صرف 10 روز میں 6 موبائل فون جیل میں قیدیوں تک کیسے پہنچے؟ حکام پریشان

اسٹاف رپورٹر  پير 1 جولائ 2013
ملوث اہلکاروں کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ ،طویل آپریشن کے بعد اتوار کو سینٹرل جیل میں صورتحال غیر معمولی رہی۔ فوٹو: فائل

ملوث اہلکاروں کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ ،طویل آپریشن کے بعد اتوار کو سینٹرل جیل میں صورتحال غیر معمولی رہی۔ فوٹو: فائل

کراچی: سینٹرل جیل میں ہفتہ کو رینجرز کے طویل آپریشن کے بعد اتوار کو صورتحال غیر معمولی رہی۔

اعلیٰ حکام اس بات کی بھی کھوج لگانے میں مصروف رہے کہ صرف10روز کے اندر6موبائل فون جیل میں قیدیوں تک کیسے پہنچ گئے،اس سلسلے میں بعض اہلکاروں سے باز پرس بھی کی گئی، جیل پولیس کے افسران بھی رینجرز کی کارروائی کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہے، تفصیلات کے مطابق سینٹرل جیل میں ہفتہ کو رینجرز حکام نے جیل پولیس کو لاعلم رکھتے ہوئے سرچ آپریشن کیا جو9گھنٹے پر محیط رہا ، اس دوران مختلف بیرکس کی تلاشی کے دوران6موبائل فون اور دیگر ممنوعہ اشیا برآمد ہوئیں، ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اعلیٰ حکام نے اس بات کی تفتیش شروع کردی کہ جیل کے اندر موبائل فون کس طرح پہنچے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ہی جیل میں بڑے پیمانے پر جیل پولیس نے آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں500موبائل فون، بیٹریاں، چارجر، منشیات اور دیگر اشیا برآمد کی تھیں، حکام کا کہنا ہے کہ10روز کے دوران جیل کے اندر6 موبائل فون اور دیگر ممنوعہ اشیا کس طرح پہنچ گئیں، ذرائع نے بتایا کہ حکام نے اس سلسلے میں بعض اہلکاروں سے باز پرس بھی کی ہے، اگر کوئی اہلکار ملوث پایا گیا تو اس کیخلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، دوسری جانب اتوار کو جیل پولیس کے افسران ہفتہ کو رینجرز کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل پولیس کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممنوعہ اشیا قیدیوں تک نہیں پہنچ سکتی، اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ بعض جیل پولیس اہلکار ہی ملوث ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔