چین نے20 گھنٹے پروازکرنے والا ڈرون بنالیا

آئی این پی  پير 3 دسمبر 2018
 بڑا انجن نصب کیا گیا ہے، ڈورن 370کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے

 بڑا انجن نصب کیا گیا ہے، ڈورن 370کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے

بیجنگ: نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے پروفیسر لی ووئی نے کہا ہے کہ چینی ڈورن جی جے ۔2سرحدی نگرانی اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مضبوط بنانے کیلیے پاکستان اور دیگر ممالک کیلیے ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے ۔

چین کا یہ نیا مسلح جاسوسی ڈورن خودکار دفاعی فوائد کا حامل ہے ۔جس کا مظاہرہ رواں ماہ کے اوائل میں ایئرشو چائنہ 2018میں کیا گیا۔جی جے ۔2 چینی سرحد کی نگرانی کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں یقینی طور پر اضافے کا باعث ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کو مشترکہ مقاصد کے حصول میں بھی مدد دے سکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے یہ ڈورن چھنگ تاؤ کے ایئرکرافٹ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ نے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنہ کے تعاون سے ڈیزائن کیا ہے ۔جی جے ۔2 کے درمیانی اور زیادہ بلندی جا کر بغیر انسان کے دیکھ بھال کرنے والا فضائی ڈورن ہے ۔چین کے معروف اخبار ’’یوتھ ڈیلی‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پرفیسر ووئی نے کہا ہے کہ اس میں ایک بڑا انجن نصب کیا گیا ہے اور یہ ڈورن 370کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے9ہزار کلو میٹر کی بلند ی پر 20گھنٹے تک لگاتار پرواز کر سکتا ہے ۔

جی جے ۔2 پروں کے نیچے 6 ہتھیار جبکہ 12چھوٹے میزائل رکھ سکتا ہے اور یہ پہلے سے موجود جی جے ۔1 کے مقابلے میں حملہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے ۔اس میں بہتر جاسوسی نظام نصب کیا گیا ہے ۔جس میں ریڈار اور الیکٹرو آپٹیکل خول بھی نصب ہے جو اپنے ہدف کے بارے میں زیادہ تفصیلی معاملات فراہم کر سکتا ہے ۔بیجنگ میں مقیم ایک عسکری ماہر ووئی ڈانگ زو نے صحافیوں کو بتایا جی جے۔2 دیگر ڈورنزکا توسیع شدہ ایڈیشن ہے جو فیلڈکمانڈروںکو بروقت معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ یہ امریکی ڈورنز کے مقابلے میں بہت سستا ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔