر ہماری نیت ٹھیک ہے لہٰذا عوامی مسائل حل کریں گے۔ اگلی پی ایس ڈی پی میں ہم ایسے منصوبے لائیں گے جو شہر کے مسائل حل کریں گے۔

اگر انجینئر بیورو اور اس طرح کے دیگر ادارے بنائے جائیں تو مسائل حل ہوجائیں گے۔ٹریفک و دیگر مسائل پر قابو پانے کیلئے قانون پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے جسے یقینی بنا رہے ہیں۔ عوام قوانین کا احترام نہیں کرتے لہٰذا ان کی اخلاقی تربیت بھی کرنی چاہیے۔  جہاں تک VIP کلچر کی بات ہے تو ہماری جماعت اور تحریک انصاف دونوں ہی وی آئی پی کلچر کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ میں خود بھی  وی آئی پی کلچر کے خلاف ہوں۔ ہم نے عوام کو اس کلچر کے خاتمے کیلئے آگاہی دی لہٰذا اس کے مکمل خاتمے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ بیورو کریٹس، سیاستدان اور ہم سب کو ملکر تبدیلی لانی ہوگی۔ جہاں تک باہر سے آنے والے مہمانوں کی وی آئی پی موومنٹ پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو لگانے کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کیلئے ہمیں شہر میں ڈیوٹی پر مامور  ٹریفک اہلکاروں کے بجائے بی سی کے اہلکار استعمال میں لانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ شہر میں70 سال سے قائم جیل روڈ پر جیل، بلوچستان اسمبلی اور سیکریٹریٹ کو بھی شہر سے باہرمنتقل کرنا چاہیے۔

سابقہ ادوار میں ہر ایم پی اے کوبطور ترقیاتی فنڈ 30 کروڑ روپے ملتے رہے۔ اس شہر میں دس سال میں 6 ایم پی ایز تھے جنہیں سالانہ10 ارب روپے ملے جن سے شہر کی حالت بدل جانی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ گزشتہ دور حکومت میں اربوں روپے کی لاگت سے برساتی نالا بنایا گیا لیکن موثر پلاننگ نہ ہونے کے باعث وہ بھی آج عوام کیلئے زحمت کا باعث ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان ابھی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ جو نظام چار، پانچ دہائیوں سے خراب ہو اسے ٹھیک کرنا آسان نہیں ہے بلکہ اس میں وقت لگے گا۔ ہم عوام سے چاند، تارے توڑنے کا وعدہ نہیں کرتے لیکن تمام مسائل میںنمایاں کمی لائیں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ شہر کے تمام مسائل پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہماری جماعت کا  تھنک ٹینک اور صوبائی کابینہ ایسے فیصلے لارہی ہے جس سے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔اس شہر کے جتنے مسائل ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے کہیں زیادہ اس صوبے کو وسائل سے نوازا ہے جن سے فائدہ اٹھانے کیلئے پالیسی بنائی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اس وقت بہتر ٹیم بنارہے ہیںجس کے بعد سے پی ایس ڈی پی کے مسائل حل ہوجائیں گے۔اس وقت وفاقی حکومت بھی معاشی بحران کا سامنا کررہی ہے لہٰذا جب ہمیں وفاق سے فنڈز اور گرانٹس ملیں گی تو حالات میں بہتری آجائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاجرین کے آنے سے اور ان کی موجودگی سے جرائم میں اضافہ ہوا،سکیورٹی اور معیشت کے مسائل پیدا ہوئے۔ مہاجرین اقوام متحدہ کے تحت کیمپوں میں آئے جو عارضی تھے۔ اب افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا مسئلہ وفاقی سطح کا ہے لیکن جماعت سے ہٹ کر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس جانا چاہیے کیونکہ یہا ں معاشی مسائل بہت زیادہ ہیں۔میرے نزدیک ہمیں اپنے ووٹ بینک اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر صوبے کے وسیع تر مفاد میں سوچنا چاہیے اور اس بارے میں مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

اس وقت افغانستان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور وہاں کی کرنسی پاکستان سے زیادہ مستحکم ہے جبکہ امن بھی آچکا ہے لہٰذا اب مہاجرین کو واپس جانا چاہیے کیونکہ وہاں ان کیلئے بہتری کے مواقع زیادہ ہیں۔ جہاں تک پارٹی پالیسی کی بات ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک اور سرزمین میں جانا چاہیے۔افغان مہاجرین کو صرف ایک لسانی پارٹی کی حمایت حاصل ہے ہم کبھی صوبے کے مفاد میں ذاتی مفاد کو ترجیح نہیں دیں گے۔ اگر وفاقی سطح پر افغان مہاجرین کو شہریت دی جاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ افغان مہاجرین کا بوجھ بلوچستان تنہا کیسے اُٹھائے گا؟ ہماری قیادت کا یہ فیصلہ ہے کہ ہم نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے کریں۔ ہمیں 18 ویں ترمیم کے تحت جو اختیارات ملے ہیں، اس کے تحت چلیں گے ۔ اس میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی سے ڈکٹیشن لیں گے۔ ہمیں فنڈز کے جو مسائل ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم ڈکٹیشن نہیں لے رہے اور اپنی بساط کے مطابق چادر میں پیر پھیلارہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔